غلط خبریں بوٹس نہیں انسان ہی پھیلاتے ہیں: رپورٹ

ٹویٹر تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکہ میں سائنس جرنل میں شائع ہونے والی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ پر جھوٹی خبریں سچ کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غلط معلومات کو تیزی سے پھیلانے میں اہم کردار روبوٹس یا بوٹس کا نہیں بلکہ خود انسانوں کا ہے۔

سائنس نامی جرنل میں شائع ہونے والی تازہ تحقیق کے لیے تحقیق کاروں نے 2006 سے لے کر 2017 تک ٹوئٹر پر سوا لاکھ سلسلہ وار ٹویٹس کا تجزیہ کیا۔

اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ ان متنازع خبروں کو 30 لاکھ افراد نے 45 لاکھ بار ٹویٹ کیا۔

جعلی پورن ویڈیوز کے سنگین نتائج

نیویارک ٹائمز کا ادارتی صفحہ ٹرمپ کے حامیوں کے لیے مختص

جعلی خبروں سے کیسے نمٹا جائے؟

ٹوئٹر پر کھوٹے کو کھرا کر کے بیچنے والے

اس رپورٹ کو مشہور یونیورسٹی ایم آئی ٹی کے تحقیق دانوں نے مرتب کیا ہے۔

تجزیہ کاروں نے خبر کے غلط یا صحیح ہونے کا تعین کرنے کے لیے چھ خودمختار تنظیموں پر انحصار کیا جن کا کام غلط خبر کی نشاندہی کرنا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’صحیح خبر کے مقابلے غلط خبر کے ری ٹویٹ ہونے کے امکانات 70 فیصد زیادہ ہیں۔‘

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’1500 افراد تک پہنچنے میں غلط خبر کے مقابلے میں درست خبر چھ گنا زیادہ وقت لیتی ہے۔‘

تحقیق دانوں کا کہنا ہے کہ غلط خبریں ’انوکھے نظریات‘ کی وجہ سے زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان خبروں کو اس لیے شیئر کیا جاتا ہے کہ وہ صحیح خبر سے زیادہ حیران کن ہوتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق غلط خبر ٹویٹ کرنے پر زیادہ جواب آتے ہیں جن میں حیرت، خوف اور نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’صحیح خبر کے باعث افسردگی، توقع اور اعتماد حاصل ہوتا ہے۔‘

اس تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹوئٹر پر غلط خبروں کے تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور ایسی خبروں میں مزید اضافہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی بڑا واقعہ ہو جیسے 2012 اور 2016 کے امریکی صدارتی انتخاب۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غلط خبریں پھیلانے والوں کی فالوئنگ بہت زیادہ نہیں ہے۔ ’دراصل جو غلط خبریں پھیلاتے ہیں ان کے کم فالوورز ہوتے ہیں، کم لوگوں کو فالو کرتے ہیں، ٹوئٹر پر زیادہ فعال نہیں ہوتے، ان کے اکاؤنٹس بہت کم تصدیق شدہ ہوتے ہیں اور وہ بہت کم عرصہ پہلے ٹوئٹر پر آئے ہوتے ہیں۔‘

اسی بارے میں