کیا فیس بک کی ریگولیشن ممکن ہے؟

مارک زکربرگ تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اس ہفتے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے امریکی کانگریس کے سامنے اپنی غلطی تسلیم کی ہے کہ وہ صارفین کا تیسری پارٹی کو دیا جانے والا ڈیٹا چوری ہونے سے روکنے میں ناکام رہے ہیں۔

تاہم انھوں نے فیس بک کی جانب سے اس ڈیٹا کو بیچنے سے متعلق سوالات کے جواب واضح طور پر نہیں دیے۔

ماضی میں صارفین کی معلومات کے استعمال، جعلی خبریں، پاکستان، انڈیا اور خود امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے پیش نظر فیس بک دباؤ کا شکار ہے کہ وہ اپنے صارفین کو بتائے کہ ان کی معلومات کون اور کیسے استعمال ہو رہی ہیں؟

اس بارے میں فیس بک کا دعویٰ ہے کہ اس نے اپنے صارفین کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ اپنا ڈیٹا اپنی مرضی کے علاوہ استعمال نہ ہونے دے۔ مارک زکربرگ نے تسلیم کیا ہے کہ وہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ان لوگوں کی معلومات بھی جمع کرتے ہیں جو فیس بک پر نہیں مگر انٹرنیٹ پر جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

’فیس بک کی روس کے ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ ہے‘

’ہم سے غلطیاں ہوئی ہیں‘، فیس بک کے بانی کا اعتراف

آپ اپنے فیس بک ڈیٹا کو کیسے محفوظ بنا سکتے ہیں؟

آپ اپنے فیس بک ڈیٹا کو کیسے محفوظ بنا سکتے ہیں؟

’فیس بک صارفین کی گفتگو نہیں سنتا‘

بیشتر ماہرین کا کہنا ہے کہ بجائے اس بحث کہ صارفین کی ذاتی معلومات چوری کیوں ہوئیں، مارک زکربرگ بتائیں کہ آخر وہ اتنے بڑے پیمانے پر لوگوں کی ذاتی معلومات جمع کیوں کر رہے ہیں؟

کیا فیس بک (اور دیگر سوشل میڈیا میڈیا ویٹ سائٹوں) کی ریگولیشن یعنی قانون سازی ممکن ہے؟

اس سلسلے میں انٹرنیٹ صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے نیویارک میں مقیم ایون گریر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ڈیٹا جمع کرنے کے بعد اس کا تخفظ یقینی بنانا مشکل ہے اس لیے سب سے پہلے ایک پالیسی بنائی جائے جس کے تحت فیس بک یا سوشل میڈیا کمپنیوں کو ذاتی معلومات یا ڈیٹا جمع کرنے کی کو کھلی چھٹی دینے کی بجائے محدود کیا جائے تاکہ ڈیٹا کا غلط استعمال کم سے کم ہو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بیشر صارفین کا مطالبہ ہے کہ چند ترامیم کے ساتھ امریکہ بھی یورپ کی طرز کا جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن کا قانون لائے تاکہ ڈیٹا کے تخفظ میں ناکامی کی صورت میں سزا کا تعین کیا جا سکے۔

اس سلسلے میں ایون گریر نے کہا ’آپ اگر صرف مارک زکربرگ کو شرارتی بچہ قرار دے کر یہ کہہ رہے ہیں کہ آئندہ مت کرنا تو اس سے معاملہ حل نہیں ہو گا۔ جب تک اس طرح کی کوتاہی کی سزا نہیں دی جاتی اس وقت تک اس بحث کے معنی خیز نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ ‘

کیا اس کے لیے امریکی قانون ساز تیار ہیں؟

اس سلسلے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے واشنگٹن میں سائبر سیکورٹی کے ماہر طلحہ محدوم نے کہا ’جس طرح کے سوالات بعض امریکی قانون دانوں نے مارک زکربرگ سے پوچھے اس سے لگتا ہے انھیں ابھی یہ سمجھ ہی نہیں کی سوشل میڈیا پر کمپنیاں ڈیٹا کیسے اور کیوں جمع کرتی ہیں؟

ان کمپنیوں کے پاس وکلا کی ٹیمیں ہیں جو انھیں کمزور قانون سازی کا فائدہ اٹھانے میں مدد فراہم کر رہی ہیں۔ کوئی بھی موثر قانون سازی تبھی ممکن ہے جب سیاستدان ان معاملات کو سمجھیں۔‘

ایون گریر کا کہنا ہے امریکی کانگریس فی الحال اس سلسلے میں کوئی جامع پالیسی نہیں چاہتی کیونکہ بعض سیاستدان جنھوں نے مارک زکربرگ سے سخت سوال پوچھے یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے امریکی انٹرنیٹ پرائیویسی کے قانون کو ختم کرنے کے حق میں ووٹ ڈالا۔ انھی سیاستدانوں نے امریکی سرویلنس کو شفاف بنانے کی لیے متعارف کرائے جانے والی پرائیویسی اصلاحات کے مسودے کے خلاف ووٹ دیا۔

خیال رہے کہ امریکی انٹرنیٹ پرائیویسی کا قانون سابق صدر اوباما کے دور میں بنایا گیا تھا تاکہ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کپمناں صرف صارفین کی وہی معلومات اکھٹی کریں جن کی صارف اجازت دے مگر ٹرمپ انتظامیہ نے اس قانون کو ختم کر دیا ہے جس کے بعد یہ کمپنیانں ڈیٹا جمع کرنے میں آزاد ہو گئی ہیں۔

اس سلسلے میں سماجی کارکن ستنم سنگھ الزام لگاتے ہیں کہ ’یہ سیاستدان ان انٹرنیٹ کمپنیوں کی جیب میں ہے یا پھر انٹیلیجنس ایجنسیوں کے دباو میں ہیں اس لیے مجھے ان سے زیادہ توقع نہیں کہ وہ صارفین کے حق میں قانون سازی کریں۔‘

ماہرین متفق ہیں ہے کہ اس صورت حال میں لازم ہے کہ انٹر نیٹ صارفین ان کمپنیوں اور سیاستدانوں پر زور ڈالیں کہ ان کا ڈیٹا محفوظ بنانے کے لیے جلد ازجلد موثر اقدامات کیے جائیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں