جنگلی حیات کی فوٹوگرافی: ’فلسفی‘ بندر، نڈھال تیندوا اور ہر پائپ میں الّو

Qinling golden snub-nosed monkeys تصویر کے کاپی رائٹ Marsel van Oosten / WPY

چٹان پر بیٹھے دو چپٹی ناک والے بندر دور دیکھتے ہوئے کچھ سوچ رہے ہیں۔

لیکن اس معاملے پر زیادہ سوچ بچار کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ دونوں دراصل بندروں کے درمیان ہونے والی لڑائی کا نظارہ کر رہے ہیں۔

اس تصویر نے لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم کے 2018 کے جنگلی حیات کے سال کے بہترین فوٹوگرافر کے مقابلے میں پہلا انعام حاصل کیا ہے۔

یہ تصویر مارسل فان اوسٹن نے چین کے کوہِ چنگ لنگ میں کھینچی۔ نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والے فوٹوگرافر نے بندروں کے اس گروہ کا کئی دنوں تک پیچھا کیا تاکہ وہ ان کے رویے سے اچھی طرح سے واقف ہو سکیں۔

ججوں کی چیئرپرسن روز کڈمین نے کہا کہ جنگلی حیات کی تصاویر عام طور پر ڈرامائی ہوتی ہیں لیکن اس میں کوئی ایسی خاص چیز ہے کہ ہم بار بار اس کی طرف آتے رہے جس کی وجہ اس کے رنگ اور کمپوزیشن ہے۔

نڈھال تیندوا (سکائی میکر)

زمرہ: نوجوان فوٹوگرافر

Leopard in Botswana’s Mashatu Game Reserve تصویر کے کاپی رائٹ Skye Meaker / WPY

اس زمرے کے فاتح جنوبی افریقہ کے 16 سالہ سکائی میکر ٹھہرے جنھوں نے بوٹسوانا میں اس خواب آلودہ تیندوے کی تصویر لی۔

یہ تیندوا ایک ٹانگ سے لنگڑا ہے۔ مقامی لوگ اسے اچھی طرح سے جانتے ہیں اور اسے ماتھوجا کہتے ہیں۔ اپنی معذوری کی وجہ سے اسے خوراک حاصل کرنے کے لیے دوسرے درندوں کے مقابلے پر زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔

میکر کہتے ہیں کہ ’ہم نے یہ تصویر لینے کے لیے کئی گھنٹے انتظار کیا۔ میں چاہتا تھا کہ ماتھوجا کی آنکھیں کھلی ہوں۔ ایک لمحے کے لیے اس نے سیدھا ہماری طرف دیکھا۔‘

ہر پائپ میں الو (ارشدیپ سنگھ)

زمرہ: دس سال سے کم عمر فوٹوگرافر

Owls in a pipe تصویر کے کاپی رائٹ Arshdeep Singh / WPY

یہ تصویر دس سالہ ارشدیپ سنگھ نے انڈین پنجاب کے شہر کپورتھلہ میں لی۔ وہ کہتے ہیں: ’میں نے پائپ کے اندر الو اڑتے دیکھے اور اپنے والد کو بتایا۔

وہ کہنے لگے یہ ممکن نہیں ہے۔ لیکن انھوں نے گاڑی روک دی۔ ہم نے 20 سے 30 منٹ انتظار کیا اور جونھی الو دوبارہ نظر آئے، میں نے تصویر لے لی۔‘

سیل کا جمگھٹا (کرسٹو بال سیرانو)

زمرہ: جانور اپنے ماحول میں

WPY تصویر کے کاپی رائٹ Cristobal Serrano / WPY

سپین سے تعلق رکھنے والے کرسٹوبال سیرانو نے یہ تصویر اینٹارکٹیکا میں اس وقت کھینچی جب سیل برف کے ایک تختے پر آرام کر رہی تھیں۔

وہ برف پر الجی اور چھوٹے کرسٹاشین کی تلاش میں آتی ہیں۔

کیچڑ کی گیند اور بھڑیں (جورجینا سٹیٹلر)

زمرہ: غیر فقاریہ جانور

Mud-dauber wasps at Walyormouring Nature Reserve, Western Australia تصویر کے کاپی رائٹ Georgina Steytler / WPY

جورجینا نے یہ تصویر آسٹریلیا میں اس حالت میں کھینچی کہ انھیں خود بھی کیچڑ میں اترنا پڑا۔

’میں نے لمبے لینز سے کئی تصویریں لیں۔ میں چاہتی تھی کہ ایک بھڑ کی اس وقت تصویر لوں جب وہ کیچڑ کی گیند اٹھا رہی ہو، لیکن مجھے ایک کی بجائے دو بھڑیں مل گئیں۔‘

بھڑیں کیچڑ کی مدد سے اپنے گھونسلے تعمیر کرتی ہیں۔

رنگین پرواز (پیٹرک اونیل)

زمرہ: زیرِ آب

Flying fish off Florida’s Palm Beach تصویر کے کاپی رائٹ Michael Patrick O'Neill / WPY

اڑتی ہوئی مچھلی کی یہ تصویر امریکی فوٹوگرافر پیٹرک اونیل نے فلوریڈا کی پام بیچ پر لی۔ یہ مچھلیاں دن کو چھپی رہتی ہیں لیکن رات کو کھل کھیلتی ہیں۔

اداس مسخرہ (جواین دے لا میلا)

زمرہ: صحافیانہ فوٹوگرافر

Macaque dressed as a clown تصویر کے کاپی رائٹ Joan de la Malla / WPY

یہ تصویر انڈونیشیا کے جزیرے جاوا میں لی گئی۔ یہ مکاک بندر ہے جسے مسخروں کے روپ میں بازاروں میں نچوایا جاتا ہے۔

جواین نے کہا: ’یہ بہت دردناک ہے کہ بندر اسے اتارنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

ممتا (ہاویر اسنار گونسالس)

زمرہ: پورٹ فولیو فوٹوگرافر

Alchisme treehopper and her nymphs تصویر کے کاپی رائٹ Javier Aznar González de Rueda / WPY

سپین کے ہاویر نے اس جھینگر کی تصویر ایکواڈور میں لی، جس میں ایک ماں اپنے بچوں کو بچاتی ہوئی نظر آتی ہے۔

گتھم گتھا (ڈیوڈ ہیراسمٹسچک)

زمرہ: جل تھلیے اور رینگنے والے جانور

A Hellbender salamander wrestles with a northern water snake تصویر کے کاپی رائٹ David Herasimtschuk / WPY

امریکی ریاست ٹینیسی فوٹوگرافر ٹیلیکو ریور نے یہ تصویر اس وقت کھینچی جب ایک ہیل بینڈر چھپکلی نے سانپ کو اپنے جبڑوں میں جکڑ رکھا تھا۔

تاہم ڈیوڈ کہتے ہیں کہ سانپ بالآخر چھپکلی کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

ہوا کے دوش پر (اورلینڈو فرنانڈیس میرانڈا)

زمرہ: زمین کا ماحول

Sand dunes on Namibia's desert coastline تصویر کے کاپی رائٹ Orlando Fernandez Miranda / WPY

نمیبیا کے ساحل پر واقع اس صحرا کو ہوائیں ہر پل مختلف روپ دیتی رہتی ہیں۔ سمندر سے آنے والی دھند اپنے ساتھ نمی لے کر آتی ہے جو صحرائی جانداروں کے لیے نعمت سے کم نہیں۔

اس مقابلے کا آغاز 1964 میں ہوا تھا اور یہ اپنی نوعیت کا سب سے پروقار انعام ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں