کہاں کے لوگ بہت موٹے، کہاں بہت دبلے؟

موٹاپا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

موٹاپے کو عام طور پر مغربی ملکوں کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے جب کہ غریب ملکوں کے باسی اکثر اوقات خوراک کی کمی کا شکار رہتے ہیں۔

لیکن زمینی حقیقت اتنی سادہ نہیں ہے۔

ماہرین کے مطابق دنیا اس وقت 'دہرا بوجھ' کہلائی جانے والی وبا کی زد میں ہے اور اس کا شکار دس میں سے نو ملک ایسے ہیں جہاں موٹے اور دبلے لوگ ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ یہ دہرا بوجھ ایک ملک کے مختلف علاقوں میں پایا جاتا ہو۔

یہی نہیں، ایسا ایک ہی شخص کے اندر بھی ہو سکتا ہے۔ وہ اس طرح کہ کوئی شخص موٹا تو ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ضروری غذائی اجزا کی قلت کا بھی شکار ہے۔

دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جو بظاہر تو نارمل نظر آتے ہیں، لیکن ان کے جسم کے اندر غیرصحت مند چربی کی مقدار معمول سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

موٹے بچے

اس وقت دنیا کا ہر ملک کسی نہ کسی انداز میں غذائیت کے مسئلے سے دوچار ہے۔ 2016 میں دنیا بھر میں خوراک کی مستقل کمی کا شکار لوگوں کی تعداد گذشتہ دو سال کے مقابلے پر پانچ فیصد بڑھ کر 81.5 کروڑ ہو گئی۔ ان میں سے زیادہ لوگوں کا تعلق افریقہ سے تھا جہاں 20 فیصد لوگ خوراک کی قلت کا شکار ہیں۔

اسی دوران گذشتہ 40 برسوں میں دنیا میں موٹاپے کی شرح میں تین فیصد اضافہ ہوا ہے، اور دنیا بھر میں فربہ افراد کی تعداد 60 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے، جب کہ ایک ارب 90 کروڑ کا وزن اس حد سے زیادہ ہے جتنا ہونا چاہیے۔

ترقی پذیر ملکوں میں موٹاپے کی شرح بڑھ کر ترقی یافتہ ملکوں کے برابر پہنچ رہی ہے۔

بچوں میں سب سے زیادہ موٹاپا مائیکرنیشیا، مشرقِ وسطیٰ اور کیربیئن کے علاقوں میں دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سنہ 2000 کے بعد سے افریقہ میں فربہ بچوں کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے۔

بہت سے ملکوں میں بچوں کی خوراک غذائی ضروریات پوری نہیں کرتی۔ جنوبی افریقہ میں ایک تہائی لڑکے موٹے یا صحت مند حد سے زیادہ وزنی ہیں، جب کہ دوسرے ایک تہائی کا وزن صحت مند حد سے کم ہے۔

برازیل میں 36 فیصد لڑکیاں وزنی یا موٹی ہیں، جب کہ 16 فیصد کم وزنی کا شکار ہیں۔

آمدن میں اضافہ، موٹاپے میں اضافہ

موٹاپے اور غیر صحت بخش غذا کے دہرے بوجھ کا ذمہ دار بڑی حد تک طرزِ زندگی میں تبدیلی کو قرار دیا جا رہا ہے۔

برازیل اور انڈیا کی طرح کے بہت سے درمیانی آمدنی والے ملکوں میں ایسا متوسط طبقہ وجود میں آ گیا ہے جس کے پاس فالتو دولت ہے۔

عام طور پر یہ طبقہ روایتی کھانے چھوڑ کر مغربی خوراک اختیار کر لیتا ہے جس میں چینی، چربی اور گوشت کی کثرت اور روایتی صحت بخش کھانوں کی غذائیت کا فقدان ہوتا ہے۔

بعض ملکوں میں یہ بھی ہوتا ہے کہ جب لوگ دیہی علاقے چھوڑ کر شہروں کا رخ کرتے ہیں تو ساتھ ہی غیر صحت بخش مغربی خوراک بھی اپنا لیتے ہیں۔ اس سے موٹاپے کی شرح بڑھ جاتی ہے۔

مثال کے طور پر چین کے دیہی علاقوں میں موٹاپے کی شرح دس فیصد ہے، جب کہ ناقص غذائیت کی شرح 21 فیصد ہے۔ اس کے مقابلے پر شہروں میں 17 فیصد بچے موٹے ہیں اور 14 فیصد ناقص غذا کا شکار ہیں۔

ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ہو سکتا ہے غذا میں کیلوریز تو زیادہ ہوں، لیکن وٹامن، معدنیات اور دوسرے غذائی اجزا کی قلت ہو۔

انڈیا کے شہر پونے میں ذیابیطس کے ماہر پروفیسر رنجن یاجنک کہتے ہیں کہ 'ذیابیطس کے بارے میں تصور تھا کہ یہ بوڑھوں اور موٹوں کی بیماری ہے۔ لیکن انڈیا میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ نوجوان اور کم بی ایم آئی والے بھی اس میں مبتلا ہو رہے ہیں۔'

وہ کہتے ہیں کہ بھارتی غیر صحت مند اور کیلوریز سے بھرے کھانے کھا رہے ہیں، جس کی وجہ سے 'دبلے لوگوں میں بھی پوشیدہ چربی کی مقدار بڑھ رہی ہے۔'

یہ پوشیدہ چربی جگر اور دوسرے اندرونی اعضا کے گرد جمع ہوتی رہتی ہے۔ اس سے ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، چاہے ظاہری طور پر کوئی شخص موٹا نہ بھی ہو۔

بھوک کا مقابلہ

بچے خاص طور غیر صحت بخش غذا کا شکار ہوتے ہیں کیوں کہ انھیں عمر کے اس حصے میں اپنی نشو و نما کے لیے وٹامنز اور معدنیات کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق جو بچے بچپن میں غیر صحت بخش خوراک کھاتے ہیں وہ بڑے ہو کر زیادہ آسانی سے موٹاپے کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا میٹابولزم سست ہو جاتا ہے اور جسم چربی پر زیادہ انحصار کرنے لگتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو ملک بچوں میں بھوک مٹانے کے لیے پروگرام شروع کر رہے ہیں، انھیں چاہیے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ صرف پیٹ بھرنا کافی نہیں بلکہ خوراک متوازن اور صحت بحش ہونی چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چین میں بچوں کا موٹاپا بڑھ رہا ہے

چلی میں ایسا ہی ایک پروگرام شروع کیا گیا تھا جس میں حاملہ خواتین اور چھ سال سے کم عمر کے بچوں کو حکومت کی طرف سے راشن فراہم کیا جاتا تھا۔

چلی میں بھوک کا مسئلہ تو حل ہو گیا لیکن ماہرین کے مطابق اس کی وجہ سے بچوں میں موٹاپے کی وبا شروع ہو گئی۔

مغربی دنیا کے مسائل

دہرا بوجھ صرف غریب ملکوں کا مسئلہ نہیں بلکہ مغربی ملک بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔

مثال کے طور پر برطانیہ کی ایک چوتھائی بالغ آبادی موٹی ہے، جس کا قومی خزانے پر سالانہ 5.1 ارب پاؤنڈ کا بوجھ پڑتا ہے۔

دوسری طرف برطانیہ ہی میں 37 لاکھ بچے ایسے گھرانوں میں رہتے ہیں جو انھیں صحت بخش غذا فراہم نہیں کر سکتے۔

یورپی یونین میں 15 سے 19 سال کے 14 فیصد بچوں کا وزن نارمل سے کم ہے، جب کہ اتنی ہی تعداد میں بچے موٹے ہیں۔ تاہم بالغ آبادی کا نصف موٹا ہے جب کہ صرف دو فیصد لوگوں کا وزن کم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ترجیحات کا تعین

دہرے بوجھ کی وجوہات پیچیدہ ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری خوراک کی ترجیحات پیچیدہ ہیں، اور ان میں سے بہت سوں کو خود بھی اس کا ادراک نہیں ہے۔

خوراک کی ترجیحات میں ثقافت کے علاوہ خوراک کی دستیابی، قیمت، وقت، آگہی اور آس پاس کے لوگوں کی خوراک شامل ہیں۔

ہر شخص کی غذائی ضروریات مختلف ہیں۔ اس کا انحصار ان کے میٹابولزم اور صحت پر ہے۔

لیکن ان ترجیحات کی وجہ سے جو موٹاپا سامنے آ رہا ہے، وہ معاشرے پر بوجھ بن رہا ہے۔

جو بچے غیر متوازن یا کم خوراک کھاتے ہیں ان کی کارکردگی سکول میں اچھی نہیں ہوتی اور وہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ بڑے ہو کر انھیں ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور کینسر کے زیادہ خطرے کا سامنا رہتا ہے۔

ترقی کا سفر

ترقی پذیر ملکوں میں ذیابیطس اور دل کی بیماریاں موٹاپے کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔

کم آمدنی والے ملکوں کی صحت کا زیادہ تر بجٹ ملیریا اور دوسرے متعدی امراض سے بچاؤ پر صرف ہو جاتا ہے اور وہ صحت بخش غذا پر زیادہ توجہ نہیں دے پاتے۔

اس سلسلے میں کیا کیا جائے؟

اس سوال کا جواب جنوبی امریکہ سے فراہم ہو رہا ہے۔

برازیل وہ پہلا ملک ہے جس نے اقوامِ متحدہ کے 'غذائیت پر عمل کا عشرہ' نامی پروگرام پر دستخط کیے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت برازیل نے کئی اقدامات کیے ہیں جن میں موٹاپے پر قابو پانا، میٹھے مشروبات میں 30 فیصد کمی لانا اور پھلوں اور سبزیوں کی خوراک میں 18 فیصد اضافہ کرنا شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس نے اس مقصد کے لیے کسانوں کو چھوٹے قرضے دینا شروع کر دیا ہے، اور تازہ پھلوں پر ٹیکس کم کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ سکولوں میں غذائی صحت کی تعلیم شروع کر دی ہے۔

میکسیکو وہ پہلا ملک ہے جس نے 'شوگر ٹیکس' نافذ کیا ہے، جس کے تحت 2014 کے بعد سے ہر میٹھے مشروبات پر دس فیصد ڈیوٹی وصول کی جاتی ہے۔

توقع ہے کہ اس ٹیکس سے 12 برسوں میں موٹاپے کی شرح میں 12.5 فیصد کمی واقع ہو گی۔ برطانیہ اور کئی دوسرے ملک بھی اسی قسم کے اقدامات کر رہے ہیں۔

تاہم غذائیت کے عالمی چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں