کیا انڈیا انسانوں کو خلا میں بھیج سکتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 2017 میں انڈیا نے ایک ہی مشن میں 104 سیٹلائٹیں لانچ کر کے ریکارڈ قائم کر دیا۔ اس سے پہلے یہ ریکارڈ روس کا تھا اور انھو ںے 37 سیٹلائٹ لانچ کی تھیں۔

انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے اعلان کر رکھا ہے کہ سنہ 2022 تک انڈیا انسانوں کو خلا میں بھیج سکے گا۔ سائنس کے صحافی پالاوا بگلا نے اس سوال کو جانچنے کی کوشش کی ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے؟

انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن کے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ مودی کے چیلنج کو پورا کرنے کے لیے انھیں 1.28 ارب ڈالر درکار ہوں گے اور ان کے مطابق وہ 40 ماہ میں ایسی خلائی پرواز لانچ کر سکتے ہیں۔

ان کے اس یقین کی متعدد وجوہات ہیں۔

سائنس دانوں کو امید ہے کہ اس کام کے لیے وہ ملک کا سب سے زیادہ وزنی راکٹ جیوسنکرونس سیٹلائٹ لانچ ویہکل مارک 3 (جی ایس ایل وی ایم کے 3) استعمال کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

دو سو ہاتھیوں جتنے وزنی انڈین راکٹ کا کامیاب تجربہ

’خلا میں آنکھ‘، انڈیا نے جاسوس سیٹلائٹ روانہ کر دیا

انڈیا کا مواصلاتی سیٹلائٹ خلا میں چھوڑنے کا کامیاب تجربہ

اس 640 ٹن وزنی اور 43 میٹر لمبے راکٹ کو 2017 میں کامیابی سے لانچ کیا گیا تھا۔ اس موقعے پر ملک میں خوشی کا اظہار کیا گیا تھا اور میڈیا میں اس راکٹ کے وزن کا 200 ہاتھیوں کے وزن سے موازنہ کیا گیا تھا۔

اس راکٹ کی مدد سے زمین کے قریبی مدار (لو ارتھ آربٹ جو تقریباً 2000 کلومیٹر کی اونچائی پر ہوتا ہے) میں دس ٹن تک کا پے لوڈ بھیجا جا سکتا ہے جو خلا میں انسانی عملے کو بھیجنے کے لیے کافی ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کچھ تبدیلیاں کر کے اس کے ذریعے خلابازوں کو آسانی سے بھیجا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption میں ایک سویت راکٹ پر خلا میں جانے والے انڈیا کے پہلے خلاباز راکیش شرما کا کہنا ہے کہ انسانوں کا خلا بھیجنا انڈیا کے خلائی پروگرام کا قدرتی اگلا قدم ہے۔

خلائی ایجنسی نے جولائی میں ایک کامیاب پیڈ ابورٹ ٹیسٹ بھی کیا تھا جس میں انسان نہیں بلکہ ایک ڈمی کو بھیجا گیا تھا۔ اس تجربے سے اس بات کی آزمائش کی گئی تھی کہ اگر لانچ کے دوران راکٹ فیل ہو جائے تو عملے کی گاڑی پر کیا اثر ہو گا۔

انڈئن سائنس دانوں نے انتہائی ہلکے وزن کی سلیکون ٹائلز بھی تیار کر لی ہیں جن کو آگ نہیں لگتی اور وہ خلائی طیارے کے باہر لگائی جائیں گی۔ جب کوئی خلائی گاڑی زمین پر واپس آ رہی ہوتی ہے تو فضا کے ساتھ رگڑ کی وجہ سے اسے 1000 ڈگری سیلسیئس درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ادھر احمد آباد کی ایک تجربہ گاہ نے خلابازوں کے لیے خصوصی لباس بھی تیار کر لیا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج خلابازوں کی تربیت اور انھیں خلا میں زندہ رکھنے کے لیے لائف سپورٹ سسٹم کی تیاری ہے۔

آئی ایس آر او کے چیئرمین ڈاکٹر کے سیون کا کہنا ہے کہ ’خلاباز پروگرام نہ صرف ملکی وقار میں اضافہ کرے گا، بلکہ اس سے نوجوانوں کی سائنس میں اپنا کریئر بنانے کے لیے بھی حوصلہ افزائی ہو گی۔‘

ڈاکٹر سیون کا کہنا ہے کہ کیونکہ انڈیا کے پاس ابھی خلا بازوں کی تربیت کے لیے مکمل سہولیات نہیں ہیں اسی لیے دیگر خلائی ایجنسیوں کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

1984 میں ایک سوویت راکٹ پر خلا میں جانے والے انڈیا کے پہلے خلاباز راکیش شرما کا کہنا ہے کہ انسانوں کا خلا بھیجنا انڈیا کے خلائی پروگرام کا قدرتی اگلا قدم ہے۔

اب تک صرف روس، چین، اور امریکہ نے خلا میں خلابازوں کو بھیجا ہے۔ اگر انڈیا ایسا کر پاتا ہے تو یہ چوتھا ملک ہو گا۔

تاہم کچھ سائنس دان ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ انسانوں کو خلا میں بھیجنے کا ہدف ٹھیک نہیں ہے۔

تجربہ کار خلائی سائنس دان وی سدھارتا کہتے ہیں کہ ’بھارتیوں کو خلا میں بھیجنے کا ہدف بےوقوفانہ ہے، خاص کر نیل آرم سٹرانگ کے چاند پر قدم رکھنے کے 50 سال بعد!‘

2012 میں وفات پانے والے نیل آرم سٹرانگ نے 20 جولائی 1969 کو چاند پر قدم رکھا تھا جو چاند پر کسی بھی شخص کا پہلا قدم تھا۔

وی سدھارتا کہتے ہیں کہ روبوٹ اب وہ کام کر لیتے ہیں جو خلا باز کرتے ہیں اور اس میں کسی کی جان کو خطرہ بھی نہیں ہوتا۔

اس کے جواب میں ڈاکٹر سیون کہتے ہیں کہ بہت سے ایسے کام ہیں جن کے لیے انسانی ذہانت کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ وہ کہتے ہیں کہ ہندوستانیوں کو خود کو خلا میں بھیجنے کی صلاحیت اپنے پاس رکھنی چاہیے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر زمین سے باہر آبادیاں بسائی گئیں تو زمین کی ایک قدیم ترین ثقافت کہیں پیچھے نہ رہ جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 2014 میں انڈیا نے کامیابی کے ساتھ مریخ کے گرد ایک سیٹلائٹ مدار تک پہنچائی۔ انڈیا وہ چوتھا ملک تھا جو یہ کام کر سکا اور اس مشن کی قیمت 67 ملین ڈالر تھی جو مغربی اعتبار سے انتہائی کم ہے۔

انڈیا کی وفاقی حکومت کے سائنسی معاملات پر پرنسپل سیکریٹری پروفیسر وجے راگاون کہتے ہیں کہ انڈیا کے پاس اس مشن کے لیے بہترین ٹیکنالوجی اور ماحول ہے۔

ماضی میں آئی ایس آر او نے وہ تمام چیلنج پورے کیے ہیں جو ان کو دیے گئے ہیں۔ 2014 میں انڈیا نے کامیابی کے ساتھ مریخ کے گرد ایک سیٹلائٹ مدار تک پہنچائی۔ انڈیا وہ چوتھا ملک تھا جو یہ کام کر سکا اور اس مشن کی قیمت 67 ملین ڈالر تھی جو مغربی اعتبار سے انتہائی کم ہے۔

اس سے قبل 2009 میں ایجنسی نے چندریان 1 مشن کے ذریعے چاند پر پانی کی موجودگی کی وسیع ترین تلاش شروع کی۔

2017 میں انڈیا نے ایک ہی مشن میں 104 مصنوعی سیارے لانچ کر کے ریکارڈ قائم کر دیا۔ اس سے پہلے یہ ریکارڈ روس کا تھا جنھوں ںے 37 سیٹلائٹ لانچ کی تھیں۔

ڈاکٹر سیوں کا کہنا ہے کہ ناکامی کی اب آپشن نہیں ہے۔ ’ٹیم آئی ایس آر او اس بات کو یقینی بنائے گی کہ 2022 تک کسی انڈین کو خلا میں بھیجے۔‘

اسی بارے میں