رات کو بہتر نیند کے لیے یہ چھ باتیں آزمائیے

الارم کے لیے موبائل فون بستر کے پاس رکھنے کے بجائے الارم والی گھڑی رکھنی چاہیے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption الارم کے لیے موبائل فون بستر کے پاس رکھنے کے بجائے الارم والی گھڑی رکھنی چاہیے

ماہرین کے مطابق کئی ایسے کام ہیں جو ہم انجانے میں کرتے چلے جاتے ہیں۔ ہمیں احساس نہیں ہوتا کہ وہ ہماری نیند کو کس حد تک متاثر کرتے ہیں۔

نیند پوری نہ ہونے یا ہمارے جسم کے اندر کی گھڑی یعنی باڈی کلاک متاثر ہونے سے ہم ڈیپریشن اور بائی پولر ڈس آرڈر جیسے امراض کی زد میں بھی آ سکتے ہیں۔ اس لیے اچھی نیند کی ضرورت کو سمجھنا بہت اہم ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایسا کیا کیا جائے کہ نیند میں خلل نہ پڑے۔

شام کو روشنی کی حد مقرر کیجیے

موبائل فون اور لیپ ٹاپ کا استعمال ان دنوں نشے کی طرح عام ہو رہا ہے۔ متعدد افراد تو لیپ ٹاپ پر گھنٹوں ڈرامے اور فلمیں دیکھتے رہتے ہیں لیکن کم ہی جانتے ہیں کہ ایسا کرنے سے ہماری نیند بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

یہ الیکٹرانک آلات ایک خاص طرح کی طاقتور نیلی روشنی چھوڑتے ہیں۔ اس روشنی کی وجہ سے جسم میں میلاٹونن ہارمون ٹھیک سے نہیں چھوٹ پاتا ہے۔ یہ وہ ہارمون ہے جو نیند کے لیے ذمہ دار ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’جیسے پاؤں پر شہد کی مکھیاں کاٹ رہی ہوں‘

صرف چند راتوں کی خراب نیند صحت خراب کر سکتی ہے

سرے یونیورسٹی کے پروفیسر میلکم فون شانتز کا مشورہ ہے کہ سونے سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے ان آلات کا استعمال بند کر دینا چاہیے۔

نیلی روشنی کے علاوہ شام کو گھر میں، خاص طور پر سونے والے کمرے میں روشنی کے دیگر ذرائع بھی کم کر دینے چاہییں. ایسا لیمپ کی مدد سے کیا جا سکتا ہے۔ سونے کے کمرے میں اندھیرا کرنے کے لیے گہرے رنگ والے پردے بھی لگائے جا سکتے ہیں۔

وقت کے پابند رہیے

اختتامِ ہفتہ سے پہلے والی رات دیر تک جاگنے کا دل تو بہت کرتا ہے لیکن اچھی نیند برقرار رکھنے کے لیے وقت کی پابندی ضروری ہے۔

ہر روز ایک ہی وقت پر سونا مددگار ثابت ہوتا ہے۔ روز سونے کے وقت میں جتنی زیادہ تبدیلی ہو گی صحت کو اتنا ہی زیادہ خطرہ ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فون سے نکلنے والی نیلے رنگ کی روشنی نیند کو متاثر کرتی ہے

خواب گاہ آرام دہ ہو

بستر کے ارد گرد لیپ ٹاپ اور چارجر کے علاوہ دیگر سامان کا بکھرا رہنا کئی لوگوں کے لیے عام بات ہے لیکن اگر ہم اچھی نیند سونا چاہتے ہیں تو یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ آپ کا سونے کا کمرا جتنا آرام دہ ہوگا نیند اتنی ہی اچھی آئے گی۔

بہتر یہ ہوتا ہے کہ فون، لیپ ٹاپ اور دیگر الیکٹرانک عالات دوسرے کمرے میں رکھے جائیں۔ فون میں الارم لگانے کی بجائے ایک الارم والی گھڑی خرید لینی چاہیے۔

کمرے میں ٹھنڈک بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ گرم کے مقابلے ٹھنڈے ماحول میں سونا جسم کے لیے زیادہ آسان ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نیند کی کمی سے دماغ کیسے متاثر ہوتا ہے؟

’ادھوری نیند دفتر میں لڑائی اور خراب رویے کا سبب‘

نیند کی کمی سے زیادہ بھوک کیوں لگتی ہے

دن کی روشنی

ہماری باڈی کلاک سورج کے اگنے اور ڈھلنے کے اوقات کے مطابق کام کرتی ہے۔ لیکن ہم میں سے کئی لوگ صبح دیر تک سونے کی وجہ سے دن کی روشنی سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا پاتے ہیں۔

صبح گھر کے پردے کھول دینے سے آپ دن کی زیادہ روشنی حاصل کر سکتے ہیں۔

اگر ہو سکے تہ صبح کا وقت ورزش میں لگانا چاہیے۔ ایسا کرنے سے رات کو نیند اچھی آتی ہے۔ .

سونے سے پہلے کرنے والے کام

سونے سے پہلے کرنے والے کچھ کام اگر آپ ہر روز کیا کریں تو جسم کو پتا چل جاتا ہے کہ اب یہ سونے کا وقت ہے۔

کتابیں پڑھنا، گانے سننا، نہانا کچھ ایسے ہی کام ہیں۔

جیسے ہی آپ انھیں کرنا شروع کریں گے جسم خود ہی سونے کے لیے تیار ہونے لگے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دن کی روشنی صحت کے لیے مفید ہوتی ہے

بیشتر والدین بچوں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں۔ کئی والدین بچوں کو سلانے سے پہلے انہیں دودھ پلاتے ہیں یا انھیں نہلاتے ہیں۔ انھیں اکثر سونے سے پہلے کہانیاں بھی سناتے ہیں۔

ایسا ہر روز کرنے سے بچے کے جسم کو اس کی عادت ہو جاتی ہے اور جسم سمجھ لیتا ہے کہ یہ سونے کا وقت ہے۔

کیفین سے دور رہیں

آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ دیر رات کافی پینے سے نیند اڑ جاتی ہے۔ اس کی وجہ کافی میں موجود کیفین ہوتی ہے۔

لیکن کیفین صرف کافی میں ہی نہیں ہوتی بلکہ چائے اور کئی ٹھنڈے مشروبات میں بھی ہوتی ہے۔

شام کو پی جانے والی چائے یا کافی بھی آپ کی نیند کو متاثر کر سکتی ہے کیوں کہ کیفین کا اثر ہمارے جسم پر پانچ سے نو گھنٹے تک رہتا ہے۔

اسی بارے میں