معروف طبیعات دان سٹیفن ہاکنگ کی زندگی تصاویر میں

سٹیگن ہاکنگ

سٹیفن ہاکنگ سنہ 1942 میں پیدا ہوئے تھے، انھوں نے اوکسفرڈ سے طبیعات کی تعلیم حاصل کی اور بعدازاں کیمبرج سے فلکیات کے شعبے میں پی ایچ ڈی کی۔

سٹیگن ہاکنگ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

22 برس کی عمر میں ان میں ایک مرض موٹر نیورون کی تشخیص ہوئی۔ ان دنوں وہ اپنی پہلی بیوی جین (اوپر تصویر میں موجود ہیں) کے ساتھ شادی کی تیاری کر رہے تھے، ڈاکٹروں کا قیاس تھا وہ زیادہ لمبی عمر نہیں جی سکیں گے۔ ان کی شادی 26 سال قائم رہی اور ان کے تین بچے ہوئے۔

سٹیگن ہاکنگ تصویر کے کاپی رائٹ PA

انھوں نے ویل چیئر کا استعمال کیا اور وہ وائس سنتھیائزر کے بغیر بولنے کے قابل نہیں تھے۔ ہاکنگ کو سنہ 1988 میں ان کی کتاب ’اے بریف ہسٹری آف ٹائم‘ سے شہرت ملی جس کی ایک کروڑ سے زائد کاپیاں فروخت ہوئیں۔

سٹیگن ہاکنگ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ہاکنگ نے سنہ1995 میں اپنی ایک نرس الائن میسن سے بھی شادی کی۔ طلاق سے پہلے وہ 11 برس تک اس بندھن میں بندھے رہے۔

سٹیگن ہاکنگ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سنہ 2007 میں ہاکنگ دونوں بازوں اور ٹانگوں سے مفلوج پہلے شخص بن گئے جنھوں نے بے وزنی کی حالت کا تجربہ کیا جب انھوں نے کشش ثقل کی عدم موجودگی والے خصوصی طور پر تیار کردہ ایک جہاز میں سفر کیا تھا۔ ان کا اس وقت کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں نسل انسانی اگر خلا میں نہیں جاتی تو اس کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔‘

سٹیگن ہاکنگ تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اس معروف طبیعات دان نے دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں لیکچرز دیے، جیسا کہ اس تصویر میں وہ سنہ 2008 جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں لیکچر دے رہے ہیں۔

سٹیگن ہاکنگ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انھوں نے ریاضی اور سائنس کے شعبوں میں بہت سارے اعزازات حاصل کیے، سنہ 2009 میں انھیں امریکی صدر براک اوباما نے پریزیڈنشل میڈل آف فریڈم سے نوازا۔

سٹیگن ہاکنگ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سنہ 2014 میں سینٹ جیمز پیلس میں منعقدہ ایک فلاحی تقریب کے دوران انھوں نےملکہ برطانیہ سے ملاقات بھی کی۔

سٹیگن ہاکنگ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سنہ 2014 میں ان کی زندگی پر ایک فلم ’دی تھیوری آف ایورتھنگ‘ بنائی گئی جس میں ایڈی ریڈمین نے مرکزی کردار ادا کیا۔

سٹیگن ہاکنگ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سنہ 2017 میں ہانگ کانگ میں کیمبرج میں واقع اپنے دفتر سے ہانگ کانگ میں ایک تقریب سے ہولوگرام ٹیکنالوجی کے ذریعے بات چیت کی۔ ان کے موت کے بعد ان کے بچوں کا کہنا ہے کہ ان کی وراثت 'بہت سالوں کے لیے زندہ رہے گی۔'

.

اسی بارے میں