ورزش کرو تو جسم کی چربی کہاں جاتی ہے؟

ورزش

یہ تو سب جانتے ہیں کہ ورزش کرنے والوں کی چربی کم ہو جاتی ہے لیکن یہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ان کی چربی آخر کہاں جاتی ہے۔

تقریبا 150 ڈاکٹروں، غذائی ماہرین اور ٹرینرز نے اس سوال کا غلط جواب دیا ہے۔

سوال بہت آسان ہے: جب کوئی ورزش کے ذریعے اپنا وزن کم کرتا ہے تو اس کے جسم کی چربی کہاں جاتی ہے؟

ان میں سے آپ کا جواب کیا ہو سکتا ہے؟

الف) چربی، توانائی اور گرمی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

ب) چربی پٹھوں یا عضلوں میں بدل جاتی ہے۔

ج) چربی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی میں تبدیلی ہو جاتی ہے۔

اگر آپ کا جواب الف یا ب ہے تو آپ فکر نہ کریں کیونکہ آپ آسٹریلیا کے نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی میں بائیومولیکولر سائنس کے سائنسدان روبین میرمین کے ایک سروے میں 147 ماہرین کی صف میں ہیں جنھوں نے غلط جواب دیے تھے۔

بہت سے ماہرین بھی اس کا جواب نہیں جانتے

سب سے زیادہ لوگوں نے یہ جواب دیا کہ چربی توانائی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ دراصل یہ طبیعاتی طور پر سیال مادے کے تحفظ کے اصول کے خلاف ہے کیونکہ اس میں تمام کیمیائی ردعمل کی پیروی کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

دوسرے جواب کے بارے میں میرمین کہتے ہیں کہ 'چربی کا عضلوں یا پٹھوں میں تبدیل ہونا ناممکن ہے۔'

سنہ 2014 میں برطانوی میڈیکل جرنل میں شائع شدہ میرمین کی تحقیق کے مطابق درست جواب ’ج‘ ہے یعنی چربی کاربن ڈائی آکسائڈ اور پانی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

اور اس کام میں پھیپھڑوں کا سب سے اہم کردار ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق چربی جسم سے پانی، پیشاب، پسینے، سانس اور دیگر سیال کی شکل میں باہر آتی ہے۔

میرمین نے 'دا کنزرویشن ڈاٹ کام' پر لکھا: 'اگر آپ دس کلو گرام چربی کم کرتے ہیں تو اس میں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شکل میں 8.4 کلو گرام باہر آئے گا جبکہ 1.6 کلو گرام سیال کی صورت میں۔'

دوسرے الفاظ میں عملی طور پر ہم جو وزن کم کرتے ہیں وہ سانس کی شکل میں باہر نکالتے ہیں۔

ڈاکٹروں سے غلطی کیوں؟

جن 150 طبی ماہرین سے یہ سوال پوچھا گیا ان میں سے صرف تین افراد نے درست جواب دیے۔

میرمین نے آسٹریلوی ماہرین کے درمیان یہ سروے کیا۔ لیکن انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ، برطانیہ اور بہت سے دوسرے یورپی ممالک میں بھی عام طور انھیں غلط جواب ملے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

میر مین کا کہنا ہے کہ ان کا جواب اس حقیقت پر مبنی ہے کہ ہم جو کچھ کھاتے ہیں اس میں جو آکسیجن شامل ہے اسے بھی اس میں شامل کیا جانا چاہیے۔

مثال کے طور پر، اگر آپ کے جسم میں 3.5 کلو گرام غذا اور پانی ہوتا ہے تو 500 گرام آکسیجن بھی ہوتا ہے۔ لہذا آپ کے جسم سے چار کلو وزن باہر نکلنا چاہیے۔

میرمین لکھتے ہیں کہ 'بصورت ديگر آپ کا وزن بڑھ جائے گا۔'

ان کے مطابق: 'وزن کم ہونے کے لیے چربی کے خلیات سے کاربن کو نکالنے کی ضرورت ہے۔'

سانس لینے کے دوران ہم کاربن باہر نکالتے ہیں۔ لہذا اگر ہم زیادہ سانس لیں گے تو کیا ہم کاربن میں تبدیل ہونے والی چربی کو کم کرنے کے قابل ہو جائیں گے؟

میرمین لکھتے ہیں: 'بدقسمتی سے، یہ نہیں ہوسکتا ہے، کیونکہ زیادہ سانس لینے سے ہائپر وینٹلیشن ہو جائے گا اور آپ کو چکر آ سکتا ہے اور بے ہوش بھی ہو سکتے ہیں۔

'آپ کے جسم سے خارج ہونے والے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں ایک ہی صورت میں اضافہ ہو سکتا ہے جب آپ کے پٹھوں کی سرگرمی میں اضافہ ہو۔'

سب سے مؤثر حل کیا ہے؟

ورزش کے علاوہ میرمین نے کئی دوسرے طریقے بتائے جس سے ہم کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر 75 کلوگرام وزن کا ایک شخص آرام کی حالت میں 590 گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کرتا ہے۔

میرمین کا کہتے ہیں کہ 'کوئی دوا یا مشروب اس میں اضافہ نہیں کر سکتا۔'

سوتے وقت ایک شخص تقریبا 200 گرام کاربن ڈائی آکسائڈ پیدا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، صرف کھڑے ہونے اور تیار ہونے کی حالت میں آپ کی میٹابولک شرح ڈبل ہو جاتی ہے۔ ٹہلنے، کھانا پکانے اور گھر کی صفائی وغیرہ میں یہ تین گنا ہو جاتی ہے۔

میرمین کہتے ہیں کہ اگر آپ وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو 'کم کھائيں اور جسم کو زیادہ سے زیادہ حرکت میں رکھیں۔'

آخر میں، وہ کہتے ہیں کہ 'کوئی بھی غذا جو آپ کے جسم میں کم توانائی لائے، وزن کم کرنے میں بہت مؤثر ثابت ہوگا۔'