کیا آپ کے کھانا کھانے کے اوقات ٹھیک ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کیا کوئی خاص غذائیں ہیں جو مخصوص وقت پر کھانا نقصان دہ ہیں؟

جسمانی اوقات کے نظام سے غیر ہم آہنگی کے صحت پر اثرات کے بارے میں بارہا تنبیہ کی جاتی ہے۔

کیا ہم دن اور رات کے دوران صحیح وقت پر کھانا کھا رہے ہیں اور کیا اپنے کھانے کی عادات تبدیل کرنے سے اچھی صحت اور وزن کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے؟

'بادشاہ کی طرح ناشتہ کریں'

آج صبح آپ نے ناشتے میں یا دوپہر کے کھانے میں کیا کھایا تھا؟

امکانات یہی ہیں کہ یہ سٹیک اور چپس، چنے کا سالن یا کچھ ایسا نہیں ہوگا جو عموماً رات کے کھانے کے وقت کھایا جاتا ہے۔

اگرچہ کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ دن کے آغاز میں زیادہ کیلریز والے کھانے اور کھانا جلدی کھانے سے ہماری صحت اچھی ہو سکتی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق وہ خواتین جو اپنا وزن کم کرنا چاہتی تھیں ان کا وزن زیادہ کم ہوا جب انھوں نے دوپہر کا کھانا دن میں جلدی کھانا شروع کیا جبکہ ایک اور تحقیق کے مطابق دیر سے ناشتہ کرنے کا تعلق زیادہ وزن سے ہے۔

یہ بھی پڑھیں!

'روزانہ ایک انڈا بچوں کی نشوونما میں مفید'

'۔۔۔خوش آتی ہیں روٹیاں'

ناریل کا تیل اتنا ہی غیر صحت مند جتنی چربی

'چینی مکمل طور پر چھوڑنا ایک بڑی غلطی تھی'

لندن کے کنگز کالج کے غذائی سائنسز کے وزٹنگ پروفیسر ڈاکٹر گرڈا پوٹ کہتے ہیں کہ ’ایک پرانی کہاوت ہے کہ بادشاہ کی طرح ناشتہ کریں، شہزادے کی طرح دوپہر کا کھانا اور مفلس کی طرح رات کا کھانا کھائیں، میرے خیال میں اس میں کچھ سچائی ہے۔‘

اب سائنسدان ان نتائج کے محرکات اور جسمانی نظام اوقات اور کھانے کے درمیان تعلق کو جاننے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے جوابات کے لیے اسے ’کرونو نیوٹریشن‘ کا نام بھی دیا جا رہا ہے۔

کھانا کب کھائیں

آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ جسمانی نظام اوقات کوئی ایسا نظام ہے جو یہ تعین کرتا ہے کہ ہم کب سوئیں۔

لیکن ایک جسم کے ہر خلیے میں واقعی اوقات کار کا نظام ہوتا ہے۔

وہ ہمارے دن کے معمولات شروع کرنے میں مدد کرتے ہیں جیسا کہ صبح اٹھنا، خون کی گردش کا تناسب قائم رکھنا، جسم کا درجہ حرارت اور ہارمونز کی سطح وغیرہ۔

اب ماہرین یہ جانچنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا ہماری کھانے کی عادات اور بے وقت اور دیر سے کھانا ہمارے اندرونی نظام اوقات سے مطابقت رکھتے ہیں۔

کرونو نیوٹریشن پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر پوٹ کا کہنا ہے کہ ’ہمارا ایک جسمانی نظام اوقات ہوتا ہے جو ہر 24 گھنٹے کے بعد تعین کرتا ہے کہ ہر میٹابولک عمل کا زیادہ سے زیادہ ایک وقت ہوتا ہے جب کچھ نہ کچھ ہونا ہوتا ہے۔‘

’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شام کے وقت بھاری کھانا دراصل، میٹابولیکل طور پر 'صحیح بات نہیں ہے کیونکہ آپ کا جسم رات کے لیے آرام کی تیاری کرنا شروع کر چکا ہوتا ہے۔‘

یونیورسٹی آف سرے کے ڈاکٹر جوناتھن جونسٹن کہتے ہیں کہ اگر تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ شام کے وقت ہمارا جسم کھانے کو اچھی طرح ہضم نہیں کر سکتا اور ایسا کیوں ہوتا ہے یہ نہیں سمجھا جا سکا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ دن کے آغاز میں زیادہ کیلوریز والے کھانا اور جلدی کھانے کے اوقات ہماری صحت کے لیے اچھے ہو سکتے ہیں

ایک نظریہ یہ ہے کہ اس کا تعلق جسم کی توانائی پھیلانے کی صلاحیت سے ہے۔

’اس حوالے سے تھوڑے بہت شاہد ملتے ہیں کہ کھانے کو ہضم کرنے کے لیے جو توانائی آپ کو درکار ہوتی ہے آپ شام کے وقت کھانے کے مقابلے میں اس کا استعمال صبح کے وقت زیادہ کرتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم کوئی مشورہ دے سکتے ہیں تو وہ یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ آپ جو کچھ کھاتے ہیں اس میں زیادہ تبدیلی لے کر آئیں، لیکن آپ صرف یہ تبدیلی لائیں کہ کب کھانا ہے۔ یہ معمولی سی تبدیلی اس حوالے سے بہت اہم ہے کہ معاشرے میں لوگوں کی صحت کیسے بہتر ہوسکتی ہے۔‘

مزید سوالات

تو کیا ہم دن میں جلدی کھانا شروع کریں؟

ماہرین کا کہنا ہے بہت سے ایسے سوالات ہیں جن کے جواب باقی ہیں۔

مثال کے طور پر کھانا کھانے اور کھانے سے اجتناب برتنے کے بہترین اوقات؟

یہ ہمارے اپنے جسمانی نظام اوقات پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے، کچھ لوگ صبح جلدی اٹھنے کے عادی ہوتے ہیں، کچھ رات دیر تک جاگتے ہیں یا کچھ ان کے درمیان ہوتے ہیں؟

اور کیا کوئی خاص غذائیں ہیں جو مخصوص وقت پر کھانا نقصان دہ ہیں؟

ڈاکٹر جونسٹن اور ڈاکٹر پوٹ دونوں کا کہنا ہے کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ کیلریز والا کھانا دن کے شروع میں کھانا چاہیے مثال کے طور پر آپ کا دوپہر کا کھانا سب سے زیادہ ہونا چاہیے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں