’والدین کی سگریٹ نوشی بچوں کے لیے جان لیوا‘

سگریٹ نوشی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سگریٹ نوشی کے مضر اثرات کے بارے میں یہ تحقیق ایک امریکی جریدے میں شائع ہوئی ہے

امریکہ میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق جن لوگوں کا بچپن سگریٹ نوش والدین کے درمیان گزرتا ہے اُن کے پھیپڑوں کے مہلک مرض میں مبتلا ہو کر ہلاک ہونے کے امکانات خطرناک حد تک بڑھ جاتے ہیں۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ ہر سال ایک لاکھ غیر سگریٹ نوش افراد کی اموات میں سات ایسے افراد کا اضافہ ہو سکتا ہے جو بچپن میں سگریٹ کے دھوئیں سے متاثر ہوئے ہوں لیکن خود انھوں نے کبھی سگریٹ کو ہاتھ نہیں لگایا۔

امریکی کی کینسر سوسائٹی کی اس تحقیق میں ستر ہزار نو سو سگریٹ نہ پینے والے مرد اور خواتین کو شامل کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں

’سگریٹ نوشی کی کوئی محفوظ حد نہیں‘

ہر دس میں ایک موت کی وجہ سگریٹ نوشی

دنیا میں سب سے زیادہ سگریٹ نوش کہاں پائے جاتے ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے بچوں کو سگریٹ کے دھوئیں کے مضر اثرات سے بچانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ سگریٹ نوشی ترک کر دی جائے۔

جو لوگ سن بلوغت میں پہنچنے کے بعد سگریٹ نوش افراد کے ساتھ رہے تھے ان میں صحت کی دیگر پیچیدگیاں پائی گئیں۔

سگریٹ نہ پینے والے افراد کے درمیان میں رہنے والوں کے مقابلے میں ایسے افراد جو سگریٹ کے دھوئیں سے ہر ہفتے دس یا اس سے زیادہ گھنٹے متاثرہ ہوئے ہوں ان کے دل کے امراض میں مبتلا ہو کر مرنے کے امکانات 27 گنا، فالج ہونے کے امکانات 23 گنا اور پھیپڑوں کی بیماریاں ہونے کے امکانات 42 گنا بڑھ جاتے ہیں۔

یہ تحقیق حال ہی میں امریکی جریدے 'امریکن جرنل آف پریوینٹو میڈیسن' میں شائع ہوئی ہے۔

اس تحقیق کے شرکا سے سگریٹ کے دھوئیں سے متاثر ہونے کے بارے میں سوالات پوچھے گئے اور اس کے بعد 22 سال تک ان کی صحت کے ریکارڈ پر نظر رکھی گئی۔

سگریٹ نوشی کے خلاف ایک نجی تنظیم کے رکن ہیزل چیئرمین کا کہنا ہے کہ حالیہ تحقیق بچوں کو محفوظ رکھنے اور انھیں دھوئیں کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے اس دلیل کو مزید تقویت دیتی ہے کہ دھوئیں کو گھر سے باہر رکھیں۔

انھوں نے کہا کہ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ لوگوں سگریٹ نوشی سے نجات حاصل کر لیں۔

انھوں نے صحت عامہ کے برطانوی ادارے این ایچ ایس کے اعداد و شمار کا سہارا لیتے ہوئے اس مسئلہ کے حل کے لیے فنڈ بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

برٹش لنگ فاونڈیشن کے مشیر ڈاکٹر نک ہاپکنسن نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ سگریٹ کے دھوئیں کے اثرات بچپن گزرنے کے بعد بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

انھوں نےکہا کہ بدقسمتی سے انسداد سگریٹ نوشی کے لیے چلائی جانے والی مہم کے لیے فنڈز کم کیے جا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ چھوٹے بچوں کے والدین اور حاملہ خواتین کو سگریٹ نوشی ترک کرنے میں پوری مدد فراہم کی جائے۔

جن بچوں کے والدین سگریٹ پیتے ہیں ان بچوں کو دمے اور پھیپڑوں کے امراض لاحق ہو سکتے ہیں۔

اس تحقیق میں گو کہ توجہ اس بات پر دی گئی کہ یہ دیکھا جا سکے کے موت کے امکانات کتنے بڑھ جاتے ہیں لیکن تحقیق کاروں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بلواسطہ سگریٹ نوشی سے عمر کے آخری حصہ میں دائمی امراض میں متبلا ہونے اور خرابی صحت کے باعت محتاجی کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں