انڈین خلائی ایجنسی کا فوجی مقاصد کے لیے بھیجے گئے سیٹیلائٹ سے رابطہ منقطع

انڈیا خلا

انڈین حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی قومی خلائی ایجنسی کا رابطہ اس سیٹیلائٹ سے منقطع ہو گیا ہے جسے دو دن پہلے ہی مدار میں چھوڑا گیا تھا۔

ملکی سطح پر تیار کیے جانے والی GSAT-6A سیٹلائٹ کو فوجی رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے تیار کی گیا تھا۔

خلا سے متعلق انڈیا کے تحقیقی ادارے اسرو کے سربراہ نے رپورٹرز کو بتایا کہ بدقسمتی سے پاور سپلائی کی بے قاعدگی کی رابطے کے منتقطع ہونے کا سبب بنی۔

خیال رہے کہ یہ گذشتہ ایک دہائی میں ایسا پہلا واقعہ ہے کیونکہ اس سے قبل دس سال کے دوران انڈیا کا کبھی اپنی سیٹلائٹ سے رابطہ منقطع نہیں ہوا تھا۔

اسرو کے مطابق وہ سیٹیلائٹ سے رابطہ بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کا وزن 2,066 کلوگرام ہے اور جس کی تیاری میں ساڑھے 29 ملین پاؤنڈ لگے ہیں۔

اس سیٹیلائٹ کی تیاری کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا تھا اور وزیراعظم نریندر مودی نے ٹوئٹ کے ذریعے بھی ملک سائنس دانوں کو مبارکباد دی تھی۔

یہ واقعہ انڈیا کے لیے ایک دھچکا ہے کیونکہ یہ خلا سے متعلق کھربوں ڈالر کی مارکیٹ کا ایک ابھرتا ہوا ملک ہے۔

سنہ 2014 میں انڈیا نے مریخ کے مدار میں اپنا خلائی جہاز بھیجا تھا اور دنیا کا وہ پہلا ملک بن گیا تھا جس نے پہلی ہی کوشش میں کامیابی حاصل کی تھی۔

2017 میں انڈیا نے 104 سیٹیلائٹس کو خلا میں بھیج کر نئی تاریخ رقم کی تھی۔

گذشتہ چند سالوں کے دوران انڈیا نے دنیا کے 21 ممالک کے 79 سیٹیلائٹس کو خلا میں لانچ کیا ہے جس میں گوگل اور ایئربس جیسی بڑی کمپنیوں کے سیٹیلائٹس بھی شامل تھے۔