برطانیہ: موبائل کوریج بڑھانے کے لیے گرجا گھروں کے مینار استعمال کرنے کا معاہدہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

برطانوی حکومت اور چرچ آف انگلینڈ کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت دیہی علاقوں میں موبائل اور براڈ بینڈ کوریج کو بڑھانے کے لیے گرجا گھروں کے میناروں کا استعمال کیا جائے گا۔

حکومت 2022 تک برطانیہ بھر میں بہترین موبائل کوریج فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

جہاں اس معاہدے کے تحت گرجا گھروں کو اس میں شامل ہونے کے لیے آمادہ کیا جا رہا ہے وہیں انھیں حسب معمول بلاننگ کے عمل پر بات کرنا ہوگی۔

’موبائل فون جسم اور بستر سے دور رکھیں‘

’اینڈروئڈ فون صارف کی لوکیشن گوگل کو بھیجتا ہے‘

ڈیجیٹل ماہرین نے اس کا خیرمقدم تو کیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ’مسلہ اس کی تفصیل میں ہوگا۔‘

ریسرچ فرم اسیمبلی کے پرنسپل اینالسٹ میتھیو ہوویٹ کا کہنا ہے کہ ’دیہی علاقوں میں موزوں مقامات تک رسائی حاصل کرنا موبائل آپریٹرز کے لیے ایک چیلنج رہا ہے، لہذا اس میں بہتری لانے کے لیے کسی بھی اقدام کا خیرمقدم کیا جائے گا۔‘

’جو چیز واضح نہیں ہے وہ یہ کہ کمرشل تعلقات کیسے ہوں گے۔ ایسی بہت سی کہانیاں ہیں کہ دیہی علاقوں میں زمین مالکان آپریٹرز کو پیسوں کے لیے بعض مقامات تک رسائی نہیں دیتے، جس کی وجہ سے اسے پھیلانے کا عمل سست ہو جاتا ہے اور لاگت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔‘

حکومت کا کہنا ہے کہ کمرشل معملات مقامی سطح پر پادری یا بشپ اور موبائل آپریٹرز اور براڈ بینڈ سہولیات فراہم کرنے والوں کے درمیان طے کیے جائیں گے، تاہم اس حوالے سے حکومت نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

سیکریٹری آف سٹیٹ میٹ ہینکاک کا کہنا ہے کہ ’چرچ آف انگلینڈ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کا مطلب ہے کہ 15ویں صدی کی عمارت بھی برطانیہ کے لوگوں کو مستقبل کے لیے فٹ بنا دے گی اور مشکل ترین علاقوں تک رسائی کو بڑھا کر لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنا دے گی۔‘

اسی بارے میں