آم کے بارے میں چند رسیلے حقائق

آم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption روز کا ایک آم۔۔۔

آم کی تعریف کچھ اس طرح کی جا سکتی ہے کہ گرم علاقوں میں پیدا ہونے والا رس دار اور گودے دار پھل جو مختلف رنگ و بیضوی شکل میں نظر آتا ہے۔ اسے پکنے پر کھایا جاتا ہے اور کچے میں اس کا اچار بنایا جاتا ہے۔ اس کی سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں اقسام ہیں اور برصغیر میں اسے سب پھلوں کا راجہ کہا جاتا ہے۔

مندرجہ ذیل میں آم کے بارے میں چند حقائق پیش کیے جا رہے ہیں جن میں سے بہت سے آپ واقف بھی ہو سکتے ہیں۔

1. سیب اور بیر کی طرح آم کی بھی مختلف اقسام ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دہلی میں ہونے والے آم میلے میں مداح آم کی 500 سے زائد اقسام چکھ سکتے ہیں

مختلف علاقے کے لحاظ سے آم کی مختلف اقسام ہیں جو سینکڑوں اور ہزاروں پر محیط ہیں۔

بعض رس دار اور میٹھے ہوتے ہیں تو بعض ترش، بعض قدرے گرم جبکہ بعض انناس کی ترشی لیے ہوئے اور یہ سب بڑے شہروں کے سپر مارکیٹ میں دستیاب ہوتے ہیں۔

آپ اس کی میٹھی اقسام کا ذائقہ لینا چاہتے ہیں تو الفانسو کھا کر دیکھ سکتے ہیں۔

2. یہ ایک نہیں بلکہ تین ممالک کا قومی پھل ہے

آم پاکستان، ہندوستان اور فلپائن کا قومی پھل ہے۔

اس کے علاوہ یہ بنگلہ دیش کا قومی درخت بھی ہے۔

3. آم کا نام 'مینگو' انڈیا سے آیا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آج پنجم گوا کا دارالحکومت ہے لیکن 15ویں صدی میں یہ پرتگالیوں کے زیر نگیں تھا اور یہیں یورپیوں کو آم کے ذائقے کا پتہ چلا

انگریزی کا لفظ 'مینگو' تمل زبان کے لفظ 'مینکے' یا ملیالم لفظ 'مانگا' سے مشتق ہے۔ جب پرتگالی تاجر جنوبی ہند میں آباد ہوئے تو انھوں نے مانگا لفظ کا استعمال کیا۔

اور پھر 15ویں اور 16 ویں صدی میں جب برطانوی تاجروں نے جنوبی ہند سے تجارت شروع کی تو یہ لفظ بدل کر 'مینگو' ہو گیا۔

4. ہر سال دنیا بھر میں چار کروڑ 60 لاکھ ٹن آم پیدا ہوتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آپ اگر اپنے آم کو پہچانتے ہیں تو آپ اچھے آم پسند کریں گے

یہ سب آموں کی ٹامی ایٹکن قسم ہے جو بہت جلدی پھلنے لگتی ہے اور اس کی مختلف اقسام اور رنگ ہوتے ہیں۔ بہت قسموں کی پھپھوندیوں سے محفوظ رہتی ہے اور بہت جلدی خراب نہیں ہوتی۔

اس کی یہ تمام خوبیاں اسے دنیا بھر میں برآمد کیے جانے میں معاون ہیں۔

لیکن بد قسمتی سے یہ نسبتاً بےذائقہ یا کم ذائقہ ہے۔

5. دنیا کے ہر خطے میں آم پیدا ہوتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آم صرف ایشیا ہی نہیں، بلکہ افریقہ میں بھی پیدا ہوتا ہے

سپر مارکیٹ میں آم دنیا کے ہر کونے سے آتے ہیں۔ سال کی ابتدا میں پیرو سے آم آتے ہیں۔ اس کے بعد افریقہ سے اور تیسرے ربع میں اسرائیل اور مصر سے اور پھر برازیل سے آموں کی ترسیل شروع ہو جاتی ہیں۔

6. انڈیا میں سب سے زیادہ آم پیدا ہوتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آم کے ماہرین پر بھروسہ کریں

جنوبی ایشائی ممالک میں تقریبا پونے دو کروڑ ٹن آم پیدا ہوتے ہیں جو دنیا کی سالانہ پیداوار کا 40 فیصد ہیں لیکن دنیا بھر میں برآمد کیے جانے کے معاملے میں یہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آم کو اپنے ہی ملک میں استعمال کر لیا جاتا ہے۔

اس کے بعد چین اور تھائی لینڈ دوسرے اور تیسرے نمبر پر آتے ہیں جہاں سب سے زیادہ آم پیدا ہوتے ہیں۔

7. آم پہلے پہل پانچ ہزار سال قبل انڈیا میں پیدا ہوا تھا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کیا آپ نے کبھی پیڑ سے توڑ کر پکا ہوا جنگلی آم کھایا ہے؟

کہا جاتا ہے کہ جنگلی آم انڈیا اور برما میں ہمالیہ کی گود میں پہلے پہلے پیدا ہوا۔

اس کی پہلی کاشت پانچ ہزار سال قبل جنوبی ہند، میانمار اور (خلیج بنگال میں موجود) انڈمن جزائر میں بتائی جاتی ہے۔

8. آم نے دنیا بھر کا سفر کیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption برازیل کے شہر ریو دی جنیرو میں پھلوں سے لدا آم کا ایک درخت

آم کے درخت پہلے پہل ایشیا میں پیدا ہوئے لیکن اب یہ دنیا بھر میں نظر آتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ افریقہ میں آم کی قلمیں سب سے پہلے دسویں صدی عیسوی میں لگائی گئیں۔ دنیا کے معروف سیاح ابن بطوطہ نے 14ویں صدی میں لکھا کہ انھوں نے موغادیشو میں آم کو پھلتے ہوئے دیکھا تھا۔

مسالے کی منافع بخش تجارت کے لالچ میں بہت سے یورپی ممالک نے 15ویں صدی میں جنوب مشرقی ایشیا میں اپنی کالونیاں قائم کیں۔ ان میں پرتگالی اور ہسپانوی بھی شامل تھے اور وہ بہت جلد آم کے ذائقے کے گرویدہ ہو گئے اور پھر 17ویں صدی میں آم امریکی نو آبادیات میں نظر آنے لگتا ہے۔

آج آم دنیا کے ہر گوشے میں آم پیدا ہوتا ہے، کیربیئن کے جزائر سے لے کر برازیل اور یہاں تک کہ پیرو میں بھی پایا جاتا ہے۔

سپین واحد یورپی ملک ہے جہاں بڑے پیمانے پر مالقہ صوبے میں آموں کی کاشت ہوتی ہے۔

9. دنیا میں آم کا قدیم ترین درخت صدیوں سے قائم ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گرم اور رطوبت والے علاقے میں آم کا درخت اپنے جوبن پر ہوتا ہے

دنیا کا قدیم ترین آم کا درخت بھی انڈیا میں ہے جو 300 سال پرانا ہے اور وسطی ہند کے خاندیش میں پایا جاتا ہے۔

حیرت انگیز طور پر یہ صدیوں پرانا درخت اب بھی پھل دیتا ہے!

10. آم کاجو اور پستے کا رشتہ دار ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کیا آپ نے کھبی غور کیا ہے کہ آم اور پستہ کا میل اتنا اچھا کیوں ہے۔ اس لیے کہ یہ رشتے دار ہیں

آم ایک گٹھلی دار پھل ہے جس کے اوپر گودا اور چھلکا ہوتا ہے۔ آم کی گٹھلی ہی اس کا بیج ہے۔

اسی طرح زیتون، کھجور اور چیری بھی گٹھلی دار پھل ہیں اور کاجو اور پستہ بھی نوائیہ ہیں یعنی گٹھلی سے نکلتے ہیں اور اس طرح یہ آم کے دور کے رشتے دار ٹھہرتے ہیں۔

11. آم کا پیڑ بودھ مذہب کے لیے مقدس ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بعض جگہ دیو دیوتا کے لیے آم کا نذرانہ بھی پیش کیا جاتا ہے

کہا جاتا ہے کہ مہاتما بدھ اپنے ساتھی راہبوں کے ساتھ آم کے باغ کے پرسکون ماحول میں عبادت اور آرام کیا کرتے تھے۔

اسی کے نتیجے میں بودھوں کے نزدیک آم کا پیڑ مقدس ہے۔

12. آم آپ کے لیے مفید ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایک پھل اور بہت سے وٹامنز

ایک پیالی آم میں تقریباً 60 ملی گرام وٹامن سی پایا جاتا ہے۔

برطانیہ میں نیشنل ہیلتھ سروس کا کہنا ہے کہ 19 سے 64 سال کے آدمی کے لیے ایک دن میں 40 ملی گرام وٹامن سی کافی ہے جبکہ امریکہ کے ڈائٹری الاؤنس میں 60 ملی گرام وٹامن سی تجویز کی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ بھی صحت کے لیے یہ کئی اعتبار سے مفید ہے۔

آم میں 20 سے زیادہ وٹامنز اور معدنیات پائے جاتے ہیں۔ اس میں وٹامن اے، پوٹاشیم، فولیٹ (وٹامن بی کی ایک قسم) بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں ریشہ بھی پایا جاتا ہے۔

مجموعی طور پر بغیر کسی افسوس کے اس کی دعوت کی جا سکتی ہے۔

13. سب سے وزنی آم کا انعام ...

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آم کے مداحوں کے لیے انتباہ! یہ اصلی آم نہیں ہے۔

گنیز ورلڈ ریکارڈ کے مطابق سب سے وزنی آم تقریبا ساڑھے تین کلو ( 3.435) کا ہوا ہے جو لمبائی میں 30.48 سینٹی میٹر تھا اور اس کا گھیر یا دائرہ 49.53 سینٹی میٹر اور عرض 17.78 تھا۔

یہ پھل سرجیو اور ماریا سوکورو بوڈیونگان کے گھر کے سامنے والے باغ میں سنہ 2009 میں پیدا ہوا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں