خیبر پختونخواہ: ’58 فیصد ڈاکٹری نسخے سمجھ نہیں آتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایک رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی جانب سے لکھے گئے ایک ہزار نسخوں میں سے اٹھاون فیصد نسخے ایسے تھے جو سمجھ میں نہیں۔ اب صوبائی حکومت نے ڈاکٹری نسخوں کا بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

یہ تحقیقی رپورٹ پاکستان جنرل آف میڈیکل سائنسسز کی ہے۔ جس میں لکھا گیا ہے کہ اکثر نسخوں پر ڈاکٹروں کے نام نہیں ہوتے تو کہیں بیماری کی تشحص کا ذکر نہیں ہوتا۔

اس بارے میں خیبر پختونخوا ہیلتھ فاؤنڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر ندیم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو اپنی تجاویز دو مہینے میں دے گی اور اس تجویز پر بھی غور کیا جائے گا کہ ڈاکٹری نسخے ادویات کی بجائے کیمیائی نام سے لکھے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹری نسخوں پر بارہا بات چیت ہو چکی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ اکثر ڈاکٹروں کے نسخے میڈیکل سٹور میں دوکاندار بھی نہیں پڑھ سکتے اور وہ اندازوں سے ادویات دے دیتے ہیں۔

پاکستان میڈیکل جنرل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پشاور کے چھ بڑے ہسپتالوں اور میڈیکل سٹورز پر کل ایک ہزار ستانوے ڈاکٹری نسخوں کا معائنہ کیا گیا جس میں 58 فیصد سے زیادہ نسخوں کی سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی اور ننانوے فیصد نسخوں پر ڈاکٹر کا نام بھی نہیں تھا اور اٹھانوے فیصد پر رجسٹریشن نمبر نہیں تھا۔ اس رپورٹ کے مطابق 78 فیصد نسخوں میں بیماری کا ذکر بھی نہیں تھا۔

خیبر پختونخوا میں اب محکمہ صحت نے اقدامات شروع کر دیے ہیں جبکہ میڈکل سٹورز پر فارماسسٹ یا ادویہ میں تعلیم یافتہ افراد کو موجودگی کو ضروری قرار دیا جا چکا ہے اور ایسے میڈکل سٹورز جہاں باقاعدہ فارماسسٹ موجود ہوتے ہیں ان دکانوں کے بورڈز سرخ رنگ کے ہوتے ہیں اور انھیں اے کیٹگری دی گئی ہے جبکہ بی کیٹگری کے میڈیکل سٹورز کے بورڈز سبز رنگ کے ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر طاہر ندیم خان کے مطابق حکومت کے فیصلے سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں نافذ کیے جائیں گے اور ایک یہ تجویز بھی ہے کہ ہسپتالوں میں دی جانے والی او پی ڈی کی پرچی پر تمام ڈاکٹرز کا نام اور رجسٹریشن نمبر دیا جا سکتا ہے ۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں