انڈیا میں آنے والے حالیہ طوفان اتنے تباہ کن کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گردوباد والا طوفان بعد میں بارش، آسمانی بجلی اور اولے والا طوفان بن گیا

انڈیا میں حکام نے کہا ہے کہ حالیہ طوفان گردوباد کے اتنے مہلک ہونے کی وجہ ان کے آنے کا وقت تھا کیونکہ طوفان کے وقت لوگ اپنے گھروں میں سو رہے تھے۔

125 ہلاکتوں میں سے زیادہ تر اموات عمارتوں اور دوسری تعمیرات کے گرنے سے ہوئی ہیں۔

لیکن محکمۂ موسمیات نے تباہ کن طوفان کے بارے میں یہ بات بھی کہی ہے کہ ہوا کا نیچے کی طرف شدید دباؤ تھا جسے 'ڈاؤن برسٹ' کہا جاتا ہے۔

ہوا افقی کے بجائے عمودی تھی اور اس لیے اس کے عمارتوں میں پر زیادہ تباہ کن اثرات مرتب ہوئے اور نتیجتاً زیادہ اموات ہوئيں۔

بہت زیادہ درجۂ حرارت کے بعد یہ طوفان آيا

سرحد پار پاکستان میں مقامی میڈیا کے مطابق نواب شاہ شہر میں 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجۂ حرارت ریکارڈ کیا گيا جو کہ اپریل کے مہینے میں ایک ریکارڈ ہے۔

طوفان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تیز ہواؤں اور آسمانی بجلی نے بہت سے گھر تباہ کر دیے

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زیادہ درجۂ حرارت کا شدید قسم کے طوفان کی آمد میں اہم کردار ہوتا ہے جو کہ انڈیا کے شمال مغربی علاقے میں پیدا ہوا۔

لیکن یہ جب پنجاب اور اترپردیش اور مزید مشرق کی جانب پہنچا تو یہ صرف طوفان گردوباد نہ رہا بلکہ آسمانی بجلی اور تیز بارش والا طوفان بن گيا۔

یہ بھی پڑھیے

٭ انڈیا: آندھی سے 125 ہلاک، مزید طوفانوں کی پیشن گوئی

٭ تاج محل کے دو مینار منہدم ہو گئے

موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج بنگال سے اٹھنے والی ہوا نے فضا میں نمی بکھیر رکھی تھی جو کہ مغرب سے اٹھنے والی تباہ کن ہوا سے مل گئی۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے طوفان کے لیے زیادہ درجۂ حرارت، نمی اور فضا میں ہلچل موزوں ترین مرکب ہوتے ہیں۔

انڈیا کے محکمۂ موسمیات نے بتایا ہے کہ گذشتہ 20 سال میں اس طوفان سے سب سے زیادہ تباہی ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سب سے زیادہ اموات آگرہ ضلعے میں ہوئیں

انھوں نے مزید خراب موسم کا انتباہ بھی جاری کیا ہے اور کہا کہ آنے والے چند دنوں میں آسمانی بجلی اور طوفانی بارشیں آ سکتی ہیں۔

یہ شدید گردوباد اور بجلی بارش والا طوفان اس وقت آیا ہے جب انڈیا کی کئی ریاستوں میں تیزی سے ریگستان کے بڑھنے کے عمل پر تشویش ظاہر کی جا رہی تھی۔

وزیر ماحولیات کا کہنا ہے کہ ملک کی ایک چوتھائی زمین ریگستان ہوتی جا رہی ہے جبکہ ماہرین کا خیال ہے کہ اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہیں۔

زیادہ ریگستان ہونے کا مطلب زیادہ تباہ کن اور شدید طوفان ہیں۔

ماحولیات کے سائنسدانوں نے پیش گوئی کی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے سبب جنوبی ایشیا کے اس خطے میں قحط سالی مزید شدید ہو جائے گی۔

اور اس کی وجہ سے حالیہ طوفان گرودباد جیسے طوفان جلدی جلدی اور بار بار آئيں گے۔

اسی بارے میں