’تھوڑی سی شراب نوشی بھی مضرِ صحت‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption معتبر طبی جریدے لینسیٹ میں شائع رپورٹ کے مطابق شراب نوشی ہر لحاظ سے مضر صحت ہے اور کم یا زیادہ پینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا

ان تمام لوگوں کے لیے بری خبر سامنے آئی ہے جو دن میں شراب کا ایک جام نوش کرنا صحت کے لیے فائدہ مند سمجھتے ہیں۔

معتبر طبی جریدے لینسیٹ میں شائع ہونے والی ایک وسیع تحقیق نے ماضی کی رپورٹس کی تصدیق کی ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ شراب نوشی ہر لحاظ سے مضر صحت ہے اور کم یا زیادہ پینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

محققین نے اس رپورٹ میں بتایا ہے کہ درمیانے درجے شراب نوشی دل کی بیماریوں سے تو بچاتی ہے لیکن سرطان اور دیگر بیماریوں کے خطرے اس فائدے سے کہیں زیادہ ہیں۔

اس تحقیق کے مصنفین نے کہا کہ شراب نوشی پر یہ اب تک کی سب سے جامع تحقیق ہے کیونکہ اس میں مختلف عناصر شامل کیے ہیں۔

شراب نوشی کے بارے میں مزید پڑھیے

کتنی الکوحل پینے سے کتنی عمر کم ہو سکتی ہے؟

خواتین مے نوشی میں مردوں کے برابر

اینٹی بایوٹکس کے ساتھ شراب پی سکتے ہیں یا نہیں؟

گلوبل برڈن آف ڈیزیز کی اس تحقیق نے 195 ممالک میں 1990 سے 2016 شراب نوشی کے استعمال کے حوالے سے تحقیق کی۔ 15 عمر کے افراد سے 95 عمر کے افراد تک کی گئی اس تحقیق میں دن میں ایک گلاس شراب پینے والے اور نہ پینے والوں کا موازنہ کیا گیا۔

اس تحقیق میں معلوم ہوا کہ شراب نہ پینے والے ایک لاکھ افراد میں سے 914 کو شراب نوشی سے منسلک بیماریاں ہو سکتی ہیں جیسے سرطان وغیرہ۔ لیکن اگر یہ دن میں شراب کا ایک گلاس پینے والے لوگ ہوں تو چار مزید افراد کے بیمار ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

وہ افراد جو دن کے دو گلاس شراب پیتے ہیں، اس صورت میں 63 مزید افراد کے بیمار ہونے کے خدشات ہیں جو کہ سات فیصد اضافہ ہے۔

اور وہ لوگ جو دن کے پانچ گلاس پیتے ہیں ان میں بیماریاں ہونے کے خدشات میں 37 فیصد اضافہ یعنی 338 افراد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption سال 2016 میں حکومت نے شراب نوشی کی مقررہ حد کم کردی تھی اور کہا تھا کہ ہفتے میں 14 یونٹ شراب نوشی مناسب ہے

امپیریئل کالج سے منسلک اور تحقیق کی ایک مصنف پروفیسر ڈاکٹر سیکسینا نے کہا: 'یہ درست ہے کہ دن کا ایک گلاس پینا کچھ حد تک خطرناک ہو سکتا ہے لیکن اگر اسے بڑے پیمانے سے جانچا جائے تو یہ کافی بڑا نمبر ہے، اور دوسرا یہ کہ لوگ عام طور پر صرف ایک گلاس نہیں پیتے۔'

یونیورسٹی آف واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر میک گرسولڈ جو اس تحقیق کے مرکزی مصنف ہیں، وہ کہتے ہے کہ ’ماضی میں ہونے والی تحقیقات نے یہ ثابت کیا تھا کہ اگر تھوڑی شراب نوشی کی جائے تو وہ کچھ بیماریوں کے علاج میں سودمند ثابت ہوتی ہیں لیکن ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو شراب نوشی سے صحت پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔‘

’شراب نوشی اور سرطان، چوٹ لگنے اور دیگر وبائی بیماریوں کا واضح تعلق ہے اور اس کی وجہ سے دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے اثرات زائل ہو جاتے ہیں۔‘

سال 2016 میں حکومت نے شراب نوشی کی مقررہ حد کم کردی تھی اور کہا تھا کہ ہفتے میں 14 یونٹ شراب نوشی مناسب ہے جو کہ سات شراب کے گلاس کے برابر ہے۔

پروفیسر سیکسینا نے کہا کہ یہ تحقیق شراب نوشی پر کی جانے والی سب سے اہم تحقیق ہے۔

اسی بارے میں