صرف 20 گھنٹے میں ہم کچھ بھی سیکھ سکتے ہیں!

سیکھنے کا عمل تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

روسی، عربی یا چینی زبان ہو ۔۔۔ یا وائلن، گیٹار جیسے ساز ۔۔۔ یا پھر طبیعیات کا کوانٹم اصول سب آپ 20 گھنٹے میں سیکھ سکتے ہیں۔

ہمارے دماغ میں اس قسم کی بہت ساری چیزوں کو سیکھنے کی خواہشات پیدا ہوتی ہیں اور ہمارے دماغ میں انھیں سیکھنے کا مادہ بھی ہے۔ خواہ کوئی چیز کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو ہم سیکھ لیتے ہیں۔

تاہم اکثر ہم ایسا محسوس کرتے ہیں کہ کوئی نئی زبان یا نیا ہنر سیکھنے میں بہت وقت لگے گا لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ کوئی چیز ہم ابتدائی مراحل میں جلدی سیکھ لیتے ہیں۔

کچھ ماہرین کے مطابق، جب ہم کچھ سیکھنا شروع کرتے ہیں تو ہم پہلے 20 گھنٹوں میں اسے بہترین طور پر سیکھتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ اس دوران ہمارا ذہن اس چیز کے سیکھنے میں بہت دلچسپی لیتا ہے۔

جرمنی کے فلسفی اور ماہر نفسیات ہرمن ایبنگہاس نے 19 ویں صدی کے آخر میں 'لرننگ کرو' یعنی سیکھنے کا خمدار نقشہ تیار کیا تھا۔

اسے یوں سمجھیں کہ اس میں دو تغیر پزیر چیزیں ہیں۔ ایک عمودی یعنی وہ مضمون ہے جو ہم سیکھنا چاہتے ہیں اور دوسرا افقی ہے جس سے سیکھنے میں لکھنے والے وقت کو دیکھایا گيا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کسی چیز کو سیکھنے میں ہمیں کتنا وقت لگتا ہے۔ یہ طریقہ کمپنیوں میں پیداوار کے تجزیے کےلیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ہم نے کسی بھی کام پر کتنا وقت خرچ کیا۔ اس سے یہ بھی پتہ چل سکتا ہے کہ وہ کام کتنا مشکل یا آسان تھا۔

ماہر نفسیات ہرمن اپنے اس نقشے کے ذریعے یہ بتاتے ہیں کہ جب ہم کسی چیز کے رابطے میں آتے ہیں تو ابتدائی دور میں ہم اس سے منسلک زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرتے ہیں۔

کچھ عرصے بعد ہماری 'سیکھنے' کی رفتار کم ہو جاتی ہے اور ہمیں سیکھنے میں بہت زیادہ وقت لگنے لگتا ہے۔

یہ سب دماغ کے ایک عمل سے منسلک ہے اور اس عمل کو 'ہیبیچوئیشن' یا عادت میں شامل ہونا کہتے ہیں۔ یہ کسی چیز کے سیکھنے کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب ہم کچھ نیا سیکھتے ہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ کتنا مشکل ہے، ہم تیزی سے سیکھتے ہیں، لیکن آہستہ آہستہ سیکھنے کا عمل سست ہوجاتا ہے۔

'پانچ گھنٹے والا اصول'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکہ کے بانیوں میں سے ایک بنجامن فرینکلن نے نئی چیزیں سیکھنے کے لیے جز وقتی طریقے کا استعمال کرتے تھے۔ اس طریقے کو وہ 'ڈلیبریٹ لرننگ' یا 'دانستہ طور پر سیکھنا' کہتے تھے۔ اس طریقہ کار کو 'پانچ گھنٹے کے اصول' کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔

پیر سے جمعے تک فرینکلن ہر روز کم از کم ایک گھنٹے ایسی کوئی چیز سیکھتے جو وہ پہلے سے نہیں جانتے تھے۔

کچھ وقت بعد جب ان کے خیال میں وہ اس کے بارے میں بہت جان چکے ہوتے تو وہ پھر دوسرے مضمون کو سیکھنے کے بارے میں سوچنے لگتے اور وہ مسلسل ایسا کرتے رہتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کافمین کی ایک کتاب 'دی فرسٹ 20 آورز، ہاؤ ٹو رلرن اینی تھنگ کوئکلی' یعنی پہلے بیس گھنٹے میں کسی چیز کو تیزی سے کیسے سیکھیں کے مطابق پانچ گھنٹے کے اصول کی مدد سے ہم چار ہفتوں میں کوئی بھی نئی چیز اچھی طرح سیکھ سکتے ہیں۔

اس نسخے کو ایلون مسک، وارن بفٹ، مارک زکربرگ اور اوپرا ونفری جیسے کئی کامیاب کاروباری استعمال کر رہے ہیں۔ جب ان سے ان کے کامیاب کریئر کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ کھلے طور پر اس اصول کی پیروی کا اظہار کرتے ہیں۔

اور آخر میں جیسا کہ بنجامن فرینکلن نے کہا ہے کہ کوئی بھی نئی چیز سیکھنے کے لیے دو چیزیں بے حد ضروری ہیں۔ ہماری قوت ارادی اور ہم اس چیز کو کتنا جلدی سیکھنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں