’استعمال شدہ‘ کھلونے بچوں کے لیے نقصان دہ

تصویر کے کاپی رائٹ Andrew Turner
Image caption اس ریسرچ میں استعمال ہو چکے دو سو کھلووں کو شامل کیا گیا

ایک تازہ تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ استعمال شدہ کھلونوں میں سے متعدد ایسے ہیں جن کے دوبارہ استعمال سے بچوں کی صحت کو خطرہ ہو سکتا ہے کیوں کہ یہ کھلونے صحت کی حفاظت سے متعلق رہنما اصولوں پر پورا نہیں اترتے۔

اس تحقیق میں سائنس دانوں نے دو سو کھلونوں کا تجربہ کیا۔ یہ کھلونے انھوں نے برطانیہ کی چند دکانوں اور نرسریوں سے جمع کیے تھے۔ ان میں انھوں نے نو نقصان دہ عناصر کی موجودگی کا ٹیسٹ کیا۔ 20 کھلونے ایسے تھے جن میں سبھی نو عناصر موجود پائے گئے۔ تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ ان کھلونوں سے خطرہ کتنا زیادہ یا کم ہے۔

تحقیق کار ڈاکٹر اینڈڑو ٹرنر نے بتایا کہ 70 اور 80 کی دہائی کے لیگو برکس اس معاملے میں بہت نقصان دہ نکلے۔ انھوں نے کہا کہ ’اس دور میں حفاظتی ہدایات کی بنیاد پر کھلونوں کو ٹیسٹ نہیں کیا جاتا تھا۔ اور اب ہم انھیں استعمال کر رہے ہیں۔‘

کتنے خطرناک؟

ڈاکٹر ٹرنر اور ان کی ٹیم نے ان کھلونوں کا تجزیہ ایکس رے فلورینس ٹیکنالوجی کی مدد سے کیا۔ تحقیق میں ایسے کھلونوں کو شامل کیا گیا جنھیں بچے آسانی سے منہ میں چباتے ہیں۔

انھوں نے پایا کہ ان میں اینٹیمنی، بیریئم، برومین، کیڈمیئم، کرومیئم، سیسہ اور سیلینیئم جیسے خطرناک عناصر موجود تھے۔

پرانے دور میں جب کھلونے بنائے جاتے تھے تو ان میں ان عناصر کی موجودگی کے بارے میں سوچا نہیں جاتا تھا اور ان کھلونوں کے بازار میں آنے سے پہلے حفاظتی رہنما اصولوں سے متعلق ٹیسٹ نہیں کیے جاتے تھے۔

انہی کھلونوں کو جب بچے اپنے منہ میں رکھتے ہیں تو یہ کیمیکل ان کے منہ میں جاتے ہیں جن سے انہیں زبردست نقصان پہنچ سکتا ہے.

یہ بھی پڑھیے

صحت مند اور طفیلی جڑواں کے جسم الگ، آپریشن کامیاب

کیا فحش فلمیں صحت کے لیے مضر ہیں

کیا خیالی پلاؤ پکانا صحت کے لیے مفید ہے؟

لیگہ کے لال رنگ کے برک تصویر کے کاپی رائٹ Andrew Turner
Image caption ڈاکٹر ٹرنر کے مطابق سرخ، پیلی اور سیاہ پلاسٹک کے خلونوں سے زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر ٹڑنر کی تحقیق کے مطابق سرخ، پیلی اور سیاہ پلاسٹک سے بنے کھلونوں سے زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ والدین کو ایسا لگتا ہے کہ استعمال شدہ کھلونے استعمال کرنے میں ہرج ہی کیا ہے۔ انھیں لگتا ہے کہ کم از کم قریبی دوستوں اور خاندان والوں سے بچوں کے لیے پرانے کھلونے لیے جا سکتے ہیں. سیکنڈ ہینڈ کھلونوں کی دکانوں سے یہ کھلونے سستے بھی مل جاتے ہیں۔ لیکن یہ آپ کے بچے کی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ناریل کا تیل اتنا ہی غیر صحت مند جتنی چربی

فرانس میں انتہائی دبلی فیشن ماڈلز پر پابندی

’صحت مند موٹے‘ بھی خطرے کی زد میں

اس طرح کے کھلونوں کی بازار میں دوبارہ فروخت پر یورپ میں پابندی عائد ہے۔

ڈاکٹر ٹرنر کہتے ہیں کہ پلاسٹک کے گہرے رنگ والے اور وہ کھلونے جنھیں بچے آسانی سے منہ میں ڈال سکتے ہیں، ان کے بارے میں والدین کو مزید معلومات دی جانی چاہییں۔

اسی بارے میں