فیس بک نے میانمار کے فوجی سربراہ کا فیس بک اکاؤنٹ کیوں بند کیا؟

فیس بک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

میانمار میں فیس بک سوشل میڈیا کا سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے

میانمار کے کئی اعلیٰ فوجی اہلکاروں کے، جن میں فوج کے سپاہ سالار بھی شامل ہیں، اب فیس بک اکاؤنٹس نہیں ہیں۔

فیس بک نے اقوامِ متحدہ کی اس رپورٹ کے بعد ان کے فیس بک اکاؤنٹ ختم کر دیے ہیں، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ متعدد رہنماؤں کے خلاف روہنگیا اقلیت اور دیگر گروہوں پر تشدد میں ان کے کردار کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور ان پر نسل کشی کے الزامات کا مقدمہ چلنا چاہیے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ فیس بک نے کسی فوجی یا سیاسی رہنما پر پابندی لگائی ہے۔ فیس بک نے میانمار سے وابستہ 18 اکاؤنٹ اور 52 فیس بک صفحات بند کیے ہیں۔ انسٹاگرام پر بھی، جسے اب فیس بک نے خرید لیا ہے، ایک اکاؤنٹ بند کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

،آڈیو کیپشن

میانمار سے فرار ہو کر بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تاریخ پر ایک نظر۔

ان سب کے کل ملا کر تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ فالوورز ہیں۔

میانمار میں فیس بک سوشل میڈیا کا سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے اور ایک کروڑ آٹھ لاکھ سے زیادہ لوگ اسے استعمال کرتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق میانمار میں زیادہ تر افراد کے لیے 'فیس بک انٹرنیٹ ہے' لیکن 'یہ ان افراد کے لیے ایک مفید آلہ بن گیا ہے جو نفرت پھیلانا چاہتے ہیں۔'

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں کیا ہے؟

ابھی تک روہنگیا افراد کے خلاف میانمار کے فوجی آپریشن کے حوالے سے یہ اقوامِ متحدہ کے سب سے سخت مذمتی الفاظ ہیں۔

گذشتہ برس روہنگیا شدت پسندوں کے پولیس چوکیوں پر مبینہ حملوں کے بعد فوج نے رخائن ریاست میں کریک ڈاؤن شروع کر دیا تھا۔

اس کے بعد اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور سات لاکھ سے زیادہ روہنگیا جان بچا کر ہمسایہ ملک بنگلہ دیش جا چکے ہیں جہاں وہ پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

فوج کے خلاف انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں، جن میں قتلِ عام، ریپ اور پراپرٹی کو نظرِ آتش کرنا شامل ہے، جیسے الزامات ہیں۔

رپورٹ میں چھ سینیئر فوجی اہلکاروں کے نام ہیں جن میں اعلیٰ کمانڈر من آنگ لیئنگ بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں ان کے خلاف نسل کشی کی تحقیقات کا کہا گیا ہے اور یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ ان کا مقدمہ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) کے حوالے کیا جائے۔

رپورٹ حالیہ بحران سے کئی ماہ پہلے شروع کی گئی تھی، جس کے متعلق اس کا کہنا ہے کہ یہ 'تباہی کئی دہائیوں سے سر پر منڈلا رہی تھی'۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

لاکھوں روہنگیا بنگلہ دیش میں پناہ گزین کیمپوں میں رہتے ہیں

روہنگیا کون ہیں اور ان سے اتنی نفرت کیوں؟

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

روہنگیا میانمار میں موجود کئی نسلی گروہوں میں سے ایک ہیں اور ان میں مسلمانوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ انھیں سرکاری طور پر میانمار کے شہری نہیں تسلیم کیا جاتا۔

حکومت کہتی ہے کہ یہ بنگلہ دیش سے آئے ہوئے غیر قانونی تارکینِ وطن جبکہ بنگلہ دیش بھی انھیں اپنا شہری تسلیم نہیں کرتا۔

لفظ روہنگیا بھی ایک متنازع لفظ ہے اور میانمار میں کئی اسے استعمال کرنے سے اجتناب کرتے ہیں اور انھیں بنگالی کہتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ بنگلہ دیش سے آئے ہوئے تارکینِ وطن ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر میانمار کی کم ترقی یافتہ ریاست رخائن میں رہے ہیں اور وسائل کے لیے دوسرے نسلی گروہوں سے مقابلہ کرتے رہے جو اپنے آپ کو اصل برمی شہری سمجھتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی برسوں سے روہنگیا کے خلاف حکومتی اور فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 'بیدائش سے لے کر موت تک جبر کو ایک شدید اور منظم نظام کا حصہ بنایا گیا۔'

ریاستی اخبار ان کے متعلق لکھتے ہوئے انھیں 'پسو' یعنی خون چوسنے والے کیڑے کہتے رہے ہیں۔

بودھ قوم پرستوں نے بھی اس خیال کو تقویت دی کہ روہنگیا مسلمان ایک خطرہ ہیں، اور وہ ملک کو ایک اسلامی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔

روہنگیا کو آن لائن لوگ کیا کہتے ہیں؟

گذشتہ برس شائع ہونے والی خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق فیس بک پر ایسی 1000 پوسٹس، تبصرے اور تصاویر تھیں جن میں روہنگیا اور مسلمانوں پر حملے کیے گئے تھے۔

تبصروں میں روہنگیا کو کتے، کیڑے اور ریپسٹ کہا گیا تھا۔

کئی ایک میں کھلے عام مذہب اسلام کی مذمت کی گئی تھی اور ایک فیس بک صفحے میں تو 'سب مسلمانوں کی نسل کشی' کا کہا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

من آن لائینگ میانمار میں بہت مقبول ہیں اور ان فیس بک پر لاکھوں فالوور ہیں

فوجی سربراہ کا کیا مسئلہ ہے؟

میانمار کے فوجی سربراہ من آنگ لیئنگ کے دو فیس بک اکاؤنٹ ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک اکاؤنٹ کے 13 لاکھ جبکہ دوسرے کے 28 لاکھ فالوورز ہیں۔

اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں وہ بھی روہنگیا کو بنگالی کہتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ روہنگیا 'خود سے بنایا گیا' ایک لفظ ہے۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ 'اس صفحے اور اس جیسے دیگر صفحات نے جن پر پابندی ہے، نسلی اور مذہبی تناؤ کو آگ دکھائی ہے۔'

میانمار ٹائمز کے مطابق صدارتی ترجمان یو ژا ہتے نے کہا ہے کہ اکاؤنٹس پر پابندی لگانے کا فیصلہ حکومت کی مشاورت کے بغیر کیا گیا ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ فیس بک سے مذاکرات کر رہے ہیں کہ ان اکاؤنٹس کو دوبارہ کھولا جائے۔

فیس بک نے کیا کیا ہے؟

ابھی تک کچھ نہیں۔

یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ سنہ 2014 میں بھی ماہرین نے اس بات کی طرف نشاندہی کروائی تھی کہ فیس بک میانمار میں منافرت پھیلا رہی ہے۔

مارچ میں اقوامِ متحدہ کے ایک اہلکار نے کہ فیس بک ملک میں ایک خونخوار جانور بن گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نفرت انگیز مواد سے نمٹنے میں فیس بک آہستہ اور بے اثر رہی ہے۔

منگل کو فیس بک نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اس کا ردِ عمل بہت سست رہا ہے لیکن وہ اب نفرت انگیز مواد کی شناخت کرنے والی بہتر ٹیکنالوجی، رپورٹنگ کے بہتر آلات، اور مواد کا جائزہ لینے کے لیے زیادہ افراد کے حصول کے بعد بہتر کام کر رہی ہے۔