قدیم انسانوں کی دو نسلوں کا ملاپ ثابت، روس میں باقیات مل گئیں

روس تصویر کے کاپی رائٹ B VIOLA, MPI-EVA
Image caption سائیبریا کے التائی پہاڑ جہاں ان دو قدیم انسانوں کی باقیات کے نشانات ملے

ایک دفعہ کا ذکر ہے جب دو مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے دو قدیم انسانوں نے روس کے ایک غار میں ملاقات کی۔

اور اب 50 ہزار سال کے بعد سائنس دانوں نے تصدیق کی ہے کہ ان دونوں کے ملاپ سے ایک بیٹی نے جنم دیا تھا۔

اس غار سے ملنے والی ہڈیوں کے ٹکڑوں سے ڈی این اے نکالنے پر معلوم ہوا کہ لڑکی کی ماں کا تعلق نینڈرتھال نسل سے تھا اور باپ کا تعلق ڈنیوسوون نسل سے تھا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

انسانوں کے قدیم ترین 'اجداد کی باقیات' دریافت

قدیم انگریز سانولے رنگ کے تھے؟

’جدید انسان سعودی عرب میں 85 ہزار سال قبل آباد تھے‘

سائنسی جریدے 'نیچر' میں شائع ہونے والی اس خبر سے ہمیں اپنے آبا و اجداد کے بارے میں کافی اہم معلومات ملتی ہیں۔

نینڈرتھال اور ڈنیوسوون نسل کے لوگ شکل و صورت اور قد بت کے لحاظ سے آج کل کے انسانوں سے ملتے جلتے تھے لیکن حقیقتاً وہ مختلف نوع کے تھے۔

جرمنی کے میکس پلینک انسٹٹیوٹ برائے ارتقائی بشریات سے منسلک محقق ویویان سلون نے بتایا کہ 'ہم ماضی میں کی جانے والی تحقیق سے دیکھ چکے ہیں کہ نینڈرتھال اور ڈنیوسوون نسل کے لوگوں کے آپس میں تعلقات سے بچے پیدا ہوئے تھے۔ لیکن یہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ہم اتنے خوش قسمت ہوں گے کہ ہمیں ان کے ملاپ سے پیدا ہونے والی اولاد کا سراغ ملے گا۔'

آج کل کے دور میں ہر وہ انسان جس کا تعلق افریقہ سے نہ ہو، اس کے ڈی این اے کا کچھ حصہ نینڈرتھال نسل کے انسانوں سے ملتا ہے۔

اس کے علاوہ غیر افریقی نسل کی آبادی کے چند حصے ایسے ہیں جن کے ڈی این نے کا کچھ حصہ ڈینوسوون نسل سے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ B VIOLA, MPI-EVA
Image caption پہاڑ میں موجود وہ غار جہاں سے نشانات ملے ہیں

چونکہ یہ جینیاتی شناخت نسل در نسل منتقل ہوتی چلی آئی ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان دونوں افراد کے آپس میں تعلقات کا سلسلہ ان کے بعد والوں نے بھی جاری رکھا۔

لیکن اب تک صرف ایک ہی مقام پر ان دونوں نسلوں کے لوگوں کی باقیات ملی ہیں اور وہ ہے ڈنیسووا غار جو روس کے علاقے سائیبریا کے التائی پہاڑ میں واقعے ہے۔

دور حاضر کے انسانوں کی نسل ہومو سیپیئنز کہلائی جاتی ہے اور اب تک اس سے مختلف نسلوں میں سے 20 سے بھی کم نسلوںوں کی جینیاتی شناخت کی جا سکی ہے۔

ڈاکٹر سلون نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہمیں اب تک صرف ایک ایسا انفرادی شخص ملا ہے جو کہ دو مختلف نسلوں کے ملاپ سے پیدا ہوا۔

اس سلسے میں کی جانے والی دوسری تحقیقات کا جائزہ لیا جائے تو 'یہ بات سامنے آتی ہے کہ انسانوں کی ارتقائی تاریخ میں نظر آتا ہے کہ انسانوں نے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ملاپ کیا ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں