ویپنگ: پانچ چارٹس میں

Young woman wearing glasses and smoking an e-cigarette. تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وہ مسافر جو موسمِ گرما کی چھٹیوں میں سیر و تفریح کی تیاری کر رہے ہیں، ان کے لیے یہ سوال پریشانی کا باعث بن سکتا ہے کہ انھیں کیا اپنے ساتھ لے جانا چاہیے اور کیا نہیں۔

مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ اپنے ساتھ الیکٹرانک سگریٹ لے جانے پر آپ کو تھائی لینڈ جیسے کچھ ممالک میں جرمانے یا قید کا سامنا ہو سکتا ہے؟

سیشیلز، برازیل، اور ارجنٹینا ان ممالک میں شامل ہیں جہاں الیکٹرانک سگریٹوں پر پابندی لگا دی گئی ہے تاہم مجموعی طور پر عالمی سطح پر الیکٹرانک سگریٹوں پر خرچ کی جانے والی رقم میں اضافہ ہوا ہے۔

مندرجہ ذیل چارٹس میں اس حوالے سے اعداد و شمار موجود ہیں۔

1۔ ویپنگ کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے

عالمی ادارہِ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2000 سے اب تک سگریٹ پینے والوں کی تعداد میں ہر سال تھوڑی سی مگر متواتر کمی ہوتی رہی ہے۔ گذشتہ 18 سالوں میں یہ تعداد 1.14 ارب سے کم ہو کر 1.1 ارب رہ گئی ہے۔

تاہم ویپنگ (الیکٹرانک سگریٹ) میں معاملہ ایسا نہیں ہے۔

ویپنگ کرنے والے لوگوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے: 2011 میں 70 لاکھ سے بڑھ کر 2016 میں ساڑھے تین کروڑ۔

مارکیٹ ریسرچ کمپنی یورو مانیٹر کا اندازہ ہے کہ 2021 تک وپینگ کرنے والے افراد کی تعداد ساڑھے پانچ کروڑ ہو جائے گی۔

2. الیکٹرانک سگریٹوں پر خرچی جانے والی رقم میں اضافہ ہو رہا ہے

ویپنگ کرنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے خرچ کی جانے والی رقم میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر ویپنگ کی مارکیٹ کی قدر 22.6 ارب ڈالر ہو گئی ہے جو کہ پانچ سال پہلے 4.2 ارب ڈالر تھی۔

اس حوالے سے سب سے بڑی منڈیاں امریکہ، جاپان، اور برطانیہ ہیں۔ ان تین ممالک کے افراد نے 2016 میں وپینگ کی مصنوعات پر 16.3 ارب ڈالر خرچ کیے۔

اس کے علاوہ اس حوالے سے رقم خرچ کرنے والے دس اہم ترین ممالک میں دیگر یورپی ممالک جیسے کہ سوئیڈن، اٹلی، ناروے، اور جرمنی شامل ہیں۔

3. اوپن سسٹم الیکٹرانک سگریٹ سب سے زیادہ مقبول ہیں

الیکٹرانک سگریٹوں کی دو اقسام ہوتی ہیں، ایک اوپن سسٹم اور ایک کلوزڈ سسٹم۔

اوپن سسٹم میں مائع مواد کو صارف خود ہی بھر سکتا ہے اور اس کا ماؤتھ پیس بھی ہٹایا جا سکتا ہے۔

کلوزڈ سسٹم میں پہلے سے تیار کردہ ریفل استعمال ہوتے ہیں جو کہ سگریٹ کی بیٹری پر لگائے جاتے ہیں۔

2011 سے ان دونوں اقسام پر کیے جانے والے اخراجات میں توازن بگڑ رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

خیال کیا جا رہا ہے کہ اس سال ویپنگ کرنے والے افراد اوپن سسٹمز پر 8.9 ارب ڈالر خرچ کریں گے۔ اوپن سسٹم کو ویپ پنز بھی کہا جاتا ہے۔

4. الیکٹرانک سگریٹ زیادہ تر دکانوں سے خریدے جاتے ہیں

ارنسٹ اینڈ ینگ کی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ زیادہ تر الیکٹرانک سگریٹ مخصوص دکانوں سے خریدے جاتے ہیں۔

2015 میں متعدد یورپی ممالک اور جنوبی کوریا میں کیے گئے ایک سروے میں 35 فیصد الیکٹرانک سگریٹ مخصوص دکانوں سے خریدے گئے جبکہ 21 فیصد انٹرنیٹ پر خریدے گئے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ صارفین اپنا پہلا الیکٹرانک سگریٹ انٹرنیٹ کے بجائے کسی دکان سے اس لیے خریدتے ہیں تاکہ اس حوالے سے وہ آگاہ ہو جائیں کہ یہ ہے کیا چیز اور کون سا سگریٹ ان کے لیے موزوں ہے۔

5. لوگ ویپنگ کرتے کیوں ہیں؟

ارنسٹ اینڈ ینگ کی تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سب سے زیادہ عام وجہ صحت کا خیال ہے۔ لوگ قدرے کم نقصان دہ سگریٹ پنا چاہتے ہیں۔

صارفین میں سے 49 فیصد یہ سگریٹ چھوڑنے کے لیے کوشاں ہیں۔

سرکاری تنظیم پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی ویپنگ پر تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ویپ عام سگریٹ کے مقابلے میں کم خطرناک ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ الیکٹرانک سگریٹ نوجوانوں کو تمباکو نوشی کی طرف مائل کرتا ہے۔

لیکن عالمی ادارہ صحت کے مطابق ویپنگ کے ساتھ کئی خدشات منسلک ہیں، جیسے کہ:

  • ویپنگ کے دور رس اثرات کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں
  • الیکٹرانک سگریٹ میں استعمال ہونے والے مائع مواد کی لت لگ سکتی ہے
  • ریفل لگاتے ہوئے اگر صارف کی جلد پر مائع گر جائے تو نکوٹین کے زہریلے اثرات سے متاثر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے

اسی بارے میں