یوٹیوب نے 80 لاکھ سے زائد ویڈیوز حذف کر دیں

یوٹیوب تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یوٹیوب کا کہنا ہےکہ اکتوبر سے دسمبر 2017 کے دوران 83 لاکھ ویڈیوز ضائع کی گئیں۔

ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب کا کہنا ہے کہ اُس نے تین ماہ کے دوران ضوابط کی خلاف ورزی پر مبنی مواد والی 80 لاکھ سے زائد ویڈیوز کو تلف کیا ہے۔

یو ٹیوب نے یہ اعدادوشمار اپنی ’انفورسمنٹ رپورٹ‘ میں جاری کیے ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اکتوبر سے دسمبر 2017 کے دوران 83 لاکھ ویڈیوز اپنی ویب سائٹ سے ہٹائیں۔

اس بارے میں مزید جانیے

’گستاخانہ مواد پھیلانے والوں کو کڑی سزائیں دی جائیں‘

’یہود مخالف رویہ‘، ڈزنی کا یوٹیوب سٹار سے قطع تعلق

24 گھنٹوں میں نفرت انگیز مواد ہٹانے کا قانون

رپورٹ کے مطابق جنسی مواد پر مبنی ویڈیوز کو 91 لاکھ جبکہ نفرت انگیز مواد پر مبنی ویڈیوز کی شکایت 47 لاکھ افراد نے کی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ویب سائٹ کے ضابطۂ کار کی خلاف ورزی پر مبنی مواد زیادہ تر شکایات انڈیا، امریکہ اور برازیل سے آئیں۔

یوٹیوب کا کہنا ہے کہ ضابطۂ کار کی نگرانی کے نظام نے 67 لاکھ ویڈیوز کی نشاہدہی کی جسے بعد میں مختلف معائنہ کاروں کو بھیجنے کے بعد تلف کیا گیا۔

کمپنی نے بی بی سی کو بتایا کہ ضائع کی گئی ویڈیوز کے ’فنگر پرنٹ‘ محفوظ ہیں تاکہ اگر یہ ویڈیوز دوبارہ اپ لوڈ کی جائیں تو ان پتہ لگایا جا سکے۔

یاد رہے کہ رواں سال مارچ میں برطانیہ میں کالعدم قرار دی گئی تنظیم نیو نازی گروپ نیشنل ایکشن کی چار پراپیگنڈہ ویڈیو کو ہٹانے میں ناکامی پر یوٹیوب کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

کمپنی پر بچوں کے لیے بنائی گئی موبائل ایپ میں استعمال کیے گئے الگورتھم پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ بچوں کے لیے یو ٹیوب کے اس ایپ پر اکثر اوقات نامعقول ویڈیو نظر آنے لگتی ہیں۔

یو ٹیوب نے مطلع کرنے کے طریقہِ کار یا ’رپورٹینگ ڈیش بورڈ‘ کے ساتھ ساتھ اپنے صارفین کے لیے یہ سہولت بھی متعاروف کروانا کا اعلان کیا ہے جس کے ذریعے وہ غیر مناسب مواد پر مبنی ویڈیوز کے حیثیت کا بھی پتہ لا سکتے ہیں۔

ذیل میں ان دس ممالک نے سب سے زیادہ ویڈیوز کے بارے میں شکایت کی اور ان کی نشاندہی کے گئی۔

  • انڈیا
  • امریکہ
  • برازیل
  • روس
  • جرمنی
  • برطانیہ
  • میکسیکو
  • ترکی
  • انڈونیشیا
  • سعودی عرب

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں