’پروسٹیٹ کینسر چھاتی کے کینسر سے زیادہ مہلک‘

مرض تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 2015 کے اعداد و شمار کے مطابق پروسٹیٹ کینسر سے مرنے والوں کی تعداد 11819 تھی

برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی تحقیق کے اعداد و شمار کے مطابق پہلی مرتبہ پروسٹیٹ کینسر کی وجہ سے مرنے والے مردوں کی تعداد چھاتی کے کینسر سے مرنے والی خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہو گئی ہے۔

عوام کی بڑی تعداد میں بڑھتی ہوئی عمر کے باعث زیادہ مردوں کو یہ بیماری متاثر کر رہی ہے۔

برطانوی ادارے پروسٹیٹ کینسر یو کے کے مطابق بریسٹ کینسر کی تشخیص اور علاج میں بہتری آنے کی وجہ سے بہت فائدہ ہوا ہے اور پروسٹیٹ کینسر پر تحقیق کرنے کے لیے زیادہ رقم مختص کرنے سے ممکنہ طور پر کافی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

پروسٹیٹ کینسر کا نیا علاج واقعی ’انقلابی‘ ہے

خاموش بیماری جو لاکھوں جانیں لے جاتی ہے

اس وقت برطانیہ میں سب سے مہلک کینسر پھیپھڑوں اور آنتوں کا ہے اور تیسرا نمبر پروسٹیٹ کینسر کا ہے۔

2015 کے اعداد و شمار کے مطابق پروسٹیٹ کینسر سے مرنے والوں کی تعداد 11819 تھی جبکہ بریسٹ کینسر سے مرنے والوں کی تعداد 11442 تھی۔

گذشتہ دس سالوں میں پروسٹیٹ کینسر سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ تو دیکھنے میں آیا ہے لیکن متاثرہ مردوں کے تناسب میں تقریباً چھ فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

بریسٹ کینسر سے مرنے والوں کی تعداد میں دس فیصد کمی آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Prostate cancer uk
Image caption گیری پیٹیٹ جنھوں نے پروسٹیٹ کینسر سے چھٹکارا پا لیا

43 سالہ گیری پیٹیٹ نے پانچ سال قبل معمول کا میڈیکل ٹیسٹ کرایا جس میں ان کا پروسٹیٹ کینسر تشخیص ہوا۔ ان کی جسم میں سوائے ایک چیز کے ایسے کوئی واضح علامات نہیں تھے جس سے ظاہر ہو کہ انھیں کینسر ہے۔ لیکن خون کے ٹیسٹ کرانے کے بعد انھوں نے مزید چند ٹیسٹ کرائے جن کے بعد ان کے کینسر کی نشاندہی ہوئی۔

چند ہفتوں بعد ہی گیری کا سات گھنٹے پر محیط آپریشن ہوا جس میں ان کے کینسر کو جسم سے نکال دیا گیا۔

گیری کا کہنا تھا کہ وہ بہت خوش قسمت میں اور وہ چاہتے ہیں کہ مردوں میں اس مہلک بیماری کی آگاہی کو پھیلائیں۔

'مردوں میں ابھی بھی اس بیماری کے بارے میں بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے اور وہ اس کا ذکر کرنے سے شرمندہ ہوتے ہیں لیکن یہ ان کی اپنی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کا ٹیسٹ کرائیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں