کیڑوں کا علاج مزید کیڑے

لیڈی برڈ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لیڈی برڈ کے سرخ پروں پہ سات سیاہ نقطے ہوتے ہیں، ان نقطوں کو مقدس مریم کے سات غموں اور سات خوشیوں کی علامت سمجھا گیا

حشرات، جانداروں کا سب سے بڑا گروہ ہے اور سب سے کامیاب بھی۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ یہ ہزاروں کی تعداد میں اور بعض اوقات لاکھوں کی تعداد میں انڈے دیتا ہے۔ مہذب انسان بے چارے کی زندگی کی آدھی تلخیاں اور مشکلیں ان کیڑوں کی وجہ سے ہیں۔

ارتقأ کے اس عمل میں انسان نے ہر نوع کو ہرا دیا، لیکن حشرات خاموشی سے اس کی تاک میں ہر طرف موجود ہیں۔

دنیا کے تمام بڑے شہروں میں آبادی کے لحاظ سے، انسانوں سے کہیں زیادہ کاکروچ آباد ہیں۔ رات آتی ہے تو سیوریج لائنوں میں چھپے یہ کاکروچ دنیا بھر کے باورچی خانوں اور غسل خانوں میں بڑے بڑے جلسے منعقد کرتے ہیں اور اپنی نشاۃ ثانیہ کے منصوبے بناتے ہیں۔ اتنا تو ہم سب جانتے ہی ہیں کہ ایٹمی حملے کے بعد بچ جانے والا جاندار بھی کاکروچ ہی ہو گا۔ یقیناً کاکروچ بھی یہ جانتا ہے۔

اسی بارے میں

کیڑے مار دوائیں شہد کی مکھیوں کے لیے خطرہ

سنگاپور میں چیونٹیاں پالنے کے شوقین

کیڑے انسان کی ناک میں دم کیے ہوئے ہیں۔ چاہے سر میں پڑ جانے والی جوئیں ہوں یا بستروں میں پلنے والے کھٹمل، فصلوں پہ حملہ کرنے والے ٹڈی دل ہوں یا پالتو جانوروں میں پڑنے والے پسو، انسان، کیڑوں سے پریشان رہتا ہے۔ ہر سال اربوں روپے کی کیڑے مار ادویات بنائی، بیچی اور خریدی جاتی ہیں لیکن کیڑے وہیں کے وہیں ہیں۔ الٹا ان ادویات سے انسانی صحت پہ اور ماحول پہ برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں جو نسل بعد از نسل ہمیں کمزور تر کرتے جا رہے ہیں۔

جہاں ہم کیڑوں سے اس قدر پریشان ہیں، وہیں 'لیڈی برڈ' نامی کیڑا ہمیں بہت پسند ہے، اتنا پسند کہ اس کا نام احترام کے مارے، ’آور لیڈی برڈ‘ رکھا گیا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں یورپ میں ٹڈی دل اور دیگر کیڑوں کے حملوں سے قحط کی سی صورت حال تھی کہ لیڈی برڈ ز کے جھلر کے جھلر اتر کے آئے اور ان کیڑوں کا صفایا کر دیا۔

اس مدد کو خدائی امداد سمجھا گیا، مزید یہ کہ لیڈی برڈ کے سرخ پروں پہ سات سیاہ نقطے ہوتے ہیں، ان نقطوں کو مقدس مریم کے سات غموں اور سات خوشیوں کی علامت سمجھا گیا اور سرخ پروں کو مریم کا سرخ چوغہ۔ لیڈی برڈ کی عزت کی جانے لگی کیونکہ وہ انسان دشمن، سبزی خور کیڑوں کو کھاتا ہے۔ صرف کھاتا ہی نہیں اپنے انڈے ان کی بستیوں میں دیتا ہے تاکہ ان کے بچے انڈے سے نکلتے ہی ان سبزی خور کیڑوں کو کھانے لگیں۔

یہ بات کئی صدیوں پہلے کی ہے۔ اس کے کہیں بعد، 60 کی دہائی میں کچھ سوچے سمجھے بغیر جہاں ہم نے سبز انقلاب کے نام پہ دیگر حماقتیں کیں، وہیں ایک بڑی حماقت یہ تھی کہ حشرات سے دشمنی کی بنا ڈال لی۔ کیڑے مار ادویات کے آنے سے پہلے یقیناً ہم بھوکے نہیں مرتے تھے۔

کھاد، بیج اور کیڑے مار دواؤں کے تھیلے بٹے اور ہم ایک ایسی جنگ میں شامل ہو گئے جو ہم کبھی جیت ہی نہیں سکتے۔ کیڑے مار ادویات اور حشرات کی اس جنگ میں ہم نے اپنے ماحول کا بیڑہ غرق کر لیا۔ پورا قدرتی توازن بگاڑ لیا۔

جانوروں، پرندوں اور کئی دوست حشرات کی نسلیں ختم کرنے کے بعد ایک سال ایسا بھی آیا (غالباً 1998) کہ نرمے پہ آنے والے کیڑے اس قدر اور اتنی اقسام کے ہو گئے کہ ان پہ کیے جانے والے سپرے کی قیمت اس صورت تو ادا کی جا سکتی تھی اگر ان حشرات سے ذاتی دشمنی ہو، بصورتِ دیگر اس میں کاشت کار کا مالی نقصان تھا۔ چند سال نرما کاشت ہی نہ کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کیڑے مار ادویات کے اندھادھند سپرے نے کیڑوں کی تعداد میں کمی کی بجائے اضافہ کیا ہے

جب دو تین برس بعد نرمے کا نیا بیج کاشت کیا گیا تو میں نے لیڈی برڈ سے ملتا جلتا ایک کیڑا بہتات میں دیکھا۔ یہ یقیناً کوئی حشرات خور کیڑا ہو گا۔ اس کیڑے پہ نہ تو میں ریسرچ کر سکتی تھی اور شاید نہ ہی کسی اور نے کی۔ یہ خیال صرف خیال ہی رہا۔

اس سال بھی نرمے کا موسم آیا تو کیڑے مار ادویا ت کے غیر مختتم اخراجات کا خوف سر پہ تلوار کی طرح لٹک رہا تھا۔ لیکن حیرت مجھے اس وقت ہوئی جب محکمہ زراعت کی طرف سے کہا گیا کہ اگر آپ دوست کیڑوں کی مدد سے 'پیسٹ کنٹرول' کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے پاس دو قسم کے کیڑوں کے انڈے موجود ہیں۔

کریدنے پہ معلوم ہوا کہ پرائی جنگیں لڑنے کی عادات اب ہم مکمل طور پہ ترک کرنا چاہ رہے ہیں اور اس کے لیے محکمہ زراعت کی تجربہ گاہ دو طرح کے دوست کیڑوں کی افزائش کر رہی ہے۔ یہ کیڑے، سبزی خور، رس چوسنے والے کیڑوں کے انڈے، لاروے کھا کے ان کی کالونیاں مکمل طور پہ تباہ کر دیتے ہیں۔

کیڑے منگا لیے گئے ہیں اور کھیتوں میں چھوڑ دیے گئے ہیں۔ بھورے گتوں پہ سفید نقطوں جیسے یہ انڈے اور ان سے نکلنے والے لاروے کیا لاکھوں روپے میں خریدی گئی کیڑے مار ادویات کی جگہ لے لیں گے؟

امید تو یہ ہی ہے کہ یہ تجربہ کامیاب ہو جائے گا۔ اگر ایسا ہو گیا تو یہ ہم سب کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہو گا۔ جنگ وہی لڑیے، جس کو لڑنے کی آپ میں استطاعت ہے۔ ورنہ بعد کو کرکری ہو گی اور ہماری طرح کیڑوں کے انڈے ڈھونڈھتے پھریں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں