’رواں سال ایک اور ال نینو کا سامنا ہو سکتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ NOAA/SCIENCE PHOTO LIBRARY

عالمی موسمیاتی ادارے ڈبلیو ایم او کے مطابق رواں سال کے اختتام سے قبل موسمی مظہر ال نینو کے اثرات دوبارہ مرتب ہونے کے 70 فیصد امکانات ہیں۔

اس سے قبل گذشتہ ال نینو جو 2015-16 میں ہوا تھا کے دنیا بھر کے موسمی پیٹرن پر شدید اثر انداز ہوا تھا۔

تاہم محقیقن کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں یہ نیا ال نینو گذشتہ کے مقابل میں کم شدت والا ہوگا۔

ڈبیلو ایم او کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی ایسے موسمی مظہر کی روایتی شدت پر اثرانداز ہو رہی ہے۔

'ماحولیاتی تپش کے باعث شدید موسم کا خطرہ دگنا'

ایک 'حقیقی' ال نینو کا خطرہ ہے

سنہ 2015-16 کا ال نینو سب سے شدید موسمی مظہر ریکارڈ کیا گیا تھا اور اس کا دنیا بھر کے درجہ حرارت پر اثر پڑا، جس کے وجہ سے 2016 تاریخ کا سب سے گرم سال ریکارڈ کیا گیا۔

ال نینو اور لا نینا پیچیدہ موسمی پیٹرن ہیں جو استوائی بحرالکاہل میں درجۂ حرارت کے فرق کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، اور ان کے اثرات دنیا بھر پر مرتب ہوتے ہیں۔

'ال نینو' کو بعض اوقات اس قدرتی مظہر کا گرم مرحلہ جبکہ 'لا نینا' کو سرد مرحلہ کہا جاتا ہے۔

اب ’لا نینا‘ ختم ہو چکا ہے اور ڈبلیو ایم او کے مطابق رواں سال کے اختتام سے قبل ایک اور ال نینو کے 70 فیصد امکانات ہیں۔

تاہم 2015-16 کے مقابلے میں اس کی شدت کم ہونے کا امکان ہے۔

ڈبلیو ایم او کے سیکریٹری جنرل پیٹری ٹیلاس کا کہنا ہے کہ ’ڈبلیو ایم او کے خیال میں یہ نیا ال نینو گذشتہ کے مقابلے میں کم شدت والا ہوگا لیکن پھر اس کے قابل غور اثرات ہو سکتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’وقت سے قبل اس کے بارے میں جاننے سے کئی جانی اور مالی نقصان کو بچایا جا سکتا ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں