بگلے کی وجہ سے فون کا بل: 2700 ڈالر

بگلہ تصویر کے کاپی رائٹ CHRISTINE JUNG/BIA/MINDEN PICTURES
Image caption ایک بگلے کی وجہ سے فون کا 2700 ڈالر کا بل

پولینڈ میں ماحولیاتی تحفظ کے ایک ادارے کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ سفید بگلے کی پشت میں لگایا گیا جی پی ایس ٹریکر (ایک ایسا آلہ جس کی مدد سے محل وقوع کی معلومات ملتی ہے) ان کو کتنا مہنگا پڑ جائے گا۔

سرکاری ریڈیو ادارے ریڈیو پولینڈ کی خبر کے مطابق ایکو لاجک نامی تنظیم نے جی پی ٹریکر ایک بگلے کے جسم میں نصب کیا تھا تاکہ بگلوں کی خانہ بدوشی کی عادات و اطوار پر تحقیق کی جائے لیکن کچھ عرصے کے بعد ان کا بگلے سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

یہ بگلا چھ ہزار کلومیٹر کا سفر طے کر کے مشرقی سوڈان پہنچا تھا جس کے بعد ایکو لاجک کا اس پرندے سے رابطہ ختم ہو گیا۔

اخبار سپر ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے ایکو لاجک کے نمائندے نے بتایا کہ جی پی ایس ڈیوائس کسی کو مل گئی جس نے اس آلے میں لگا سم کارڈ نکال کر اپنے ذاتی فون میں لگا لیا اور 20 گھنٹے کے دورانیے کی فون کالز کیں۔

ان کالوں کے نتیجے میں ایکو لاجک کو تقریباً 2700 ڈالر کا بل ادا کرنا ہو گا۔

بگلوں کے جسم میں جی پی ایس آلات کی مدد سے ماحولیاتی تحفظ کے اداروں کو تحقیق میں بہت مدد ملتی ہے جس سے وہ ان پرندوں کی بقا کے لیے کام کر سکتے ہیں۔

سفید بگلے کہلائے جانے والے بگلوں کی اس مخصوں نسل کو اب کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن ماضی میں 50 سال قبل بڑھتی ہوئی صنعتی سازی کی وجہ سے یورپ میں ان کی نسل معدوم ہونے کے نزدیک پہنچ گئی تھی۔

متعلقہ عنوانات