150 برس سے خالی تصور کیے جانے والے تابوت میں حنوط شدہ لاش موجود تھی

The coffin being scanned in a CT machine تصویر کے کاپی رائٹ MACQUARIE MEDICAL IMAGING
Image caption تازہ مشاہدے کے دوران اس تابوت کا سی ٹی سکین بھی کیا گیا

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں 150 برسوں سے موجود بظاہر خالی مصری تابوت میں حنوط شدہ لاش موجود تھی۔

آسٹریلوی سائنسدانوں کے مطابق یہ تابوت 2500 برس پرانا ہے اور اس سے پہلے اسے خالی قرار دیا گیا تھا۔

یہ تابوت سڈنی کے یونیورسٹی میوزیم میں 150 سال سے پڑا تھا اور اسے کسی نے بھی نہیں چھیڑا۔

گذشتہ برس جب سائنسدانوں نے اس تابوت کو کھولا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اس میں انسانی پیروں اور ہڈیوں کے باقیات ملے۔

اس سے پہلے محققین نے کہا تھا تابوت میں موجود باقیات مقبرے نوادرات کے چوروں کی وجہ سے ضائع ہو گئے تھے۔

ماہر آثارِ قدیمہ ڈاکٹر جیمی فریزر کا کہنا تھا کہ یہ ایک یادگار دریافت ہے۔ ’یہ ناقابلِ یقین حد تک حیران کن تھا۔ یہ ان لمحوں میں سے ایک تھا جب آپ بس ایک سانس بھرتے ہیں اور ساکت ہو جاتے ہیں۔‘

یہ تابوت ان چار تابوتوں میں سے ایک تھا جو 1860 میں اس عجائب گھر کے بانی نے مصر سے آسٹریلیا لائے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NICHOLSON MUSEUM/UNIVERSITY OF SYDNEY
Image caption اس تابوت کو گذشتہ ہفتے کھولا گیا

ڈاکٹر فریزر کا کہنا ہے کہ محققین کی ساری توجہ باقی تین تابوتوں پر رہی اور اس یاوات کی جانب کسی نے دھیان ہی نہیں دیا۔

ماہرین اس حنوط شدہ لاش کی شناخت کی کوشش کریں گے جسے نوادرات چوری کرنے والوں نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا اور اس کے جسم کے محض دس فیصد باقیات ہی تابوت میں باقی رہ گئے ہیں۔

ڈاکٹر فریزر کے مطابق اس تابوت پر لکھی تصویری تحریر کے مطابق یہ 600 قبلِ مسیح کا ہے اور اسے کسی عورت کے لیے بنایا گیا تھا جو غالباً کوئی راہبہ یا کوئی عبادت گزار تھی۔

گذشتہ ہفتے کمپیوٹڈ ٹومو گرافی سکین کی مدد سے اس تابوت کے اندر دیکھا گیا۔ اس مشاہدے سے پتا چلا کہ اس کے اندر کئی ہڈیاں، پٹیاں، گوند کے ذرات، اور بطور کفن استعمال ہونے والے کپڑے کے 7000 سے زائد موتی موجود ہیں۔

ڈاکٹر فریزر کے مطابق ریڈیو کاربن مشاہدے سے اس بات کی تصدیق ہو جائے گی کہ اس کی ہلاکت 600 قبل مسیح میں ہی ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ MACQUARIE MEDICAL IMAGING
Image caption ان باقیات کے ریڈیو کاربن ٹیسٹ کیے جائیں گے

اسی بارے میں