’ذیابیطس سے سالانہ ڈیڑھ سے دو لاکھ پاکستانی معذور ہو رہے ہیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
دیکھتے ہی دیکھتے ذیابیطس نے کریم بخش کو معذور اور ان کے کھلیانوں کو ویران کر دیا

صوبہ پنجاب کے شہر مظفر گڑھ میں، 65 سالہ کریم بخش بیساکھی پکڑے اپنی بنجر زمین کو آہ بھر کر دیکھتے ہیں۔ ایک وقت تھا ان کھیتوں میں ہریالی لہلہاتی تھی پھر کریم کو ذیابیطس یا شوگر کی بیماری ہو گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس مرض نے انہیں معذور اور ان کے کھلیانوں کو ویران کر دیا۔

’انفیکشن کی شروعات پاؤں کی ایک انگلی کے زخم سے ہوئی اور پھر پورا پاؤں کالا ہو گیا۔ مسئلہ بڑھتا ہی گیا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ ذیابیطس کے باعث میری ٹانگ کی رگیں متاثر ہو گئی ہیں اور واحد حل تھا کہ ٹانگ کاٹ دی جائے۔ تو میں نے کہا پھر کاٹ دیں۔ جان تو بچ گئی لیکن اب میری آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ میں نے جو زمین ٹھیکے پر دی تھی اس کے بدلے مجھے گندم مل چکی ہے۔ اب کچھ باقی نہیں۔‘

یہ کہانی صرف کریم بخش کی نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

آپ کب تک زندہ رہیں گے؟

طویل العمری کے بارے میں نو حقائق

’ہر چوتھا پاکستانی ذیابیطس کا شکار ہے‘

پاکستان میں 70 لاکھ افراد کو ذیابیطس کا خدشہ

ذیابیطس کے مریضوں کے اعضا میں السر کے باعث انفیکشن ہو جاتا ہے اور انھیں کاٹنا پڑتا ہے لیکن یہ مستقل حل نہیں ہے۔ معذوری کے باوجود بیشتر مریضوں کو بار بار آپریشنز کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ کریم کے دوسرے پاؤں میں بھی السر دیکھا جا سکتا ہے۔ جب کریم سے پوچھا گیا کہ وہ دوسرے پاؤں کا علاج کب کروائیں گے تو ان کا جواب تھا، ’مصنوعی ٹانگ لگوانے کے بعد سوچوں گا۔‘

کریم اپنا مزید علاج کروانے کے لیے جھجک رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ لوگ اپنا علاج تب کرواتے ہیں جب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

ہر سال ذیابیطس کے مرض کے باعث پاکستان میں تقریباً ڈیڑھ سے دو لاکھ افراد معذور ہو جاتے ہیں۔ بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائیبٹیز کے ڈائریکٹر پروفیسر عبدالباسط کی حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر چار میں سے ایک فرد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہے اور یہ تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

Image caption کریم بخش اپنا مزید علاج کروانے کے لیے جھجک رہے ہیں

انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ میٹرکس اینڈ اویلوئیشن کے پاکستان کے بارے میں اعدادوشمار کے مطابق ذیابیطس پاکستان میں معذوری کی ساتویں بڑی وجہ ہے اور 2005 سے 2016 کے درمیانی عرصے میں اس کے متاثرین میں 67 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

یہی نہیں بلکہ ذیابیطس پاکستان میں ہلاکتوں کی آٹھویں بڑی وجہ بھی ہے اور 2005 کے مقابلے میں اس سے متاثرہ افراد کی ہلاکتوں میں 50 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

بروقت علاج سے ذیابیطس کے مریضوں کے اعضا اور جان بچائی جا سکتی ہے لیکن صحت کی غیرمعیاری سہولیات اور آگاہی کی کمی کے باعث اکثر علاج میں بہت دیر ہو جاتی ہے۔

شالیمار ہسپتال کے سکینہ ڈائیبیٹیز انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر بلال نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان میں موجودہ طرز زندگی کے باعث لوگوں میں ذیابیطس کا مرض تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس پر ستم یہ کہ ڈاکٹر کے پاس جانے کے بجائے لوگ گھر پر ٹوٹکے آزما کر اپنا علاج کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔

’ہمیں اس بات کی آگاہی پھیلانی چاہیے کہ زخم کا بروقت علاج نہ ہو تو وہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے اور اسے کسی بھی قیمت پر مت ٹالیں، فوری علاج کروائیں۔‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ذیابیطس کے مریض صرف وزن کم کرنے سے ہی ٹھیک ہو سکتے ہیں

ذیابیطس سے متعلق آگاہی کے لیے قومی سطح پر کچھ ڈاکٹرز دور دراز علاقوں میں جا کر ضروری معلومات اور فری چیک اپ کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں لیکن یہ کافی نہیں اور یہ مسئلہ صرف دیہات تک محدود نہیں۔

پاکستان کے دوسرے سب سے بڑے شہر لاہور میں ملک نوید ہسپتال میں گیارہویں آپریشن کے لیے داخل ہیں۔ ان کے پچھلے آپریشن میں دائیں گھٹنے کے نیچے سے پوری ٹانگ کاٹنی پڑی۔

لاہور میں پرانی عمارتوں میں ملبہ خریدنے اور بیچنے کا کاروبار کرنے والے ملک نوید نے ذیابیطس سے متاثرہ ٹانگ کے علاج میں اپنا سب کچھ بیچ دیا۔ اب ان کے پاس مصنوعی ٹانگ لگوانے کے بھی پیسے نہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ملک نوید نے بتایا کہ مرض کے ابتدائی دنوں میں انھوں نے پرائیویٹ علاج کروایا لیکن سرجری کے بعد سرجری کے باعث انھیں جنرل وارڈ میں شفٹ ہونا پڑا۔

Image caption ذیابیطس پاکستان میں ہلاکتوں کی آٹھویں بڑی وجہ بھی ہے

’ظاہر ہے اگر میرے پاس پیسے ہوتے تو میں بھی بروقت اور اچھا علاج کرواتا۔ اب میں خود کو دیکھتا ہوں، پھر اپنے بچوں کو دیکھتا ہوں۔ اب میں کیا کروں گا، مجھے اب آگے صرف اندھیرا ہی دکھائی دیتا ہے۔‘

48 سالہ ملک نوید رشتہ داروں سے قرضہ لے کر گھر کا چولہا چلا رہے ہیں۔ ان کی حکومت سے اپیل ہے کہ سستے علاج کے ساتھ اگر ذیابیطس کے مریضوں کی آپریشن کے بعد بحالی کا بھی انتظام کیا جائے تو ان جیسے افراد معذوری کی زندگی گزارنے کے بجائے معاشرے کا مثبت حصہ بن سکیں گے۔

’میری خواہش ہے کہ اپنی بیٹی کو ڈاکٹر بناؤں تاکہ علاج کے لیے جس طرح مجھے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، وہ اور لوگوں کو نہ کرنا پڑے۔ کاش پاکستان میں صحت کا نظام بہتر ہو سکے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں