آپ اپنی گاڑی کو چوری ہونے سے کیسے بچا سکتے ہیں؟

چابی

کیا آپ کو معلوم ہے کہ چوروں کو اب آپ کی گاڑی چرانے کے لیے چابی کی ضرورت نہیں ہے۔ بس جہاں آپ نے احتیاط نہ کی وہیں وہ آپ کی گاڑی لے اڑیں گے۔

بھلا یہ کیسے ممکن ہے؟

یہ اس لیے ممکن ہے کہ آج کل بننے والی گاڑیوں کی چابیوں سے وائرلیس سگلنل نکلتے ہیں اور چوروں کو ان سگنلز کو پکڑنے کا انتظار رہتا ہے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ چور، بازار سے اصلی وائرلیس چابی خرید کر اسے استعمال کر کے گاڑی کھولنے والے کوڈ کی نقل حاصل کر لیتے ہیں۔ اس کوڈ سے ہر گاڑی کو تو نہیں کھولا جا سکتا لیکن کچھ گاڑیوں تک ضرور رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

کیا چوروں کو روکا جا سکتا ہے؟

اس کا ایک آسان سا طریقہ ہے اور وہ یہ کہ آپ اپنی گاڑی کی چابی کو ایلومینیئم فوئل یا ایلومینیم کی پنی میں لپیٹ کر رکھیں۔

وہ ایسا کیسے کیا جا سکتا ہے؟

سائبر سکیورٹی سے وابستہ کئی ماہرین متفق ہیں کہ اگرچہ یہ سکہ بند طریقہ نہیں ہے لیکن بہت آسان اور سستا ضرور ہے۔

ایک اور طریقہ یہ ہے کہ چند ڈالرخرچیں اور آن لائن پر دستیاب فیراڈے بیگ خرید لیں۔ اس بیک میں بھی وہی غیر موصل خصوصیت ہیں جو ایلومینیئم کی پٹی میں پائے جاتے ہیں اور یہ ان 'اطلاعات' کے خلاف ڈھال کا کام دیتی ہے جو چوروں کو گاڑی چرانے کے چاہیے ہوتی ہیں۔

یہ سارا کھیل برقی مقناطیسی لہروں کے ذریعے ایک سے دوسری جگہ اطلاعات پہنچانے کا ہے جیسے ریڈیو یا ٹیلی وژن کام کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اڑن گاڑیوں کا ڈرائیونگ سکول

اب سپورٹس کار اڑے گی؟

اڑنے والی گاڑی، اوبر میں ناسا کے انجینیئر کی بھرتی

اور اب خودکار ہوائی ٹیکسی بھی آ گئی

سائبر سکیورٹی ایجنسی 'گارڈنوکس سائبر ٹیکنالوجیز' کے چیف ایگزیکٹو آفیسر موشے شلیسل اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں: 'تصور کیجیے کہ کسی تالے کو کھولنے کے لیے مستقل طور پر ایک ریڈیائی آلہ اور ایک خاص گیت درکار ہوں۔ اب اگر مجھے اس گیت کا پتہ چل جائے تو میں بھی وہ تالا کھول لوں گا‘۔

موشے شیسل جو ماضی میں اسرائیلی فضائیہ میں دفاعی میزائل نظام کی ترقی کے لیے کام کرتے رہے ہیں کہتے ہیں کہ ایلومینیئم کی پنی دراصل ایک ایسا سیل یا حصار بنا دیتی ہے جو کسی کو برقی مقناطیسی لہریں ریکارڈ کرنے سے روک دیتا ہے۔

’زیادہ سے زیادہ چوریاں‘

بہت سے لوگوں کو 21 ویں صدی میں یہ پرانا سا خیال لگے گا کہ ہمیں اب کار کی چابی کو ایلومینیئم کی پنی میں لپیٹنا پڑے گا۔

لیکن شیسل کہتے ہیں 'میرے پاس کوئی اعداد و شمار تو نہیں لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس طرح کے واقعات زیادہ سے زیادہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آلات آن لائن با آسانی خریدے جا سکتے ہیں جو کاریں چرانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اب تو یوٹیوب پر اس کام کی تربیتی وڈیوز بھی مل جاتی ہیں‘۔

موشے شیسل کے بقول 'خودکاری کی صنعت ان مسائل سے اچھی طرح واقف ہے اور کسی بھی شخص کے لیے گاڑی اور چابی کے درمیان رابطے کے کوڈ نقل کر لینے کے طریقوں کو ناممکن بنانے پر غور کر رہے ہیں۔‘

اس طرح کا جرم صرف کاروں کے ساتھ ہی نہیں ہوتا۔

کچھ لوگ اتنی احتیاط برتتے ہیں کہ اپنے کریڈٹ کارڈ 'غیر موصل' بٹوے میں رکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس کے علاوہ امریکی حکومت کے ادارے جب اپنے صارفین کو خاص دستاویزات دیتے ہیں تو انھیں حفاظتی خول میں رکھتے ہیں تاکہ ڈیٹا کسی کو منتقل بھی نہ ہو اور چوری بھی نہ ہو سکے۔ اس کی ایک مثال امریکہ میں مستقل سکونت کا وہ کارڈ ہے جسے گرین کارڈ کہتے ہیں۔

کاروں کی چوری کی بات کریں تو یہ کام بہت آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔

'آپ اس گھر کے سامنے آئیں جہاں گاڑی پارک کی ہوئی ہے۔ گھر کے اندر کمرے میں دس قدم کے فاصلے پر پتہ چلائیں کہ چابی پڑی کہاں ہے اور بس۔ اب کار چرانا مشکل نہیں۔‘

کلفرڈ نیومین، جنوبی کیلیفورنیا کی یونیورسٹی سینٹر فار کمپیوٹر سسٹم سیفٹی کے ڈائریکٹر ہیں۔ انھوں نے امریکی اخبار 'یو ایس اے ٹوڈے' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب تک اوزار دستیاب ہیں، ایسی چوریاں ہونے کے امکانات زیادہ ہیں‘۔

جب کلفرڈ نے پہلے پہل یہ پڑھا کہ ان کی گاڑی کے چوری ہو جانے کا خطرہ موجود ہے تو انھوں نے رات کو اپنی گاڑی کی چابی کافی کے خالی ڈبے میں رکھنی شروع کر دی۔

ماہرین بار بار یہ نصیحت کرتے ہیں کہ جب تک گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں اس مسئلے کا حل تلاش نہیں کر لیتے بہتر یہی ہو گا کہ جہاں آپ روزانہ گاڑی کی چابی رکھتے ہیں وہیں پر یا پھر اپنی پتلون کی جیب میں یا شاید میز پر یا پھر اپنے بیگ میں۔ بس اسے ایلومینیئم کی پنی میں لپیٹ کر رکھیں۔

اسی بارے میں