سٹیون ہاکنگ کی آخری تحقیق: کائنات ایک نہیں ان گنت ہیں

سٹیون ہاکنگ
Image caption سٹیون ہاکنگ 14 مارچ کو 76 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے

پروفیسر سٹیون ہاکنگ کے آخری تحقیقی مقالے میں لکھا تھا کہ کائنات اکیلی نہیں بلکہ ممکنہ طور پر اس جیسی متعدد کائناتیں پائی جاتی ہیں۔

یہ نظریہ خود پروفیسر ہاکنگ کی جانب سے پیش کردہ ایک پہیلی سے شروع ہوا اور وہ اپنی زندگی کے آخری دنوں تک اس کا جواب تلاش کرنے کے لیے سرگرداں تھے۔

اس مقالے میں انھوں نے متوازی کائناتوں کے شواہد حاصل کرنے کے لیے ماہرینِ فلکیات کی رہنمائی بھی کی ہے۔

یہ مقالہ ہاکنگ نے اپنی موت سے صرف دس دن پہلے جرنل آف ہائی انرجی فزکس کو بھیجا تھا۔

1980 کی دہائی میں سٹیون ہاکنگ اور امریکی طبیعیات دان جیمز ہارٹل نے کائنات کے آغاز کے بارے میں ایک نیا تصور پیش کیا تھا۔

اس سے پہلے آئن سٹائن کے نظریے کے مطابق کائنات کا آغاز پونے 14 ارب سال قبل ایک عظیم دھماکے سے ہوا تھا جسے بِگ بینگ کہا جاتا ہے۔ لیکن اس نظریے کا مسئلہ یہ ہے کہ اس سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ کائنات کی ابتدا کیسے ہوئی۔

اس معمے کے حل کے لیے ہاکنگ اور ہارٹل نے ایک اور نظریے یعنی کوانٹم مکینکس کا سہارا لیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات عدم سے وجود میں آ سکتی ہے، یعنی اس کی ابتدا کے لیے پہلے کسی بھی چیز کی موجودگی ضروری نہیں ہے۔

جب دوسرے سائنس دانوں نے اس نظریے کا غور سے جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ اس طرح بگ بینگ سے صرف ایک نہیں بلکہ ان گنت کائناتیں تشکیل پا سکتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ DETLEV VAN RAVENSWAAY/SCIENCE PHOTO LIBRARY
Image caption بگ بینگ سے ایک نہیں، بلکہ ممکنہ طور پر متعدد کائناتیں وجود میں آئی ہیں

ان میں سے بعض کائناتیں بالکل ہماری کائنات کی طرح کی ہوں گی، جس میں شاید زمین کی طرح سے سیارے ہوں، ان پر ہماری طرح انسانوں کی آبادی ہو، بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ لاتعداد کائناتوں میں سے کسی ایک میں بالکل آپ کی طرح کا کوئی شخص بھی رہتا ہو۔

اس کے علاوہ دوسری کائناتیں ایسی بھی ہو سکتی ہیں جو ہماری کائنات سے یکسر مختلف ہوں، جن میں نہ ستارے ہوں، نہ کہکشائیں، بلکہ ان میں فزکس کے قوانین ہی بالکل جداگانہ ہوں۔

بظاہر تو یہ باتیں تخیلاتی معلوم ہوتی ہیں، لیکن ہاکنگ ہارٹل نظریے کی مساواتوں میں اس قسم کی صورتِ حال نظری طور پر ممکن ہے۔

تاہم ایک مسئلہ اب بھی ہے۔ اگر کائناتیں لامتناہی ہیں اور ان میں فزکس کے قوانین کا تنوع بھی لامتناہی ہے تو پھر یہ نظریہ نہیں بتاتا کہ ہم کیسے اس کائنات میں آ بسے ہیں۔

پروفیسر ہاکنگ نے بیلجیئم کی کے یو لیووین یونیورسٹی کے پروفیسر ٹامس ہرٹوگ کے ساتھ مل کر یہ پہیلی سلجھانے کا بیڑا اٹھایا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: 'میں اور سٹیون دونوں اس صورتِ حال سے مطمئن نہیں تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاتعداد کائناتوں کا مجموعہ (جسے 'ملٹی ورس' کہا جاتا ہے) بالکل تُکے سے نمودار ہوا اور ہم اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ لیکن (اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے) ہم نے ہمت نہیں ہاری۔'

پروفیسر ہاکنگ کا آخری مقالہ ان کی اور پروفیسر ہرٹوگ کی 20 سالہ محنت کا ثمر ہے۔

اس مقالے میں ایک اور سائنسی نظریے 'سٹرنگ تھیوری' میں استعمال ہونے والی پیچیدہ ریاضی کی تکنیک استعمال کی گئی ہے جس کی مدد سے سائنس دانوں کو سائنسی نظریات کو ایک نئی روشنی میں دیکھنے میں مدد ملتی ہے۔

مقالے کے مطابق صرف ایسی کائناتیں تشکیل پا سکتی ہیں جن میں فزکس کے قوانین ہماری کائنات سے ملتے جلتے ہوں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری کائنات بالکل عام سی ہے اور اسی لیے ہم اپنے نقطۂ نظر سے دوسری کائنات کے آغاز کے بارے میں بامعنی تخمینے لگا سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ NASA/SCIENCE PHOTO LIBRARY
Image caption پروفیسر ہاکنگ کے آخری مقالے سے متوازی کائناتوں کو سراغ لگانے میں مدد مل سکتی ہے

پروفیسر ہرٹوگ کہتے ہیں کہ یہ تصورات ذہن کو چکرا دینے والے ہیں لیکن ان سے سائنس دانوں کو کائنات کی وجود میں آنے کا حتمی نظریہ قائم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

'فزکس کے قانون ہمیشہ سے موجود نہیں تھے، یہ بگ بینگ کے ساتھ وجود میں آئے ہیں۔ ان قوانین کی نوعیت کا انحصار بگ بینگ کے وقت پر موجود طبعی حالات پر ہے۔ ان حالات کے مطالعے سے ہم زیادہ گہرائی سے سمجھ سکتے ہیں کہ یہ قوانین کیسے پیدا ہوئے اور آیا یہ منفرد ہیں یا نہیں۔'

پروفیسر ہرٹوگ کے مطابق اس تحقیق کا ایک انتہائی دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس سے سائنس دانوں کو بگِ بینگ کے بعد پیدا ہونے والی شعاعوں کا مطالعہ کرنے سے دوسری کائناتوں کا سراغ بھی مل سکتا ہے۔

لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک کائنات سے دوسری تک کا سفر بھی ممکن ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں