’چٹائیوں سے اتنے پیسے نہیں ملتے کہ علاج کرائیں‘

چٹائیوں سے بنائے ہوئے باورچی خانے میں مٹی کے چولہے پر چاول کی روٹی پک رہی ہے جبکہ سامنے پانچ بچے انتظار میں بیٹھے ہیں جن کے قریب سرخ مرچ کی چٹنی موجود ہے۔

زلیخاں ملاح کے خاندان کی زیادہ تر خوراک چاول کی روٹی اور سرخ مرچ کی چٹنی ہی ہے۔ گوشت تو دور کی بات دودھ، دہی یا سبزیاں بھی ان کے دسترس سے باہر ہیں۔

زلیخاں ملاح ٹھٹہ شہر سے تقریبا پانچ کلومیٹر دور چھتو چنڈ نامی گاؤں میں سیم نالے کے کنارے پر بیٹے، بہو اور پانچ پوتوں اور پوتیوں سمیت رہتی ہیں۔ ان کی بہو راج بائی پانچویں بار ماں بنی ہیں اور دیگر بچوں کی طرح یہ بچہ بھی کمزور پیدا ہوا اور کئی روز ہسپتال میں زیر علاج رہا۔

یہ بھی پڑھیے

'پاکستان میں مزید پانچ لاکھ بچے لاغر ہو سکتے ہیں'

'ہر سات سیکنڈ میں 15 سال سے کم عمر کی ایک بچی بیاہ دی جاتی ہے'

پاکستان میں بچے غذائی قلت کا شکار

یہ خاندان چٹائیاں بناتا ہے جس سے روزانہ 200 روپے آمدنی ہوتی ہے۔ زچگی کے بعد بھی راج بائی کی خوراک میں کوئی بہتری نہیں آئی وہ ہی چاول کی روٹی اور سرخ مرچ کی چٹنی۔

زلیخاں ملاح کا کہنا ہے کہ دن رات سرخ مرچ اور چاول کی روٹی کھاتے ہیں جس کی وجہ سے بہو میں خون کی کمی ہے اور بچہ بھی کمزور ہو جاتا ہے۔ ماں تو اس قدر کمزور ہے کہ اٹھ بھی نہیں سکتی۔ ’غربت میں کیا کریں ان چٹائیوں سے تو اتنے پیسے نہیں ملتے کہ علاج کرائیں۔‘

ڈاکٹروں کے مطابق زچگی کے دوران خوراک کی کمی خواتین کو موت کے قریب لے جاتی ہے جبکہ پیٹ میں موجود بچوں کی افزائش بھی متاثر ہوتی ہے جس سے پیدائش کے وقت اور بعد میں بھی بچوں کا وزن اور قد کم رہتا ہے۔

میڈیکل ریسیلینس فاؤنڈیشن نے حکومت سندھ کی شراکت سے ٹھٹہ ہسپتال کا انتظام سنبھالا ہے جس کے بعد یہاں ڈاکٹروں اور ادویات کی موجودگی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ یہاں خوراک کی کمی کا شکار بچوں کا سپیشل وارڈ بھی موجود ہے جس میں ہر ماہ اوسطً 50 بچے داخل ہوتے ہیں جن میں 70 فیصد لڑکیاں ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر نور العین بتاتی ہیں کہ خوراک کی کمی کا شکار بچوں میں جب پیچدگیاں بڑھ جاتی ہیں یعنی بخار، ڈائریا وغیرہ تبھی انھیں اس ہسپتال میں لایا جاتا ہے۔

’ماؤں میں خون اور خوراک کی کمی ہوتی ہے، زچگی سے قبل اور زچگی کے بعد ان کی صحت کا خیال نہیں رکھا جاتا، زیادہ تر زچگیاں مقامی دائیوں سے کرائی جاتی ہیں جبکہ غربت کی وجہ سے انھیں دو وقت کا کھانا بھی دستیاب نہیں ہوتا جس کی وجہ سے بچے کمزور پیدا ہوتے ہیں۔‘

یہ وہ مائیں اور بچے ہیں جو ہسپتال تک پہنچے اور جن کے اعداد و شمار موجود ہیں لیکن ٹھٹہ ضلع سمیت پاکستان بھر میں ماؤں اور بچوں میں کس قدر خوراک، خون اور وٹامنز وغیرہ کی کمی ہے اس کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ سنہ 2011 کے سروے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 44 فیصد بچے سٹنٹنگ کا شکار ہیں۔

حکومت پاکستان کی جانب سے رواں ماہ مارچ سے ملک گیر نیوٹریشن سروے کیا جا رہا ہے جس میں ضلعی سطح پر نومولود بچوں سمیت شادی شدہ خواتین اور بالغ لڑکیوں کے خون، پیشاب اور پانی کے نمونے حاصل کیے جائیں گے۔

آغا خان یونیورسٹی ان نمونوں کی مدد سے سے مخلتف امراض اور ان کی 120 علامات کا پتہ لگائے گی۔ اس تحقیق کی سربراہی ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ کر رہے ہیں مارچ کے اختتام تک کراچی سے سروے کا آغاز کیا جائے گا اور دسمبر تک ملک کے تمام اضلاع سے نمونے حاصل کیے جائیں گے۔

صحت اور نیوٹریشن سروے کی مشیر ڈاکٹر شجاعت زیدی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب تک یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ماں اور بچے کی موجودہ صحت کی حالت کیا ہے اس وقت تک ہم کوئی منصوبہ بندی نہیں کر سکتے ہیں۔

’سروے میں 30,000 پانی کے نمونے حاصل کیے جائیں گے، اتنی ہی تعداد میں خون اور پیشاب کے نمونے لیے جائیں ہوں گے جن کی بنیاد پر یہ معولم ہو گا کہ ماں اور بچے کی افزائش میں کس قدر بہتری آئی ہے۔

پاکستان کے بعض علاقوں میں پولیو ویکیسن پر بھی مزاحمت موجود ہے، اس صورت حال میں خواتین کے خون اور پیشاب کے نمونے لینے پر کچھ دشواری آ سکتی ہے تاہم صحت اور نیوٹریشن سروے کی مشیر ڈاکٹر شجاعت زیدی کو یقین ہے کہ کوئی مزاحمت پیش نہیں آئے گی کیونکہ ٹیم پہلے کمیونٹی کو اعتماد میں لے گی۔

اسی بارے میں