شمسی لہریں کیوں اٹھتی ہیں، سائنسدانوں کی نئی تحقیق

محققین کو یہ معلومات 24 اکتوبر 2014 کو اٹھنے والی ایک شمسی لہر پر غور کر کے ملی ہیں جو کہ چند گھنٹوں میں ہی وجود آئی۔ تصویر کے کاپی رائٹ NASA
Image caption محققین کو یہ معلومات 24 اکتوبر 2014 کو اٹھنے والی ایک شمسی لہر پر غور کر کے ملی ہیں جو کہ چند گھنٹوں میں ہی وجود آئی۔

سائنسدانوں کو اب شاید یہ سمجھ آ جائے گا کہ سولر فلیئرز یعنی شمسی توانائی کی لہریں کیسے اٹھتی ہیں۔

سورج کی سطح سے سولر فلیئرز عموماً خود ہی اٹھتے ہیں یا پھر ان کے ہمراہ پلازما (برقی طور پر چارجڈ گیس) کی بھی طاقتور لہریں ہوتی ہیں۔

اگر یہ پلازما کے ذرات زمین تک پہنچ جائیں تو وہ سیٹلائیٹ نظاموں اور تونائی کی رسد کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اب فرانس میں محققین کا کہنا ہے کہ مختلف مقناطیسی سٹرکچرز کے آپس میں باہمی عمل کی وجہ سے یہ شمسی لہریں اٹھتی ہیں۔

عام اصطلاح میں کہا جاتا ہے کہ یہ شمسی لہریں سورج کے مقناطیسی فیلڈ میں شدید ردوبدل کے نتیجے میں اٹھتی ہیں۔

لیکن اگر اس عمل کو گہرائی سے دیکھا جائے تو سورج کے مقناطیسی فیلڈ میں دو قسم کے سٹرکچرز ہوتے ہیں جن میں سے ایک رسی نما اور ایک پنجرہ نما ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ TAHAR AMARI ET AL / CNRS-ECOLE POLYTECHNIQUE
Image caption عام اصطلاح میں کہا جاتا ہے کہ یہ شمسی لہریں سورج کے مقناطیسی فیلڈ میں شدید ردوبدل کے نتیجے میں اٹھتی ہیں۔

رسی نما مقناطیسی سٹرکچرز پنجرہ نما سٹرکچرز کے اندر جکڑے گئے ہوتے ہیں اور اگر یہ پنجرہ مضبوط ہو تو مستحکم رہتا ہے اور اگر کمزور ہو تو رسی کی ردوبدل کو سہہ نہیں سکتا اور شمسی لہر اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔

محققین کو یہ معلومات 24 اکتوبر 2014 کو اٹھنے والی ایک شمسی لہر پر غور کر کے ملی ہیں جو کہ چند گھنٹوں میں ہی وجود آئی۔

شمسی لہریں سورج کی باہری ترین سطح کورونا میں وجود میں آتے ہیں۔ کورونا سورج کی سطح سے حیران کن طور پر زیادہ درجہ حرارت پر ہوتی ہے اور اس کی وجہ ہمیں ابھی معلوم نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدانوں کو کورونا میں مقناطیسی فیلڈ کے بارے میں جانچنے میں مشکلات ہوتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ TAHAR AMARI ET AL / CNRS-ECOLE POLYTECHNIQUE
Image caption رسی نما مقناطیسی سٹکچرز پنجرہ نما سٹکچرز کے اندر جکڑے گئے ہوتے ہیں اور اگر یہ پنجرہ مضبوط ہو تو مستحکم رہتا ہے اور اگر کمزور ہو تو رسی کی ردوبدل کو سہہ نہیں سکتا اور شمسی لہر اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔

اسی لیے سائنسدان فوٹو سفیئر نامی سورج کی سطح سے ملنے والی معلومات کی مدد سے یہ جانچنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ 1690 کلومیٹر اونچائی پر کورونا میں کیا ہو رہا ہے۔

ناسا کی سولر ڈائنیمکس آبزویٹوری خلائی جہاز سے ملنے والے ڈیٹا کو سائنسدانوں نے سپر کمپیوٹرز کی مدد سے سمیولیشنز میں شامل کیا۔

اسی طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے سائنسدان اب اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ کتنی شمسی تونائی ایک وقت میں خارج ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں