برطانیہ میں بچوں کو انرجی ڈرنکس کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ؟

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library

برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ انگلینڈ میں 18 سال سے کم عمر افراد کو انرجی ڈرنکس فروخت کرنے پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے کیونکہ اس سے بچوں کی صحت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

حکومت کی جانب سے ایسے مشروبات کی بچوں کو فروخت کرنے کو غیرقانونی قرار دیے جانے کے اس منصوبے پر عوام سے بھی صلاح مانگی گئی ہے۔

انرجی ڈرنکس میں چینی اور کیفین کی زیادہ مقدار ہوتی ہے اور اس کے ساتھ موٹاپے اور کئی دیگر صحت کے مسائل جڑے ہوئے ہیں۔

حکومت کی جانب سے اس پابندی کے لیے 16 سال سے کم اور 18 سال سے عمر بتائی گئی ہے لیکن اس نے عوام سے بھی صلاح مانگی ہے کہ آیا پابندی کے لیے عمر کی کیا حد طے کی جائے۔

واضح رہے کہ سکاٹ لینڈ، شمالی آئرلینڈ اور ویلز اپنی پابندیاں خود لگانے کا حق رکھتے ہیں۔

’خطرناک تعلق‘

ماضی میں کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یورپ میں برطانیہ ان ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوان سب سے زیادہ انرجی ڈرنکس کا استعمال کرتے ہیں۔

ایسے مشروبات کے زیادہ استعمال سے صحت کے کئی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں جیسے کہ موٹاپا، دانتوں کا سڑنا، سر درد اور نیند کے مسائل۔

یہ پابندی ان مشروبات پر لگائی جائے گی جن میں 150 ملی گرام کیفین فی لیٹر ہو۔

بہت سی دوکانوں پر پہلے ہی ایسی پابندی خود سے لگائی گئی ہے جہاں 16 سال سے کم عمر بچوں کو انرجی ڈرنکس فروخت نہیں کی جاتی لیکن اس کے باوجود اس بات کا امکان موجود ہے کہ بچے ایسی ڈرنکس کہیں اور سے خرید لیں۔

پبلک ہیلتھ کے وزیر سٹیو برائن کا کہنا ہے کہ ’بچوں کی صحت اور تعلیم کو خراب کرنے والی اشیا سے انھیں بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے اور ہم جانتے ہیں کہ کیفین اور بعض اوقات چینی سے بھرے یہ مشروبات ان کی معمول کی خوراک کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’ہمارے بچے یورپ کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پہلے ہی 50 فیصد زیادہ ایسے مشروبات کا استعمال کر رہے ہیں اور اساتذہ انرجی ڈرنکس اور کلاس روم میں خراب رویے کے خطرناک تعلق کی جانب اشارہ کر چکے ہیں۔‘

برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے اس حوالے سے کہا: ’بچپن میں موٹاپا ہمارے ملک کا سب سے بڑا صحت کا مسلہ ہے اور اسی وجہ سے ہم ایسے اقدامات کر رہے ہیں کہ نوجوان افراد میں چینی کا استعمال کم ہو جائے اور لوگ صحت مند چیزوں کا انتخاب کریں۔‘

’ہزاروں نوجوان انرجی ڈرنکس کا متواتر استمعال کر رہے ہیں کیونکہ بعض اوقات یہ سافٹ ڈرنکس کے مقابلے میں سستی ملتی ہیں۔ ہم بچوں کو اس کی فروخت پر پابندی پر صلاح مشورہ کریں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA

انرجی ڈرنکس میں کیا ہوتا ہے؟

انرجی ڈرنکس میں بڑے پیمانے پر کیفین پائی جاتی ہے، عام طور پر250 ملی لیٹر کے کین میں 80 ملی گرام۔

اس کے مقابلے میں کلاسک کوک کے 330 ملی لیٹر کین میں اس کی مقدار 32 ملی گرام اور ڈائٹ کوک کے کین میں 42 ملی گرام ہوتی ہے۔

انرجی ڈرنکس میں اس کے علاوہ بہت زیادہ چینی کے ساتھ ساتھ دیگر اجزا میں وٹامنز اور منرلز یا ہربل ہوتے ہیں۔

کتنی کیفین بہت زیادہ ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library

کیفین کی زیادہ مقدار کے باعث ذہنی تناؤ، پینک اٹیکس اور بلڈ پریشر میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو ایک دن میں 200 ملی گرام کیفین سے زیادہ استمعال نہ کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

کیفین سے بھرپور مشروبات پینے سے نوجوان کی موت

یورپیئن ایڈوائس کا کہنا ہے کہ دیگر نوجوان ایک دن میں 400 ملی گرام تک استمعال کر سکتے ہیں۔

چینی کے زیادہ استمعال سے صحت کو لاحق خطرات کیا ہیں؟

ہمارے خوارک میں چینی کے زیادہ استعمال سے جو صحت کے مسایل پیدا ہو سکتے ہیں ان میں یہ شامل ہیں:

موٹاپا

دانتوں کا سڑنا

ٹائپ 2 ذیابیطس

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں