ڈبلیو ایچ او بوتل والے پانی میں پلاسٹک کا جائزہ لے گا

تصویر کے کاپی رائٹ OrbMedia

عالمی ادارہ صحت یعنی ڈبلیو ایچ او نے پینے کے پانی میں پلاسٹک کی موجودگی کے ممکنہ خطرے کا جائزہ لینے کا کہا ہے۔

اس سے مائکرو پلاسٹکس (ایسے چھوٹے ذرات جو جسم میں داخل ہو سکتے ہیں) پر کی جانے والی تازہ تحقیق کا جائزہ لیا جائے گا۔

یہ جائزہ صحافتی تنظیم او آر بی میڈیا کو کئی بڑے برینڈز کے بوتل والے پانی میں ملنے والے پلاسٹک ذرات کے بعد کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے!

دنیا کے بڑے شہر جو پانی کی کمی کا شکار ہیں

بکری دو، پانی لو

’استعمال شدہ‘ کھلونے بچوں کے لیے نقصان دہ

ایسے شواہد تو نہیں ملے ہیں کہ مائیکرو پلاسٹک سے انسانی صحت کو خطرہ ہو سکتا ہے تاہم عالمی ادارہ صحت یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ اس پر کتنی تحقیق ہو چکی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے عالمی سطح پر پانی اور نکاسی کے کام کے کوآرڈینیٹر بروس جارڈن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اہم سوال تو یہ ہے کہ زندگی بھر پلاسٹک کے ذرات کھانے یا پینے سے کوئی اثر ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جب ہم پلاسٹک کی ترکیب کو دیکھتے ہیں، اور ممکن ہے کہ اس میں ٹاکسن (سم) بھی ہو، تو کس حد تک وہ نقصان دہ ہوتی ہے اور حقیقت میں یہ ذرات جسم میں کیا کرتے ہیں۔ ایسے کوئی تحقیق نہیں ہے جو ہمیں یہ بتا سکے۔‘

’عام طور پر ایک ’محفوظ‘ حد ہوتی ہے لیکن اس محفوظ حد کے لیے ہمارے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کیا یہ چیزیں خطرناک ہیں اور کیا پانی میں ان کی مقدار کی موجودگی خطرناک ہے۔‘

بروس جارڈن نے کہا ہے کہ وہ کسی کو بھی خبردار نہیں کرنا چاہتے اور ساتھ ہی انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ پانی کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں کو اس سے کہیں زیادہ بڑا خطرہ ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں پانی کی سپلائی سیوج کی وجہ سے گندہ ہو جاتا ہے۔

تاہم انھوں نے یہ تسلیم کیا ہے کہ جب لوگ پانی میں مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی کے بارے میں سنیں گے تو وہ اس بارے میں پوچنے کے لیے ڈبلیو ایچ او کے پاس آئیں گے۔

’لوگوں لازمی طور پر تشویش ہوگی کہ آیا اس سے وہ قلیل مدت یا طویل میں بیمار ہو سکتے ہیں۔‘

ڈبلیو ایچ او یہ اقدام ایک ایسی تحقیق کے بعد کر رہا ہے جس میں 11 مختلف برینڈز کی نو ممالک سے خریدی گئی 250 پانی کی بوتلوں کا جائزہ لیا گیا۔ یہ اپنی نوعیت کی سب سے بڑی تحقیقات ہیں۔

یہ ٹیسٹ فریڈونیا میں سٹیٹ یونیورسٹی آف نیو یارک میں کیے گئے ہیں۔

نائل ریڈ نامی ایک ڈائی کا استعمال کیا گیا جو پانی میں موجود پلاسٹک کے ٹکڑوں کو جوڑتی ہے۔ یونیورسٹی کے پروفیسر شیری میسن کو اس کے نتیجے میں فی لیٹر پانی میں اوسط 10 پلاسٹک ذرے ملے، جن میں سے ہر ایک انسانی بال سے بڑا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ORB

چھوٹے ذرات کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ بھی پلاسٹک ہیں لیکن ملنے والوں کی شناخت مثبت نہیں ہے۔ چھوٹے ذرات کی تعداد فی لیٹر 314 تھی۔

ان تمام بوتلوں جن کا تجزیہ کیا گیا میں 17 ایسی تھیں جن میں سے کوئی ذرات نہیں ملے، جبکہ دیگر بہت سی ایسی تھیں جن میں ان ذرات کی تعداد سینکڑوں یا ہزاروں میں تھی۔ برینڈز اور یہاں تک کے ایک جیسی بوتلوں کے پیکٹوں میں بھی بڑا فرق دیکھا گیا۔

ہم نے ان برینڈز کے پیچھے کام کرنے والی کمپنیوں سے رابطہ کیا اور زیادہ تر نے اس پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی مصنوعات کی کوالٹی اور تحفظ پر کاربند ہیں۔

چند کمپنیوں نے سوال کیا کہ اس تحقیق کے نتائج ان کی اپنی تحقیق کے مقابلے میں اتنے زیادہ کیوں ہیں یا انھوں نے اس طرف اشارہ کیا کہ مائیکرو پلاسٹک کے بارے میں قوانین یا متفقہ ٹیسٹ کا طریقہ کار موجود نہیں۔

پروفیسر میسن کا کہنا ہے کہ ’جو ہم جانتے ہیں وہ یہ کہ بعض ذرات اتنے بڑے ہیں کہ ایک بار اگر انھیں نگل لیا جائے تو ممکنہ طور پر نکالا جا سکتا ہے لیکن اس دوران ان سے کیمیکل نکلتے ہیں جو انسانی صحت پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔‘

’بعض ذرات تو اتنے چھوٹے ہیں جو آنتوں میں جا کر پورے جسم میں پھیل سکتے ہیں، اور ہم نہیں جانتے کہ مختلف اعضا اور ٹیشوز پر اس کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں۔‘

برطانوی فوڈ سٹینڈرڈز ایجنسی نے کہا ہے کہ پانی کی بوتلوں میں اطلاعات کے مطابق موجود مائیکرو پلاسٹک سے خطرہ لاحق ہونا مشکل ہے، تاہم ایجنسی نے مزید کہا کہ ’وہ مائیکرو پلاسٹک کے کھانے اور پانی میں ہونے کے بارے میں سامنے آنے والی معلومات کا جائزہ لیں گے۔‘

کنگز کالج سینٹر فار اینوائرمنٹ اینڈ ہیلتھ کی ڈاکٹر سٹیفنی رائٹ کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ہمیں کتنی مائیکرو پلاسٹک کا سامنا ہے اور حقیقت میں ہمارے اندر اس پلاسٹک کا ہوتا کیا ہے۔

محقیقین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ٹائٹینیم ڈائی آکسائڈ کے چھوٹے ذرات تو جھلیوں میں سے گزر جاتے ہیں تو ایسا ہی کچھ پلاسٹک کے ساتھ بھی ممکن ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ پلاسٹک جاتی کہاں ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں