دنیا کا آخری سفید نر گینڈا نہیں رہا

سوڈان تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption آخری شمالی سفید گینڈے سوڈان کو 45 سال کی عمر میں ابدی نیند سلا دیا گیا ہے

کینیا میں دنیا کا آخری شمالی سفید نر گينڈا چند ماہ کی علالت کے بعد چل بسا۔

یہ بات سوڈان نامی نایاب نسل کے سفید گینڈے کے نگہبانوں نے بتائی ہے۔

یہ نایاب گینڈا ہر وقت انتہائی حفاظت میں کینیا کی اول پیجیٹا کنزروینسی میں رہتا تھا اور اسے بڑھاپے کے تعلق سے ہونے والی بیماریوں اور ان میں در آنے والی پیچیدگیوں کے نتیجے میں ابدی نیند سلا دیا گيا۔

اس 45 سالہ گینڈے کی موت کے بعد اب اس قسم کی نسل والی دو مادائیں ہی دنیا میں رہ گئی ہیں۔

سفید شمالی گینڈے کو محفوظ رکھنے کی ساری امیدیں اب صرف آئی وی ایف تکنیک سے وابستہ ہیں۔

اس سے قبل بڑھتی ہوئی عمر کے اس نایاب نسل کے نر گینڈے کی دو باقی رہ جانے والی مادہ گینڈوں کے ساتھ افزائش نسل کی کوششیں ناکام ہوگئی تھیں۔

کارکنوں کا کہنا ہے کہ گینڈوں کے لیے مصنوعی طریقے سے افزائش نسل یعنی ان ویٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف) تکنیک تیار کرنے کے لیے ایک کروڑ ڈالر درکار ہیں۔

کارکنوں کے مطابق سائنسدان سوڈان کے نطفے کو آخری دو رہ جانے والی مادہ گینڈوں 17 سالہ ستو یا 27 سالہ ناجن کے انڈوں سے تیار ہونے والے ایمبریو کو جنوبی سفید گینڈے کی نسل سے تعلق رکھنے والی مادہ میں منتقل کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ تصویر سنہ 2016 میں کینیا میں لی گئی تھی

اس سے قبل اس گینڈے کی نسل کی افزائش کے لیے ایک ڈیٹنگ ایپلی کیشن ٹنڈر اکاؤنٹ بنایا گیا تھا تاکہ مطلوبہ رقم اکٹھا کی جا سکے۔

اس وقت کارکنوں کو خدشہ تھا کہ 43 سالہ سوڈان مطلوبہ رقم جمع ہونے سے قبل ہی مر سکتا ہے یا مار دیا جاسکتا ہے۔

گینڈوں کے ماہر رچرڈ وگنے کا کہنا ہے کہ 'یہ خطرہ ہمیشہ سے موجود ہے۔ وہ بوڑھا ہے، وہ ضرور جلد مر جائے گا۔ جب تک مشرق بعید میں گینڈوں کی سینگوں کی طلب رہے گی، یہ خطرہ ہمیشہ موجود رہے گا۔'

ایک اندازے کے مطابق غیرقانونی شکاری شمالی سفید گینڈے کے سینگ 50 ہزار ڈالر فی کلو کے حساب سے فروخت کرتے ہیں جس سے ان کی مالیت سونے یا کوکین سے بھی زیادہ بن جاتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں