انسانوں اور کتوں کی دوستی کتنی پرانی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کتے انسانی تاریخ کا اہم حصہ رہے ہیں اس وقت سے جب ہمارے ابا و اجداد کھیتی باڑی شروع کرنے کی کوشش کرنے لگے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ابتدائی کسان جب مشرق وسطیٰ سے باہر نکلے تو بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کے علاوہ ان کے پاس پالتو کتے بھی تھے۔

بھیڑیوں کے کتے بننے کی کہانی کے بارے میں جو کچھ ہم جانتے ہیں اس کے درمیان خلا کو ڈی این اے شواہد کچھ کم کر دیا ہے۔

شیر، ٹائیگر اور کتے کی دوستی کے چرچے

جب پالتو کتے قاتل بن جاتے ہیں!

’فلسفی‘ بندر، نڈھال تیندوا اور ہر پائپ میں الّو

کھیتی باڑی جہاں شروع ہوئی اسے مشرق وسطیٰ کا ہلال زرخیز کہا جاتا ہے۔

ان علاقوں میں آج کے عراق، شام، لبنان، اردن اسرائیل اور مصر شامل ہیں۔

شکار کرنے والے انسانوں نے یہ کام چھوڑ کر گندم، جو، مٹر اور مسور جیسی فصلیں کاشت کرنا شروع کر دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

صرف یہی نہیں انھوں نے جنگلی بھیڑوں، گائے اور سوروں کو ساد کر پالتوں بنا دیا۔ تقریباً نو ہزار سال قبل یہ انسان کھیتی باڑی کی سمجھ بوجھ اور جانوروں کو لے کر یورپ اور ایشیا میں داخل ہوئے۔

نئی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے کتے بھی ان کے ساتھ ہی تھے۔

یہ شواہد یورپ اور ایشیا کے مختلف قدیم مقامات سے ملنے والی کتوں کی باقیات کے ڈی این اے سے حاصل کیے گئے ہیں۔

فرانس میں یونیورسٹی آف رینیس کے ڈاکٹر مورگن اولیور کہتے ہیں کہ ’ہماری تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ کتے اور انسانوں کی کہانی ساتھ ساتھ چل رہی ہے۔ یورپ کی جانب نقل مکانی کے دوران کتے بھی انسانوں کے ساتھ ساتھ رہے۔‘

’ہم اس تحقیق میں یہ بتا رہے ہیں کہ انسان اور کتے پہلے ہی سے جڑے ہوئے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بھیڑیوں سے کتوں تک کا سفر

بھیڑیوں کے کتے بننے کی کہانی تھوڑی پیچیدہ ہے۔

  • 20 ہزار سے 40 ہزار سال قبل بھیڑیے کتوں میں تبدیل ہوئے، جب انسان شکاریوں نے انھیں سدھایا۔
  • ہو سکتا ہے کہ انھیں ہزاروں میل دور رہنے والی بھیڑیوں کی دو مختلف نسلوں سے سدھایا گیا ہو۔
  • انھیں پالتو بنانے کے طویل عمل نے بھیڑیوں کی جینز اور ان کے رویوں کو تبدیل کر دیا اور آخرکار وہ ان کتوں میں تبدیل ہو گئے جنھیں ہم آج جانتے ہیں۔

جب کتے یورپ آئے تو وہ ان کتوں کے ساتھ گھل مل گئے جو پہلے ہی سے وہاں موجود تھے اور اس طرح جینز تبدیل ہوئی۔

کتوں کی صدیوں پرانی افزائش نسل نے کتوں کی جینز کو مزید آپس میں مکس کر دیا۔ تمام شکل و صورت اور سائز کے جدید کتے ان سے بہت مختلف ہیں جو اپنے مالکوں کے ساتھ ابتدائی کھیتی باڑی کے دور میں موجود تھے۔

یہ تحقیق سائنسی جریدے بائیالوجی لیٹرز میں شائع ہوئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں