کیا کوئی اپنی مادری زبان بھول سکتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نیا ملک میں نئی زبان نئے چیلنجز سے نمٹنے میں معاون ہوتی ہے

آج کل یہ سوال اس لیے سرخیوں میں ہے کیونکہ دنیا گلوبلائزیشن کے سبب سمٹتی جا رہی ہے۔ امریکی شہری، چین، انڈیا اور نہ جانے کتنے ممالک کا سفر کرتے ہیں۔ اسی طرح ہندوستانی اور پاکستانی شہری بھی تعلیم اور روزگار کے سلسلے میں کئی مختلف ممالک جاتے رہتے ہیں۔

ایسی صورت میں اگر ایک انگریز ہندوستان یا پاکستان میں کام کرنے آئے تو کیا وہ اپنی مادری زبان انگریزی کو بھول سکتا ہے؟

مادری زبان بھولنے کے کیا اسباب ہیں؟

اس سوال کا وجہ یہ ہے کہ جب ایک شخص کسی دوسرے ملک میں روزگار کے سلسلے میں جاتا ہے تو وہ خود کو وہاں کی زبان اور تہذیب میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ اب انگلینڈ جا کر کوئی انگریزی میں ہی بات کرے گا اور اس طرح اپنی مادری زبان میں کم بات کرنے کے سبب اپنی زبان کی باریکیاں بھولتا جائے گا۔

ہر زبان میں بات کرنے کا اپنا مخصوص طریقہ ہے۔ مذاق کرنے سے لے کر سنجیدہ بات کا اپنا لہجہ ہے۔ ایسی صورتحال میں جب آپ کسی دوسرے ملک جاتے ہیں اور وہاں سکونت اختیار کرتے ہیں تو وہاں کے رہن سہن کے ساتھ آپ وہاں کی زبان بھی سیکھتے ہیں۔ وہاں کے لہجے میں بات کرنے کی کوشش میں اپنی مادری زبان سے کٹنے لگتے ہیں۔

اپنی زبان گنوانے کی سائنسی توجیہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
چند سو لوگوں کی زبان کو ناپید ہونے کا خطرہ

یہ بات بہت سیدھی اور سہل نہیں۔ اپنی مادری زبان کو کھونے کا معاملہ بہت پیچیدہ ہے۔اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کتنے عرصے سے اپنے ملک اور اپنے لوگوں سے دور ہیں۔

یہ بات صرف لمبے عرصے تک اپنے وطن سے دور رہنے والوں کے ساتھ نہیں بلکہ جو دوسری زبانیں سیکھتے ہیں ان کی بھی اپنی مادری زبان پر پکڑ کمزور ہوتی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کی ’چھوٹی‘ زبانیں

گلگت بلتستان: قدیم زبانیں اور دائمی محرومی

برطانیہ میں ایسیکس یونیورسٹی کی ماہر لسانیات مونیکا شمڈ کہتی ہیں کہ جیسے ہی آپ دوسری زبان سیکھتے ہیں اس کا آپ کی مادری زبان سے مقابلہ شروع ہو جاتا ہے۔

بچوں کا اپنی مادری زبان بھول جانا عام بات ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 12 سال کی کم عمر میں نقل مکانی کرنے والے بچے دوسرے ماحول میں بہ آسانی اپنی مادری زبان بھول سکتے ہیں

مونیکا فی الحال زبان کے بھولنے کے عمل پر تحقیق کر رہی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ بچوں میں اپنی مادری زبان چھوڑ کر دوسری زبان سیکھنے کا عمل عام بات ہے کیونکہ بچے کا ذہن نئی چیزیں زیادہ آسانی سے سیکھتا ہے۔ پرانی باتیں بھولنا بھی ان میں عام ہے۔ 12 سال کی عمر تک کسی بھی بچے کی زبان میں بنیادی تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔ یعنی ہ اپنی مادری یا پیدائشی زبان کو مکمل طور پر بھول سکتا ہے۔

کسی بچے کو نو سال کی عمر تک کسی دوسری زبان والے ملک میں بسا دیا جائے تو وہ اپنی مادری زبان مکمل طور پر بھول جاتا ہے۔

بالغوں کے لیے مادری زبان کا بھولنا غیر معمولی ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بالغ کی صدمے کی وجہ سے اپنی مادری زبان بھول سکتے ہیں

لیکن بالغوں کا اپنی مادری زبان کو مکمل طور پر بھول جانا غیر معمولی بات ہے اور ایسا کم ہی دیکھا گيا ہے۔بالغ افراد اپنی مادری زبان انتہائی تکلیف کے بعد ہی بھول پاتے ہیں۔

مونیکا شمڈ نے دوسری عالمی جنگ کے بعد جرمنی کو چھوڑ کر برطانیہ اور امریکہ میں آباد ہونے والے یہودیوں پر تحقیق کی ہے۔ مونیکا نے پایا کہ ان کی زبان پر اس بات سے فرق نہیں پڑا تھا کہ وہ کتنے عرصے سے اپنے وطن سے دور تھے بلکہ ان کا اپنی مادری زبان بھولنے کا سب سے بڑا سبب نازیوں کے ہاتھوں ان کی تکالیف تھی۔

یہ بھی پڑھیے

کیا پاکستان نے چینی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دیا؟

برطانوی شہریوں کو اردو سیکھنے کا مشورہ

جو لوگ نازیوں کے ظلم و ستم سے قبل ہی دوسرے ممالک نقل مکانی کر گئے تھے ان کی جرمن زبان پر پکڑ مضبوط تھی لیکن جنھوں نے ہٹلر کے ہاتھوں زیادہ تکالیف اٹھائی تھیں وہ اپنی مادی زبان سے زیادہ دور ہو گئے تھے حالانکہ انھوں نے دوسرے ملک میں نسبتا کم وقت گزارا تھا۔

مونیکا کا کہنا ہے کہ یہ صرف تکالیف اور دردناک تجربات کے اثرات کی وجہ سے تھا۔ اگرچہ ان کی مادری زبان جرمن تھی لیکن انھوں نے اسے بھولنے کی دانستہ کوشش کی۔ کچھ لوگوں نے واضح طور پر کہا کہ جرمنی نے انھیں دھوکہ دیا۔ اب امریکہ اور برطانیہ ہی ان کا ملک ہے اور انگریزی ہی ان کی زبان ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
بدیشی صرف تین لوگوں کی بولی ہے

بہر حال دوسرے ممالک میں جاکر آباد ہونے والے تمام افراد کا اس قسم کا تکلیف دہ تجربہ نہیں ہوتا۔ جو لوگ عام حالات میں دوسری ملک جا کر آباد ہو جاتے ہیں وہ نئے ملک کی زبان کے ساتھ اپنے مادر وطن کی زبان بھی بولتے ہیں۔

امریکہ، کینیڈا یا برطانیہ میں جا بسنے والے ہندوستانی اور پاکستانی اپنی مادری زبان بھی بولتے ہیں۔ اور یہی حال بنگلہ دیش، سعودی عرب یا کسی دوسرے ملک سے جاکر کسی دوسرے ملک میں بسنے والوں کا بھی ہے۔

دو زبانوں کا تال میل

ہم زبان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مادری زبان کو یاد رکھنا ایک فطری عمل ہے۔ جن کی زبان پر اچھی پکڑ ہوتی ہے وہ دو زبانوں کے درمیان بہتر تال میل رکھتے ہیں جبکہ دوسرے لوگوں کے لیے یہ عمل خاصا مشکل ہوتا ہے۔

مونیکا شمڈ کہتی ہیں کہ دو زبانوں کے لیے ہمیں اپنے ذہن میں ہی کنٹرول ماڈیول بنانا ہوتا ہے جو دو زبانوں کو مختلف اوقات میں آسانی سے استعمال کرسکتا ہے۔

ایسے بہت سے افراد آپ کو مل جائيں گے جو اپنی مادری زبان بولنے والوں کے درمیان ہوتے ہیں تو بہت آسانی سے اپنی زبان بولتے ہیں۔ اور جب غیر ملکیوں کے ساتھ ہوتے ہیں تو ان کی زبان بھی آسانی سے بولتے ہیں اور وہ دونوں کے درمیان جلدی جلدی بدلاؤ کر سکتے ہیں۔

تحقیق کیا کہتی ہے؟

زبان سیکھنا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لندن میں رہنے والے دنیا بھر کے تمام لوگ تقریبا 300 زبانیں بولتے ہیں۔ کئی بار ان زبانوں کا ایسا مرکب تیار ہوتا ہے کہ زبان کی ایک نئی شکل نظر آتی ہے۔ لمبے عرصے تک آپ جہاں رہتے ہیں وہاں کی زبان آپ کے حواس پر حاوی ہونے لگتی ہے۔

زبان کے اس بھٹکاؤ پر ساؤتھیمپٹن یونیورسٹی کی لارا ڈومنگوئز نے بھی تحقیق کی ہے۔ لارا نے برطانیہ میں رہنے والے ہسپانوی لوگوں اور امریکہ میں آباد کیوبا کے لوگوں پر تحقیق کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بے نام زبان کو شناخت مل گئی

ایسی زبان جو صرف تین لوگ بولتے ہیں

کیوبا اور میکسیکو دونوں جگہ ہسپانوی زبان بولی جاتی ہے جبکہ سپین کی وہ اصل زبان ہے۔ لیکن ان تمام ممالک میں ہسپانوی بولنے کا انداز مختلف ہے۔

لورا نے پایا کہ برطانیہ میں آباہد ہسپانوی دور دور آباد تھے اس لیے ان میں سے اکثر انگریزی بولتے تھے جبکہ امریکہ میں آباد کیوبا کے باشندے زیادہ تر میامی میں آباد ہیں اور وہ ہسپانوی بولتے ہیں کیونکہ ان کے آس پاس رہنے والے لوگ اپنی مادری زبان ہسپانوی بولتے ہیں۔

کیوبا کے ان لوگوں کے ساتھ رہنے ولے میکسیکو والے بھی ہسپانوی ہی بولتے ہیں۔ لہذا کیوبا کے لوگوں پر میکسیکو کی ہسپانوی زبان کے اثرات نظر آئے۔

لورا نے بھی امریکہ میں بہت وقت گزارا ہے۔ جب وہ سپین واپس آئیں تو ان کے ہم وطنوں نے انھیں بتایا کہ ان کی ہسپانوی میکسیکن طرز کی ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ امریکہ میں لورا کے بہت سے میکسیکن دوست تھے۔

پرانی بولیاں تازہ ہو جائیں گی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پاکستان میں جاری مردم شماری کے فارم پر درج زبانوں میں گلگت بلتستان کی کوئی زبان شامل نہیں

انسان دوسری زبان بہت آسانی سے سیکھ لیتا ہے اور یہ انسان کی خوبی ہے کہ وہ خود کو بہ آسانی نئے ماحول میں ڈھال لیتا ہے۔

لورا کہتی ہیں کہ اپنی مادری زبان بھولنا بہت بری بات نہیں ہے۔ لوگ نئی زبانیں سیکھ رہے ہیں کیونکہ یہ نئی زبان انھیں چیلنجز سے نمٹنے میں مدد کرتی ہیں۔

زبان کے لحاظ سے اپنی مادری زبان میں کمزور ہونا خراب بات نہیں ہے۔اگر آپ بعض الفاظ بھول رہے ہیں تو پھر آبائی وطن کا ایک دورہ کر لیں پرانی زبان اور محاورے تازہ ہو جائيں گے۔

اسی بارے میں