برطانیہ: ہنگامی مدد کے لیے پانچ افراد کی 8,303 کالیں

صحت

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ میں گذشتہ 12 ماہ کے دوران پانچ مریضوں کے لیے 1500 سے زائد مرتبہ ایمبولینسیں اور ہنگامی مدد کی گاڑیاں بھیجی گئیں۔

ان پانچ افراد کی جانب سے ہنگامی مدد کے لیے کل 8,303 کالیں کی گئیں۔

این ایچ ایس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ کالیں عام طور پر ذہنی صحت، شدید درد اور الکوحل یا منشیات سے متعلق تھیں۔

دماغی صحت کی فلاحی ادارے مائینڈ سے وابستہ وکی نیش کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ انفرادی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں۔

یہ اعداد و شمار برطانیہ کی 14 ایمبولینس ٹرسٹس کی جانب سے معلومات کے حصول کے حق کی درخواست کے بعد جاری کیے گئے ہیں۔ لندن میں ایمبولینس سروس کو کسی ایک مریض کی جانب سے سب سے زیادہ 3,594 بار کال کی گئی تھی۔

ایسٹ مڈلینڈز کو ایک ہی مریض نے 1,244 کال کی جبکہ ساوتھ ویسٹ ایمبولینس سروس کو ایک ہی شخص کی جانب سے سب سے 1,044 بار کال کی گئی۔

اس مہینے میں کم از کم پانچ بار کال کرنے والوں کو ’بار بار کال کرنے والے‘ بیان کیا گیا ہے، یا ایسے افراد جو تین مہینوں میں کم از کم 12 مرتبہ کال کرتے ہیں، اور ان پر صحت کی سہولیات کا سالانہ ایک کروڑ 90 لاکھ خرچ ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مائینڈ تنظیم کے پالیسی اور مہم سازی کی سربراہ وکی نیش کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہیا کی جانے والی سہولیات اتنی اچھی نہیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک فرد کی ضروریات پوری نہیں کر رہیں، جس کی وجہ سے وہ بار بار کال کر رہے ہیں۔‘

ویسٹ مڈلینڈز ایمبولیس سروس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 999 نمبر کے غلط استعمال کا ’بہت زیادہ‘ اثر ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ محض مالی قیمت نہیں ہے، وہ لوگ جنھیں واقعی ایمبولینسوں کی ضرورت ہے ان پر اثرانداز ہونا ہے۔

محکمہ صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’این ایچ ایس 999 کے نمبر پر ہنگامی صورتحال میں مدد طلب کرنے والوں کی کالز موصول کرنے والے افراد ایک مشکل کام کرتے ہیں، اور ہم عوام سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ان کی مدد کریں اور صرف ضرورت کے وقت 999 پر کال کریں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں