ازبکستان: فصل اگاؤ، جانور پالو یا پھر تین گنا ٹیکس دو

شوکت تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/SHAVKAT MIRZIYOYEV
Image caption ملک کے صدر کی یہ خواہش ہے کہ لوگ اپنے لیے خوراک خود گھر میں ہی اگائیں

ازبکستان کی حکومت نے اپنے شہریوں کو انتباہ جاری کیا ہے کہ یا تو وہ اپنے گھر کے ساتھ موجود باغیچے کو بہتر انداز میں استعمال کریں یا پھر تین گنا ٹیکس کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔

دریو ڈاٹ از نامی ویب سائٹ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ وہ ہر سال میں دو مرتبہ مختلف علاقوں میں آبادیوں میں ہر گھر کا دورہ کیا جائے گا اور یہ جائزہ لیا جایے گا کہ عوام کھیتی باڑی، گرین ہاؤس کے قیام اور اپنے لائیو سٹاک یا مرغیوں کو پالنے میں کتنی دلچسپی لیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ FRED TANNEAU/AFP
Image caption بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مرغیاں پالنا اب قومی سطح پر دلچسپی کا حامل عمل ہے

رپورٹ کے مطابق اگر پولیس، محکمہ ٹیکس کے اہلکار اور مقامی پراسیکیوٹر نے یہ دیکھا کہ مقامی افراد اپنے گھر کے ساتھ موجود زمین کو فصلیں اگا کر یا فارم کے جانور پال کر بہتر مصرف کے لیے استعمال میں نہیں لا رہے تو پھر انھیں زمین پر تین گنا زائد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

خیال رہے کہ یہ نئے احکامات ملک کے صدر شوکت مزییوئف کی اس بات پر مایوسی کے بعد جاری ہوئے ہیں کہ شہری خوراک مثلاً آلو اور دودھ کو خریدنے کے لیے بازار کا رخ کرتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے کن ڈاٹ از نامی ویب سائٹ پر اس حوالے سے صدر کے الفاظ کچھ یوں شائع کیے گئے۔

’مجھے افسوس ہے کہ لوگوں نے مشقت کرنی چھوڑ دی ہے۔ ازبک لوگوں کو اپنے باغیچے میں کام کرنا چاہیے۔

خیال رہے کہ سنہ 2016 میں صدر کے عہدے کے لیے منتخب ہونے والے شوکت مزییوئف اپنے ہی گھر کے ساتھ موجود خالی جگہ پر کام کرنے کے حوالے سے لوگوں کے لیے اجنبی شخصیت نہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق ان کے پاس 110 مرغیاں ہیں اور وہ ان سے حاصل ہونے والے انڈے اپنے آبائی علاقے میں بھیج کر ان کے بدلے میں گوشت اور دہی لیتے ہیں۔

وہ ہر ہفتے اپنے بچوں کے ساتھ مل کر مرغیوں کا شیڈ صاف کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PAVEL GOLOVKIN/AFP
Image caption ازبک صدر کہتے ہیں کہ وہ اپنی مرغیوں کے ڈربے کو خود صاف کرتے ہیں

ان کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ صدر بھی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ مختلف ہیں۔ آپ کو ہر روز کام کرنا ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں