امریکہ: مردانہ عضو، فوطوں کی تھیلی اور پیٹ کے جزوی حصے کی کامیاب پیوندکاری

11 ماہرینِ نے اس سرجری میں شرکت کی تصویر کے کاپی رائٹ Johns Hopkins Medicine
Image caption اس سرجری میں 14 گھنٹے لگے 11 ماہرینِ نے سرجری میں شرکت کی

امریکہ میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے دنیا میں پہلی بار عضو تناسل اور سکروٹم یعنی فوطوں کی تھیلی کی کامیاب پیوندکاری کی ہے۔

امریکہ میں جانز ہاپکنز یونیورسٹی میں ڈاکٹروں نے جس فوجی کا آپریشن کیا وہ افغانستان میں ایک بم دھماکے میں زخمی ہو گیا تھا۔

ڈاکٹروں نے پیوندکاری کے لیے عضو تناسل، سکروٹم اور سرجری کے لیے پیٹ کے پردے کے حصے ایک ایسے ڈونر سے حاصل کیے جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ فوجی کا جنسی فنکشن بحال ہو جانا چاہیے جو کہ عموماً عضو تناسل کی ’ری کنسٹرکشن‘ میں ناممکن ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مریض کے دماغ سے 1.8 کلو کا ٹیومر نکالا گیا

موٹاپے کے تمسخر کا فائدہ، مفت سرجری

اس سرجری میں 14 گھنٹے لگے اور اس میں 11 ماہرین نے حصہ لیا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ جنگ میں زخمی ہونے والے کسی فوجی کے لیے اتنا بڑا آپریشن کیا گیا ہو جس میں عضو تناسل، پیٹ کے حصے اور سکروٹم کی مکمل پیوندکاری کرنا پڑی ہو۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اخلاقی نقطہِ نظر کی وجہ سے عطیہ کنندہ کے فوطے ٹرانسپلانٹ نہیں کیے گئے۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی میں شعبہِ پلاسٹک اینڈ ری کنسٹرکٹیو سرجری کے سربراہ ڈاکٹر اینڈریو لی کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ ظاہری طور پر انسانی اعضا کھونے والوں کی معذوری سب کو نظر آتی ہے مگر کچھ ایسے چھپے ہوئے زخم ہوتے ہیں جن کو دوسرے لوگ زیادہ سمجھ نہیں سکتے۔‘

انھوں نے بتایا کہ 2014 میں ’انٹیمیسی آفٹر انجری‘ کے موضوع پر ایک کانفرنس میں انھوں نے ان زخمی جنگجوؤں کے خاندان والوں سے سنا کہ جنسی اعضا کے زخم ان کی شناخت، عزتِ نفس اور قریبی رشتوں پر کتنا برا اثر ڈالتے ہیں۔

مذکورہ آپریشن کروانے والے فوجی کی خواہش ہے کہ اس کی شناخت ظاہر نہ کی جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انھیں مکمل طور پر صحت یاب ہونے میں چھ ماہ سے ایک سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں