’ڈیپ فیکس‘: جعلی پورن ویڈیوز کے سنگین نتائج

Image caption اداکارہ نیٹلی پورٹمین کی بھی جعلی پورن فلم بنائی گئی

حالیہ ہفتوں میں ایک نئی چیز سامنے آئی ہے جسے ’ڈیپ فیکس‘ کا نام دیا جارہا ہے، اس میں پورن ویڈیوز میں ردوبدل کر کے اصل اداکاراؤں کے چہرے پر کسی اور کا چہرہ لگا دیا جاتا ہے۔

اس کام کے لیے استعمال کیے جانے والے ٹولز اب زیادہ طاقتور اور استعمال میں سہل ہیں، جس کی باعث لوگوں کے جنسی تخیلات کو انٹرنیٹ پر منتقل کرنا ممکن ہوگیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے نزدیک اس نے نہ صرف شائستگی کی حدیں پار کر دی ہیں بلکہ ہم کیا دیکھتے اور سنتے ہیں، اس پر یقین کرنے کی حس بھی اثرانداز ہوئی ہے۔

لیکن اس ٹیکنالوجی سے سنجیدہ نوعیت کے نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ جعلی خبروں کے بحران کا یہ محض آغاز ہو سکتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کا چہرہ استعمال کرتے ہوئے کئی ویڈیوز منظرعام پر آ چکی ہیں اور یہ واضح ہے کہ انھیں پراپیگنڈے کے مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

Trump
Image caption ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے استعمال سے ڈونلڈ ٹرمپ کو مشہور فلمی ولین ڈاکٹر ایول کے کردار کی شکل دی گئی

جیسا کہ عموماً ہوتا ہے، ادارے اور کمپنیاں اس بارے میں لاعلم اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ جن ویب سائٹس پر اس قسم کا مواد تیار ہوتا ہے انھوں نے اس پر نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔ لیکن بہت سے اس بارے میں انجان تھے کہ اب کیا کیا جائے یا اگلا قدم کیا ہونا چاہیے۔

اس تکنیک کے تجرباتی طور پر استعمال میں یہ افراتفری بھی تھی کہ غیر متوقع طور پر مشہور چہرے ’سیکس ٹیپ‘ میں ظاہر ہوئے۔

اس کے سنگین نتائج کو ہم نے کم ہی دیکھا اور اب وہ اس کے اصل اثرات پر بحث کر رہے ہیں کہ وہ دراصل کیا کر رہے ہیں۔ کیا کسی اور کا چہرہ استعمال کرتے ہوئے فحش فلم بنانا غیراخلاقی ہے؟ کیا اس سے کوئی فرق پڑتا ہے کہ یہ اصل نہیں ہے؟ کیا کسی کو نقصان پہنچ رہا ہے؟

شاید انھیں یہ سوال کرنا چاہیے: جس کے ساتھ ایسا کیا جائے اسے کیسا محسوس ہوتا ہے؟

Nathalie Dormer
Image caption ٹی وی شو ’گیمز آف تھرونز‘ کی اداکارہ نیٹلی ڈرومر کے چہرے کو بھی پورن فلموں میں استعمال کیا گیا

ڈیپ فیکس کیسے بنائے جاتے ہیں؟

اس قسم کی ویڈیوز بنانے کے لیے عام طور پر ایک مخصوص سافٹ ویئر کا استعمال کیا جاتا ہے، اسے بنانے والے ڈیزائنر کے مطابق ایک ماہ سے بھی کم وقت میں اسے ایک لاکھ سے زائد بار ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔

جنسی تصاویر میں ردوبدل ایک صدی سے زائد وقت سے کیا جا رہا ہے، لیکن یہ ایک مشقت طلب کام ہے اور ویڈیوز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ زیادہ مشکل عمل ہے۔ حقیقت پسندانہ ایڈٹنگ کے لیے ہالی وڈ جیسی تکنیک اور بجٹ درکار ہوتا ہے۔

لیکن اب یہ کام بےحد آسان ہو گیا ہے۔ منتخب شخص کی تصاویر اکٹھی کریں، ایک پورنوگرافک ویڈیو کا انتخاب کریں اور پھر انتظار کریں۔ آپ کا کمپیوٹر باقی کام کر دے گا، تاہم اگرچہ ایک چھوٹی سی ویڈیو کی تیاری میں 40 گھنٹے سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

سب سے مشہور ڈیپ فیکس مشہور شخصیات کے ہیں لیکن آپ کسی کی بھی واضح تصاویر حاصل کر کے یہ کام کر سکتے ہیں اور جب لوگ اپنی بہت ساری سیلفیاں اور تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں تو یہ کام کچھ زیادہ مشکل نہیں رہتا۔

اس تکنیک کو دنیا بھر میں توجہ حاصل ہوئی ہے۔ حالیہ دنوں میں جنوبی کوریا کے انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے ’ڈیپ فیکس‘ کی تلاش میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جس کی شاید ایک وجہ 23 سالہ کورین پاپ سٹار سیولہین کی بہت ساری ڈیپ فیکس ویڈیوز تھیں۔

’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ غیر قانونی ہو۔‘ ایک صارف نے تبصرہ کیا۔ ’بہت اعلیٰ کام۔‘

Gal Gadot
Image caption ونڈر وومن کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ گیل گڈوٹ کی بھی جعلی فلمیں بنائی گئیں

مشہور شخصیات نشانے پر

کچھ ایسی مشہور شخصیات ہیں جنھیں بظاہر ڈیپ فیکس میں سب سے زیادہ توجہ حاصل ہوئی ہے۔ ایک اصل پورن ویڈیو میں ان کے استعمال سے سکینڈل بن سکتا ہے۔

ڈیپ فیک کمیونٹیز میں سب سے زیادہ مشہور اداکارہ ایما واٹسن اور نیٹلی پورٹمین کی جعلی ویڈیوز ہیں۔

لیکن مشل اوباما، ایوانکا ٹرمپ اور کیٹ مڈلٹن کی ویڈیوز بھی بنائی گئی ہیں۔ کینسنگٹن پیلس نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

اداکارہ گیل گڈوٹ، جنھوں نے ونڈر وومن کا کردار ادا کیا تھا، ان پر اس ٹیکنالوجی کا سب سے پہلے استعمال کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں پڑھیں!

’برطانیہ میں لڑکے سیکس فحش مواد سے سیکھ رہے ہیں‘

جاپانی پورن سٹار جس نے چین کو ‘سیکس سکھایا‘

'ہر پانچواں شخص انتقامی پورن کا نشانہ بنتا ہے‘

ٹیکنالوجی نیوز ویب سائٹ مدربورڈ کے ایک مضمون میں قیاس کیا گیا تھا کہ اس قسم کی ٹیکنالوجی کو آنے میں ایک سال یا اس سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ لیکن ایسا صرف ایک ماہ میں ہی ہو گیا۔

اس قسم کے استعمال کے بعد جن ویب سائٹس پر اس قسم کا مواد شیئر کیا جاتا ہے وہ عارضی طور پر اس کے خلاف قدم اٹھا رہی ہیں۔

تصویری مواد کی ویب سائٹ جفی کیٹ نے ڈیپ فیکس کی شناخت کے بعد ایسی پوسٹس ہٹا دی ہیں، جو مستقبل قریب میں ایک مشکل کام ہو سکتا ہے۔

ریڈ اٹ ویب سائٹ نے ابھی کوئی قدم نہیں اٹھایا لیکن بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ وہ اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

گوگل نے بھی حالیہ دنوں میں مخصوص قسم کے مواد کی تلاش کے عمل مشکل بنایا ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ گوگل فی الحال اس قسم کا کوئی قدم اٹھانے پر غور کر رہا ہے۔ ہماری طرح یہ کمپنیاں بھی فی الحال اس بارے میں مطلع ہو رہی ہیں کہ یہ اس قسم کا مواد موجود ہوتا ہے۔

حالیہ برسوں میں ویب سائٹس کو ’انتقامی پورن‘ سے نبرد آزما ہونے کا مسئلہ درپیش تھا اور اب ڈیپ فیکس سے اس پیچیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے جو دوسروں کو ہراساں اور شرمندہ کرنے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ ویڈیو بے شک اصل نہ ہو لیکن اس کے نفسیاتی اثرات ضرور ہو سکتے ہیں۔

Image caption ایما واٹسن کی ایک جعلی پورن فلم کا منظر

سیاسی بدسلوکی

یہ کہنا ٹیکنالوجی صحافت کا کلیشے ہے کہ تاریخی طور پر جدت کی پیچھے سب سے بڑی تحریک پورن کاروبار رہا ہے، چاہے وہ بہتر معیار کی ویڈیوز ہوں یا گھریلو ویڈیو کیسٹیں۔

جریدے دی آوٹ لائن میں صحافی جون کرسچیئن اس کی بدترین صورتحال پیش کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی 'بدنیتی سے حکومتوں اور لوگوں کے بارے میں افواہوں کی راہ دکھا سکتی ہے یا بین الاقوامی تنازع کے باعث بن سکتی ہے۔'

جعلی خبریں خواہ وہ طنزیہ ہوں یا بدنیتی پر مشتمل عالمی بحث اور آرا کی تبدیلی میں کردار ادا کر رہی ہیں، خاص طور پر انتخابات کے دنوں میں۔

لیکن فی الحال ابھی زیادہ تر پورن ہے۔ اس سافٹ ویئر کے ساتھ تجربات زیادہ دور نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ FakeApp
Image caption اس قسم کی ویڈیوز بنانے کے لیے ایک سافٹ ویئر فیک ایپ کا استعمال کیا جاتا ہے

ریڈ اٹ پر ایک صارف کا کہنا تھا کہ ’ہم جو کچھ یہاں کرتے ہیں وہ صحت مندانہ یا قابل عزت نہیں، یہ ان خواتین کے لیے جن پر ڈیپ فیکس کا استعمال کیا جاتا ہے تحقیر آمیز، فحش اور جھپٹ لینے جیسا ہے۔‘

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ 'اگر کوئی بھی چیز اصل ہو سکتی ہے تو کچھ بھی اصل نہیں۔'

اس قسم کی توجیحات اکثر ان افراد کی حمایت میں دی جاتی ہیں جو یہ تیار کرتے ہیں نہ کہ جن کو ویڈیوز میں دکھایا گیا ہوتا ہے۔

لیکن ڈیپ فیک کمیونٹی کی یہ بات درست ہے کہ یہ ٹیکنالوجی آ چکی ہے اور کہیں نہیں جانے والی۔

اسی بارے میں