ڈیٹا چوری ہونے والے صارفین کے لیے فیس بک کی جانب سے انتباہ

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption فیس بک کے صارفین کو سکرین پر یہ دو پیغامات ملیں گے

فیس بک کے صارفین کو برطانیہ کے مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے یہ معلوم ہو جائے گا کہ کیا وہ ان ساڑھ آٹھ کروڑ صارفین میں شامل ہیں جن کے اکاؤنٹ کی معلومات کیمبرج اینالیٹیکا کو دی گئی تھیں یا نہیں۔

کمپنی کی جانب سے کہا گیا کہ صارفین کو یہ بھی بتایا جائے گا کہ انھوں نے کونسی ایپس استعمال کی تھیں اور ان کی مدد سے کون سا ڈیٹا جمع کیا گیا تھا۔

فیس بک نے ساتھ ساتھ ڈیٹا جمع کرنے والی ایک اور کمپنی کیوب یو کو بھی معطل کر دیا ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’ہم سے غلطیاں ہوئی ہیں‘، فیس بک کے بانی کا اعتراف

امریکی وفاقی ٹریڈ کمیشن فیس بک کی تحقیقات کرے گا

آپ اپنے فیس بک ڈیٹا کو کیسے محفوظ بنا سکتے ہیں؟

فیس بک اس بات کی تحقیق کر رہا ہے کہ آیا کیوب یو نے کیمبرج یونیورسٹی کے ساتھ مل کر تعلیمی مقاصد کے لیے جمع کیا گیا ڈیٹا کمرشل طور پر تو استعمال نہیں کیا۔

فیس بک کا تفتیش کا یہ فیصلہ خبر رساں ادارے ’سی این بی سی‘ کی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے۔

دوسری جانب کیوب یو نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی اور کیوب یو دونوں نے کہا ہے کہ ایپ کے استعمال کے قوانین میں یہ واضح طور پر درج ہے کہ حاصل کیا گیا ڈیٹا تعلیمی اور کمرشل طور پر استعمال کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ cambridge university / cubeyou

یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فیس بک کے بانی مارک زکربرگ امریکی کانگریس کو کپمنی کے ڈیٹا کے حوالے سے شروع ہونے والے سکینڈل کے بعد حلفیہ بیان دیں گے۔

کیمبرج یونیورسٹی نے کہا ہے کہ انھوں نے کیوب یو کے ساتھ مل کر ایک ویب سائٹ بنائی تھی اور جو لوگ اسے استعمال کر رہے تھے ان کو اس بات کا علم تھا کہ ان سے لی گئی معلومات تعلیمی اور کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کی جائیں گی اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ ڈیٹا کا استعمال شناخت کے بغیر کیا گیا۔

یونیورسٹی نے یہ بات واضح کی کہ جون 2015 کے بعد سے ان کا کیوب یو سے کوئی تعلق یا رابطہ نہیں رہا۔

واضح رہے کہ ماضی میں بھی کیمبرج یونیورسٹی نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ انھوں نے کیمبرج اینالیٹیکا کمپنی کے ساتھ کوئی کام کیا تھا یا کوئی ڈیٹا اور دیگر معلومات ان کو دی تھیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں