17 سال کی عمر سے ہی سگریٹ اور شراب نوشی کا واضح نقصان پہنچنا شروع ہو جاتا ہے: نئی تحقیق

فائل فوٹو: نوجوان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تحقیق کے مطابق شرکا کے کم عمری میں سگریٹ اور شراب پینے سے ان کی رگیں سخت ہو جاتی ہیں اور ان پر کولیسٹرول جمنا شروع ہو جاتا ہے

ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ وہ نوجوان جو سگریٹ بھی پیتے ہیں اور شراب بھی، ان کی شریانوں کو 17 سال کی عمر سے ہی واضح نقصان پہنچنا شروع ہو جاتا ہے۔

تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ ان کی شریانیں نوعمری ہی سے سخت ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس کی وجہ سے انھیں بعد میں چل کر دل کے دورے اور فالج جیسی بیماریوں کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

تاہم اسی تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ ٹین ایجر جو سگریٹ اور شراب نوشی ترک کر دیتے ہیں، ان کی شریانیں دوبارہ صحت مند حالت میں آ جاتی ہیں۔

اسی بارے میں مزید

’تھوڑی سی شراب نوشی بھی مضرِ صحت‘

’سگریٹ نوشی کی کوئی محفوظ حد نہیں‘

روس میں سگریٹ نوشی غیر قانونی قرار دینے پر غور

’والدین کی سگریٹ نوشی بچوں کے لیے جان لیوا‘

سائنس دانوں نے 2004 اور 2008 کے درمیان ایک تحقیق میں حصہ لینے والے 1266 نوجوانوں کا مشاہدہ کیا، جس میں برطانیہ کے برسٹل کے علاقے کے ساڑھے 14 ہزار خاندانوں کی صحت کا جائزہ لیا گیا تھا۔

یہ تحقیق یورپین ہارٹ جرنل میں شائع ہوئی تھی۔

شرکا نے 13، 15 اور 17 برس کی عمر سے اپنی سگریٹ اور شراب نوشی کی عادت کی تفصیلات بتائیں، جس کے بعد ان کی شریانوں کے ٹیسٹ کر کے دیکھا گیا کہ آیا ان میں سختی تو نہیں آئی۔

تحقیق کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ

  • انھوں نے زندگی بھر کتنے سگریٹ پیے
  • کس عمر سے شراب پینا شروع کی
تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حال ہی میں ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ شراب نوشی کی کوئی محفوظ حد نہیں ہے

جن افراد نے 100 سے زیادہ سگریٹ پیے یا عادی شراب نوش تھے، ان کی شریانوں میں زیادہ سختی دیکھنے میں آئی۔

رپورٹ کے سینیئر مصنف پروفیسر جان ڈینفیلڈ کہتے ہیں: 'ہمیں معلوم ہوا کہ اس تحقیق کے شرکا کے کم عمری میں سگریٹ اور شراب پینے سے ان کی رگیں سخت ہو جاتی ہیں اور ان پر کولیسٹرول جمنا شروع ہو جاتا ہے۔

'تاہم ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر یہ ٹین ایجر نوجوانی ہی میں سگریٹ اور شراب چھوڑ دیں تو ان کی شریانیں دوبارہ نارمل ہو جاتی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں نوجوانی ہی سے اپنی شریانوں کی صحت برقرار رکھنے کا موقع ملتا ہے۔'

ڈاکٹر میریئٹا چاراکیدا نے کہا: 'ہماری تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ہرپانچ میں سے ایک نوجوان 17 برس کی عمر سے سگریٹ نوشی شروع کر دیتا ہے۔ ان خاندانوں میں جہاں والدین سگریٹ پیتے ہوں، بچے بھی سگریٹ نوشی کی لت کا شکار ہو جاتے ہیں۔'

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے ایسوسی ایٹ میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر میٹن اویکرن نے کہا: 'یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ اپنی زندگی بچانے کے لیے طرزِ زندگی میں تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔ اپنے دل کو بچانے کے لیے سب سے اچھا کام جو آپ کر سکتے ہیں وہ سگریٹ چھوڑنا ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں