مشاہد اللہ: سیلابی پانی کے لیے زیر زمین ٹینک بنانے کے منصوبے پر چین سے بات کی ہے

مشاہد اللہ
Image caption پاکستان ان چند ممالک میں سے ہے جنھوں نے موسمیاتی تبدیلی کے لیے الگ وزارت بنائی اور وفاقی بجٹ میں اس کے لیے آٹھ فیصد بجٹ کا مختص ہونا بھی بڑی بات ہے

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے وفاقی وزیر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے اور اس سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے سالانہ 54 ارب ڈالر کی ضرورت ہے جبکہ صرف سی پیک منصوبے کی کل مالیت 56 ارب ڈالر ہے۔

پاکستان کا شمار ان ترقی پذیر ممالک میں ہے جو خود کاربن کے اخراج سے موسمیاتی تبدیلی کی وجہ نہیں بن رہے لیکن اس امر سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ اس اثر کو کم کرنے کے لیے درکار اخراجات پورے کرنا بھی پاکستان جیسے ملک کے بس کی بات نہیں۔

نواب شاہ میں گرمی کا عالمی ریکارڈ کیسے بنا؟

’صنعتی ممالک کا گند پاکستان جیسے ممالک بھگت رہے ہیں‘

مشاہد اللہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی نوعیت کا مسئلہ ہے اور پاکستان جیسے ملک کو اپنا کردار ادا کرنے کے لیے انھی امیر ممالک کی مالی مدد درکار ہے جو خود کاربن کے اخراج کے ذمہ دار ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کی وزارت نے چین سے زیر زمین پانی کے ٹینک بنانے کے منصوبے کے لیے ابتدائی بات چیت کی ہے۔ اس تکنیک کے تحت سیلابی پانی کو محفوظ کر کے بوقت ضرورت استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مشاہد اللہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ان چند ممالک میں سے ہے جنھوں نے موسمیاتی تبدیلی کے لیے الگ وزارت بنائی اور وفاقی بجٹ میں اس کے لیے آٹھ فیصد بجٹ کا مختص ہونا بھی بڑی بات ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ماحولیاتی تبدیلی کیا ہے؟

پاکستان کے دریا خشک کیوں ہو رہے ہیں؟

’صنعتی ممالک کا گند پاکستان جیسے ممالک بھگت رہے ہیں‘

ان کی وزارت کے ماحول کی بہتری کے لیے قابل ذکر عملی اقدام کے بارے میں سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے گرین پاکستان پروگرام کے تحت دس کروڑ درخت لگائے گئے جبکہ اسلام آباد میں گھر گھر شجر پروگرام کے تحت طلبا سے درخت لگوائے گئے۔

اس ضمن میں انھوں نے خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے بلین ٹری سونامی پروگرام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایک ارب 22 کروڑ درخت واقعی لگے ہوتے تو پشاور میں اس وقت برفباری ہو رہی ہوتی، اور اس پر وہ تحریک انصاف کو سیلیوٹ کرتے۔

کراچی میں 2015 کے بعد اس سال بھی گرمی کی شدید لہر کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 2015 میں ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں میں تھی، اس سال بھی گرمی کی لہر سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدام دیکھنے میں نہیں آئے۔

اس حوالے سے سوال پر مشاہد اللہ کا کہنا تھا کہ ان کی وزارت کے تحت آگاہی مہم چلائی گئی اگرچہ یہ ان کی انتظامی ذمہ داریوں میں شامل بھی نہیں تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ameen Aslam
Image caption خیبر پختونخوا میں ایک ارب 22 کروڑ درخت واقعی لگے ہوتے تو پشاور میں اس وقت برفباری ہو رہی ہوتی: مشاہد اللہ

گلیشیئر پگھلنے، سمندری سطح بڑھنے اور سیلابی صورتحال سے زرعی اراضی زیر آب آنے کا امکان پاکستان کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے۔

مشاہد اللہ کا کہنا تھا کہ دنیا میں موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تیزی سے کام ہوا ہے۔ پاکستان میں بھی رد عمل موجود ہے لیکن مزید کام کرنے کی ضرورت یقیناً ہے۔

اسی بارے میں