آپ اپنے فیس بک ڈیٹا کو کیسے محفوظ بنا سکتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اب بہت سے صارفین یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں ان کی کتنی معلومات اکھٹی کرتی ہیں

اس خبر کے بعد کہ کیمبرج اینالیٹیکا کی جانب سے مبینہ طور پر فیس بک کے پانچ کروڑ صارفین کی معلومات کا غلط استعمال کیا گیا ہے ایک بار پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ سوشل نیٹ ورک پر معلومات کیسے اور کس کے ساتھ شیئر کی جاتی ہے۔

معلومات فیس بک کے لیے اہم ہیں۔ معلومات کی وجہ ہی سے اشتہاری کمپنیاں پلیٹ فارم پر آتی ہیں اور اسی کے ذریعے رقم بنائی جاتی ہے۔

اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ فیس بک صارفین کی پسند، ناپسند، لائف سٹائل اور سیاسی رجحان سے ان کے پروفائل بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ فیس بک دوسروں کے ساتھ صارفین کی کون سی معلومات شیئر کرتی ہے اور صارفین ایسا کیا کر سکتے ہیں کہ اپنی معلومات پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر سکیں؟

کیا آپ دیکھنا چاہیں گے کہ آپ ہالی وڈ سٹار کی طرح کیسے دکھتے ہیں؟ کلک کریں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کیمبرج اینالیٹیکا کے چیف ایگزیکٹو الیگزینڈر نیکس نے ایوان کے نمائندوں کو بتایا کہ وہ ڈیٹا کو سروے کے لیے استعمال کرتے ہیں

یہ کوئز ہم سب نے دیکھا ہو گا۔ ایسے ہی فیس بک کوئز، ’یہ آپ کی ڈیجیٹل لائف ہے‘ This is Your Digital Life میں سے معلومات کو مبینہ طور پر کیمبرج اینالیٹیکا نے لاکھوں افراد کی معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا۔

بہت سارے کوئز یقین دہانی کراتے ہیں کہ آپ کی معلومات محفوظ ہیں۔

فیس بک پر یہ کھیل اور کوئز کو ایسے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ صارفین کو متوجہ کریں اور زیادہ تر انہی سے معلومات اکٹھی کا جاتی ہیں۔

مزید پڑھیے

’فیس بک پر اب خبریں کم اور آپس کی باتیں زیادہ‘

فیس بک خواتین کو کاروبار سکھائے گی

جرمنی میں فیس بک پر جھوٹی خبروں کی نشاندہی ممکن

فیس بک کے پنجے کہاں کہاں

پرائیویسی کے لیے کام کرنے والی الیکٹرانک فرنٹیئر فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ جس طرح یہ کوئز معلومات اکٹھی کرتے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیس بک کی سروس کی شرائط اور اے پی آئی کا اس وقت نظام کیسا تھا۔

فیس بک نے شرائط و ضوابط کو تبدیل کیا ہے تاکہ تیسری پارٹی کی طرف سے معلومات کو اکٹھا کرنے کو کم کیا جا سکے باالخصوص صارفین کے دوستوں کی معلومات حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔

یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ کیمبرج اینالیٹیکا کو کیا معلومات ملیں اور اسی حوالے سے برطانیہ کی ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹی آئی سی او تحقیقات کر رہی ہے۔

صارفین اپنی معلومات کو محفوظ کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟

  • فیس بک پر لاگ ان کریں اور ایپ سیٹنگز پیج پر جائیں
  • ایپس، ویب سائٹ اور پلگ انز میں ایڈٹ بٹن دبائیں
  • پلیٹ فارم کو ڈس ایبل یا بند کر دیں

اس کا مطلب ہے کہ آپ فیس بک پر کسی اور کی سائٹس پر نہیں جا سکیں گے۔

فیس بک کے سیٹنگ پیج پر جائیں۔ ہر اس کیٹیگری کو ان کلک کریں جسے آپ فیس بک ایپ پر رسائی نہیں دینے چاہتے۔ اس میں آپ کا بائیو ڈیٹا، برتھ ڈے، فیملی، مذہبی نظریات، کیا آپ آن لائین ہیں یا نہیں اسے شو کرنا، آپ کی ٹائم لائن کی پوسٹس اور دیگر ایکٹیوٹیز وغیرہ۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسی سلسلے میں کچھ اور بھی تجاویز ہیں۔

یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا سکول آف لا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، انٹلیکچوئل پراپرٹی اور میڈیا لا پڑھانے والے لیکچرر پال برنل کا کہنا ہے کہ کسی بھی پراڈکٹ کے سروس پیج پر اگر آپ کوئی گیم کھیلنا چاہ رہے ہیں یا کوئی کوئز تو کبھی بھی لائک کا بٹن مت دبائیں اور نہ ہی فیس بک کے ذریعے ان صفحات پر جائیں بلکہ ان صفحات پر براہ راست جائیں۔

وہ کہتے ہیں کہ فیس بک سے سائٹس پر جانا آسان تو ہے لیکن اس سے آپ کا بہت سا ڈیٹا فیس بک پروفائلز سے دیگر ایپس تک پہنچ جاتا ہے۔

اور کس طرح آپ اپنا فیس بک ڈیٹا محفوظ کر سکتے ہیں؟

ڈاکٹر برنل کہتے ہیں کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اپنے ڈیٹا کو مکمل طور پر خود تک محدود رکھنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ فیس بک کو چھوڑ دیا جائے۔

ڈیلیٹ فیس بک کا ہیش ٹیک #DeleteFacebook ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرتا دکھائی دے گا۔

لیکن ڈاکٹر برنل تسلیم کرتے ہیں کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ بہت سے لوگ فیس بک کو سرے سے چھوڑ ہی دیں۔

کیا آپ یہ جان سکتے ہیں کہ آپ کے متعلق کتنا ڈیٹا محفوظ ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 2011 میں مسٹر سکرمز نے فیس بک کے خلاف متعدد شکایات کیں

ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے حالیہ قوانین کے مطابق صارفین فرمز کو ایک درخواست کر سکتے ہیں کہ وہ ان کو بتائیں کہ ان کی کتنی معلومات ان فرمز کے پاس ہیں۔

جب سنہ 2011 میں آسٹریا سے تعلق رکھنے والے سکرمز نے ایسی ایک درخواست کی تھی تو انہیں ایک سی ڈی دی گئی تھی جس میں 1200 فائلز موجود تھے۔

انھیں معلوم ہوا کہ سوشل میڈیا نیٹ ورک نے ان تمام مشینز کے آئی پی ایڈریسز بھی محفوظ کیے تھے جنھیں انھوں نے فیس بک تک رسائی کے لیے استعمال کیا تھا، تمام میسجز کی ہسٹری، جس مقام پر صارف موجود تھا وہ جگہ اور حتیٰ کہ وہ تمام مواد جو انھوں نے ڈیلیٹ کر دیا تھا جیسے کہ میسجز، سٹیٹس اپ ڈیٹ اور وال پر موجود پوسٹس وغیرہ۔

لیکن ایک ایسی دنیا جہاں فیس بک ایک وسیع پیمانے پر معلومات کو تیسری پارٹی کے ساتھ شیئیر کر رہی ہے وہاں اس طرح کی درخواستیں مشکل ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر برنر کہتے ہیں کہ جب آپ جانتے ہی نہیں کہ کس سے پوچھنا ہے تو پھر آپ اپنے ڈیٹا کے بارے میں پوچھیں گے کیسے؟

اب رواں موسم گرما میں یہ بدل گیا ہے کیونکہ یورپ میں جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن متعارف کروایا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ صارفین کے لیے ان کے ڈیٹا کا کنٹرول آسان بنایا جائے۔

جو فرمز یہ معلومات فراہم نہیں کریں گے انھیں بڑے جرمانے کی ادائیگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آپ سوشل میڈیا پر کب تک اپنا مواد رکھ سکتے ہیں؟

یورپ میں ڈیٹا پروٹیکشن قوانین میں یہ تجویز دی جاتی ہے کہ کسی مواد کو تب تک رکھا جائے جب تک اس کی ضرورت ہو لیکن اس کی تشریح قابل ترمیم ہو سکتی ہے۔

فیس بک میں یہ ہوتا ہے کہ جب تک کوئی صارف اپنی کسی پوسٹ کو ڈیلیٹ نہیں کرتا وہ لامحدود وقت تک آن لائن رہتی ہے۔

کیا آپ اپنا پہلے سے موجود ڈیٹا ڈیلیٹ کر سکتے ہیں؟

صارفین اپنا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر سکتے ہیں جس سے ان کی تمام سابقہ پوسٹس ختم ہو جاتی ہیں لیکن فیس بک اپنے صارفین کو اکاؤنٹ بند کرنے کے بجائے یہ آپشن دیتی ہے کہ وہ اپنے اکاؤنٹس ڈی ایکٹیویٹ کر دیں یعنی کچھ عرصے تک بریک لے لیں۔ اور جب بھی صارف کا جی چاہے وہ واپس فیس بک پر ایکٹو ہو سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں