کیا فٹ رہنے کے لیے آپ پسینہ بہاتے ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش چاہے جو بھی ہو صحت کے لیے اچھی ہوتی ہے تصویر کے کاپی رائٹ Zoran Milich
Image caption ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش چاہے جو بھی ہو صحت کے لیے اچھی ہوتی ہے

ہم صحت مند رہنے کے لیے مختلف اقسام کی ورزش کرتے ہیں۔ لیکن ہم میں سے بہت سے لوگ پسینہ بہانے کے لیے کوشش نہیں کرتے یا کیا ہم ایسا کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔

تو کیا ایسا کوئی طریقہ ہے جس میں آپ کا سانس بھی نہ پھولے اور صحت کو بھی فائدہ پہنچے۔

شاید قدیم چینی طریقۂ ورزش 'ٹائی چی' اس سلسلے میں کوئی مدد کر سکے۔

مزید پڑھیے

ورزش نہ کرنے سے بڑھاپا جلدی آ سکتا ہے

’ورزش نہ کرنے کی وجہ سے ہر چوتھے شخص کو خطرہ ہے‘

کتنی ورزش سے دل کی شریانیں صحتمند رہتی ہیں؟

لیکن یہاں یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آہستہ آہستہ انداز میں کی جانے والی کوئی ورزش تیز اور پاور کے ساتھ کی جانے والی کوشش کا متبادل ہو سکتی ہے؟

پہلے پہل یہ صرف جسمانی دفاع کے لیے بنا تھا لیکن پھر سینکڑوں برس گزرنے کے بعد اس نے سلسلہ وار دھیمے انداز کی حرکات و سکنات کا روپ دھار لیا جو ہمارے جسم اور دماغ دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔

ٹائی چی بمقابلہ زُمبا

Image caption ٹرسٹ می آئی ایم اے ڈاکٹر کی ٹیم

برمنگھم یونیورسٹی کے ماہرین نے ٹرسٹ می آئی ایم ڈاکٹرز کی ٹیم کے ساتھ کام کیا۔

اس میں رضاکارانہ طور پر حصہ لینے والے ایک چھوٹے سے گروپ کے ارکان کی عمریں 65 سے 75 کے درمیان تھی۔ ان میں سے کوئی ایک بھی باقاعدگی سے ورزش نہیں کرتا تھا۔

انھیں زمبا گولڈ کی جانب سے کہا گیا کہ وہ 12 ہفتے تک باقاعدگی سے ورزش کریں۔ یہ وہ ورزش تھی جو ادھیڑ عمر کے افراد کے لیے تھی۔ دیگر افراد کو ٹائی چی کرنے کو کہا گیا۔

ان 12 ہفتوں کی ابتدا، درمیان اور اختتام پر اس گروپ میں شامل لوگوں کا بلڈ پریشر چیک کیا گیا۔ اس سلسلے میں ان کی خون کی شریانوں کو بھی ماپا گیا۔

جتنی لچک خون کی شریانوں میں نظر آتی ہے اتنا ہی انسانی جسم صحت مند ہوتا ہے۔

سائنس دانوں نے اس تحقیق میں حصہ لینے والے رضاکاروں کے جسم میں دباؤ اور کسی بھی قسم کی وزش کے نتیجے میں ہونے والی خون کی کیمائی تبدیلی، عمل تکسید کے درجے کی پیمائش بھی کی۔

جیسی کہ توقع کی گئی تھی، اس کے مطابق ہی زمبا گروپ میں شامل تمام افراد 12 ہفتے بعد فٹ تھے۔ ان کی خون کی رگیں پہلے کی نسبت زیادہ لچکدار تھیں ان کا بلڈ پریشر کم ہو چکا تھا اور ان کے بلڈ پریشر میں بہتری ریکارڈ کی گئی تھی۔

حیران کن طور پر ٹائی چی گروپ میں شامل افراد کی صحت کے نتائج بھی بہت اچھے تھے یعنی ان کا بلڈ پریشر بھی کم ہوا اور رگیں لچکدار ہو گئیں۔

'ہر ورزش اچھی ہے'

تصویر کے کاپی رائٹ VCG/Getty Images

لیکن پھر اتنی آہستہ حرکات والی ٹائی چی نے یہ کیسے کیا؟

اس کا جواب یہی ہو سکتا ہے کہ ٹائی چی لگتی تو آہستہ ہے لیکن حقیقت میں اثر پزیری کے حوالے سے یہ اتنی دھیمی نہیں۔

ڈاکٹر جیت ویلدوے جزن جو کہ بائیولوجیکل سائیکولوجی کی لیکچرر ہیں وہ بھی اس تحقیق کا حصہ تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ہم نے تحقیق میں دیکھا ہے کہ ٹائی چی سے بھی ویسے ہی دل کی رفتار بڑھتی ہے جیسے کسی اور تیز رفتار ورزش سے بڑھتی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ بہت اہم ہے کہ کسی بھی مقدار میں ہر طرح کی ورزش آپ کی صحت کے لیے اچھی ہوتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں