گوگل کی تصاویر شناخت کرنے کی ٹیکنالوجی امریکی فوج کے استعمال میں

تصویر کے کاپی رائٹ US AIR FORCE

ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے تصدیق کی ہے کہ وہ پینٹاگون کو ایک فوجی پراجیکٹ کے حصے کے طور پر تصاویر شناخت کرنے والی کچھ ٹیکنالوجیز کے استعمال کی اجازت دے رہا ہے۔

ٹیکنالوجی ویب سائٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی ڈرون سے بنائی گئی فٹیج کی جانچ پڑتال کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

ویب سائٹ کے مطابق گوگل کے بہت سارے ملازمین کو اس بارے میں گذشتہ ہفتے دفتری ای میلز کے ذریعے علم ہوا ہے۔

ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ کچھ افراد اس پر ’نالاں‘ بھی تھے۔

گوگل کی ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ معاہدے میں امریکہ کے محکمۂ دفاع کو سافٹ ویئر ٹولز کی فراہم شامل ہیں جس سے وہ اپنی ٹینسرفلو میشن لرننگ کوڈ کی تیاری کر سکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ٹیکنالوجی انسانی تجزیوں کے لیے اور غیر جنگی مقاصد کے استعمال کے لیے ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’مشینوں کے اس فوجی استعمال پر بلاشبہ خدشات تو ہوں گے‘

ترجمان کے مطابق ’ہم اس موضوع پر اندرونی طور پر اور دوسرے کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور اپنی ٹیکنالوجیوں کے استعمال اور تیاری سے متعلق ہونے والی پیش رفت سے متعلق پالیسیاں اور حفاظتی اقدام بھی تیار کر رہے ہیں۔‘

اگرچہ گوگل کے سابق چیئرمین ایرک شمڈ سنہ 2016 میں پینٹاگون کے مشیر بن گئے تھے تاہم گوگل امریکی فوج کے ساتھ تعلق پر محتاط رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں!

’وہ مقامات جو گوگل میپ نہیں دکھاتا‘

فیس بک دہشت گردوں کو پکڑنے میں مدد دے گی

کیا مصنوعی ذہانت ماہر امراض قلب سے بہتر ہے؟

ماضی میں پینٹاگون کی زیراہتمام ایک روبوٹس کے مقابلے میں گوگل نے دستبرداری اختیار کر لی تھی جبکہ توقع تھی کہ وہ یہ مقابلہ جیت سکتا ہے، اس کی وجہ بھی ایسے ہی خدشات ظاہر کی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

گزموڈو ویب سائٹ کے مطابق ڈرون منصوبہ پراجیکٹ ماوین کا حصہ ہے۔ اس منصوبے کا گذشتہ سال جولائی میں اعلان کیا گیا تھا جس میں ’بڑی تعداد میں حرکت کرنے والی‘ تصاویر کی نشاندہی کے لیے کمپیوٹر الگوردھمز کا استعمال شامل ہے۔

تاہم بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ جن الگوردھمز کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے وہ چہرے کے بجائے دیگر چیزوں کی شناخت کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں جن میں کاریں، پرندے اور درخت وغیرہ شامل ہیں۔

اسی بارے میں