امریکی وفاقی ٹریڈ کمیشن فیس بک کی تحقیقات کرے گا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی وفاقی ٹریڈ کمیشن (ایف ٹی سی) مبینہ طور پر فیس بک کی جانچ کر رہا ہے۔ یہ جانچ ان الزامات کے بعد کی جا رہی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ایک سیاسی کنسلٹینسی کمپنی نے فیس بک کے پانچ کروڑ صارفین کے نجی ڈیٹا کا غلط استعمال کیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم نے سنہ 2016 کے صدارتی انتخابات کے لیے کیمبرج اینالیٹکا (سی اے) نامی کمپنی کی خدمات حاصل کی تھی اور اس کمپنی پر صارفین کی لاعلمی میں ان کے ذاتی ڈیٹا کے حصول کا الزام ہے۔

کمپنی کے ذریعہ ممکنہ طور پر امریکہ کے انتخابی قانون کی خلاف ورزی کے الزامات کے بعد کمپنی کے سربراہ الیگزینڈر نکس کو کمپنی کے بورڈ سے برطرف کر دیا گيا ہے۔

برطانیہ میں مبنی کمپنی سی اے نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

٭ ’یہ کہنا پاگل پن ہے کہ فیس بک نے ٹرمپ کی مدد کی‘

٭ صدارتی انتخاب میں جعلی خبریں، فیس بک میں چھان بین کا آغاز

دریں اثنا پیر کو فیس بک کے سٹاک میں بڑی گراوٹ کے بعد مسلسل گراوٹ جاری ہے۔

برطانوی اور یورپی پارلیمان نے فیس بک کے مالک مارک زکربرگ سے شواہد فراہم کرنے کے لیے کہا ہے اور سوشل نیٹ ورک کمپنی بدھ کو امریکی حکام کو اس کے بارے میں تفصیل فراہم کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ڈیلی بیسٹ ویب سائٹ کے مطابق مارک زکربرگ نے منگل کو فیس بک کے ہیڈکوارٹر کیلیفورنیا میں اس بحران کے متعلق سٹاف بریفنگ میں شرکت نہیں کی اور ان کی جگہ نائب جنرل مشیر پال گریول نے میٹنگ کی سربراہی کی۔

خیال رہے کہ فیس بک اور بطور خاص مارک زکربرگ کی تنقید اس سے پہلے اتنی شدید کبھی نہیں تھی۔

بہر حال کمپنی نے کہا ہے کہ وہ کیمبرج اینالیٹکا کے ذریعے 'دھوکہ دیے جانے' پر غصے میں ہے۔ شاید فیس بک کی جانب سے یہ دکھانے کی کوشش ہے کہ وہ خود شکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

٭ جعلی خبروں سے نمٹنے کے لیے فیس بک کا تفصیلی منصوبہ

٭ ’فیس بک پر اب خبریں کم اور آپس کی باتیں زیادہ‘

بدھ کو فیس بک اپنے نمائندوں کو واشنگٹن بھیج رہی ہے جو کانگریس کو ان کے سوالوں کا جواب دیں گے۔ یہ بظاہر اس ضمن میں پہلا قدم ہے جو انھیں دنیا بھر میں جانچ کرنے والوں کو دینا ہوگا کہ آخر ایسا کیسے اور کیونکر ہوا۔

ایک اندازے کے مطابق اس خبر کے سامنے آنے کے بعد سے فیس بک کو 60 ارب امریکی ڈالر کا خسارہ ہوا ہے۔ اور اس کا وسیع اثر سیلیکون ویلی پر یہ پڑتا نظر آ رہا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کی خود ضابطگی کا دور اپنے ڈرمائی انجام کو پہنچ رہا ہے۔

ایف ٹی سی کیوں دخل دے رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption منگل کو الیگزینڈر نکس کو منھ چھپاتے جاتے دیکھا جا سکتا ہے

امریکی وفاقی ٹریڈ کمیشن امریکی حکومت کی ایک خودمختار ایجنسی ہے جس کا کام امریکی صارفین کا تحفظ ہے۔

یہ سنہ 2011 میں سوشل نیٹ ورک پرائیویسی کے متعلق ایک فرمان کے تحت یہ جانچ کر رہا ہے کہیں اس فرمان کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی ہے۔ یہ بات ایک شخص نے واشنگٹن پوسٹ کو نام نہ ظاہر کیے جانے کی شرط پر بتایا۔اور اس کی تصدیق بلوم برگ نیوز نے بھی کیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے کہا ہے کہ سنہ 2011 کے فرمان کے مطابق پرائيویسی سیٹنگ کے ماورا صارفین کے ڈیٹا شیئر کرنے سے قبل فیس بک کو اپنے صارفین کو مطلع کرنا ضروری ہے۔

کیا سی اے نے امریکی قانون کی خلاف ورزی کی؟

چینل فودر جس نے سی اے کے خلاف خفیہ جانچ کی اس کا کہنا ہے کہ کمپنی نے ممکنہ طور پر امریکی انتخابی قانون کی خلاف ورزی کی ہے جو اس انتخابی مہم کے حکام اور بیرونی گروپ کے درمیان تعاون کی ممانعت کرتا ہے۔

سی اے کے اعلی حکام کو انتخابی مہم کی دو رخی حکمت عملی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ریکارڈ کیا گیا جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی انتخابی مہم ٹیم کی جانب سے مثبت پیغامات ڈالنے جبکہ حملے کے اشتہار کی بیرونی تنظیموں کے ذریعے حوصلہ افزائی شامل ہے۔

الیکزینڈر نکس نے ٹرمپ کی مہم کے بارے میں اپنی کمپنی کی ٹیم کے بارے میں شیخی بگھارتے ہوئے چینل فور کی انڈر کور ٹیم کو بتایا: ہم نے تمام ریسرچ کیں، سارے اعداد و شمار اکٹھا کیے، تمام تجزیے کیے، اور تمام تر ہدف طے کیے۔ ہم نے تمام ڈیجیٹل اور ٹی وی مہم چلائی اور ہمارے دیٹا نے تمام حکمت عملی طے کی۔'

اسی بارے میں