’جب انسٹاگرام نے مجھے سہارا دیا‘

ایشلے پونڈر اور کے سکا تصویر کے کاپی رائٹ Ashleigh Ponder/Kay Ska
Image caption ایشلے اور کے کا کہنا ہے کہ انسٹاگرام چمیونیٹی نے ان کی زندگی کے بے حد مشکل دور میں مدد کی ہے۔

پانچ برس قبل ایشلے انسٹاگرام پر اپنی سیلفی شیئر کرنے کے بارے میں تصور بھی نہیں کر سکتی تھیں۔ چودہ برس کی عمر میں انہیں پتہ چلا کہ انہیں اینوریکزیا (بھوک کم لگنے کی بیماری) ہے۔ ان میں خود اعتمادی کی کمی تھی۔

اسی دوران انہیں ایک ایسی انسٹاگرام کمیونٹی کے بارے میں پتہ چلا جہاں ان کی طرح کھانے پینے کی عادات سے متاثر افراد اپنی مشکلات کے بارے میں پوسٹ شیئر کررہے تھے۔

ایشلے نے بھی اپنا ایسا ہی ایک اکاؤںٹ بنانے کا فیصلہ کیا جہاں پوسٹ کی جانے والی تصاویر سے انھیں ہر دن کھانے پینے کی مقدار کا اندازہ ہو سکے۔

انھوں نے بتایا کہ ‘میری انسٹاگرام فیڈ مجھے اس بات کی یاد دلاتی تھی کہ میں نے دن بھر میں کتنا کھایا اور مجھے احساس ہونے لگا کہ اتنا کھانا واقعی کافی نہیں ہے۔ مجھے لگنے لگا کہ اس بارے میں کچھ کرنا پڑے گا۔‘

ہیش ٹیگز کے استعمال سے انھوں نے اپنے فالوورز کا گروپ بنا لیا جو ان کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے تھے۔ ان تبصروں میں وہ ان کی ہمت بندھاتے اور اس طرح مشکل وقت سے نمٹنے میں مدد کرتے۔

گذشتہ برس ہونے والے ایک سروے میں انسٹاگرام کو نوجوانوں کی ذہنی صحت کے لیے بدترین سوشل میڈیا پلیٹ فارم قرار دیا گیا تھا۔

اس سروے میں اس بات کا جائزہ لیا گیا تھا کہ تصاویر شیئر کرنے پر مبنی یہ ایپ نوجوانوں میں مختلف اقسام کی محرومی کے احساس اور بے چینی میں اضافہ کر رہی ہے۔

لیکن ایشلے کے معاملے میں اس ایپ نے ان کی صحتیابی میں مدد کی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اس ایپ نے مجھے احساس دلایا کہ میں اکیلی نہیں ہوں، کیوں کہ اور لوگ بھی میری ہی جیسی پریشانی سے گزر رہے تھے۔‘

کے سکا کا خیال ہے کہ انسٹاگرام کی مدد سے ذہنی صحت کے بارے میں منفی خیالات کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

تئیس سالہ کے سکا نے عمر کا ایک بڑا حصہ بے چینی اور ڈیپریشن میں گزارا، لیکن وہ اپنی تکلیف کے بارے میں اپنے رشتہ داروں یا دوستوں سے بات نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ انھوں نے اپنا تجربہ انسٹاگرام پر شیئر کرنا شروع کر دیا۔

انھوں نے بتایا کہ ’ابتدائی دنوں میں انسٹاگرام میرے لیے صرف اپنے جذبات کا اظہار کرنے کی جگہ تھا۔ پھر لوگوں نے میری پوسٹ پر تبصرہ کرنا شروع کر دیا۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ بہت سے لوگ میرے احساسات کو سمجھ پا رہے تھے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’میرا کوئی دوست مجھے اتنا سہارا نہیں دے سکتا تھا جتنا مجھے یہاں ملا، میرے لیے یہ سب عجیب تھا کہ لوگ واقعی آپ کے ساتھ ہیں۔‘

کچھ اسی طرح ایما فورستھ نے محسوس کیا جب وہ تمام کوششوں کے بعد بھی حاملہ نہیں ہو پا رہی تھیں۔

وہ دو برس سے حاملہ ہونے کے لیے آئی وی ایف کے طریقہ کار سے کوشش کر رہی ہیں۔ وہ بانجھ پن کے بارے میں جاری پوڈکاسٹ ’بگ فیٹ نیگیٹیو‘ کی شریک میزبان بھی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’اس سے زیادہ اکیلا پن آپ کو کبھی اور محسوس نہیں ہو سکتا، اور اس احساس کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اس سے خود متاثر ہوں۔ آپ کے والدین، آپ کے دوست اور بیشتر معاملوں میں تو آپ کا شوہر بھی یہ سمجھ نہیں پاتا۔‘

لیکن دو ماہ قبل انھوں نے خود اپنا انسٹاگرام اکاؤنٹ انفرٹیلیٹی اونلی کے نام سے بنایا۔ اور جلد ہی بے شمار ہمت بندھانے والے پیغامات حاصل کیے۔

آن لائن ملنے والی متعدد خواتین سے ان کی دوستی ہو گئی اور اب وہ ان کی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔

ان تینوں ہی خواتین کا خیال ہے کہ انسٹاگرام کے چند عیب بھی ہیں۔ کھانے پینے کی عادات سے متاثر افراد کے لیے انسٹاگرام پر موجود تصاویر میں جسم کی خوبصورتی پر مرکزی توجہ تکلیف کا باعث ہو سکتا ہیں۔

ایشلے کا خیال ہے کہ کسی کی خوبصورت تصویر دیکھ کر آپ بھی محسوس کر سکتے ہیں کہ میں بھی اس کی طرح دکھنا چاہتی ہوں۔

کے سکا کہتی ہیں کہ اس بات پر غور کرنا بھی ضروری ہے کہ ہم انسٹاگرام پر کسے فالو کر رہے ہیں اور وہ ہمیں کس طرح متاثر کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Kay Ska
Image caption کے ذہنی صحت کے بارے میں بلاگنگ کرتی ہیں

تاہم ایما کا کہنا ہے کہ انسٹاگرام نے ان کی زندگی کی اس خلا کو پر کیا ہے جسے ڈاکٹر بھی نہیں پر کر پا رہے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ’بانجھ پن کا علاج کرنے والے کلینک آپ کا اس طرح علاج کرتے ہیں جیسے آپ کوئی مشین ہوں جس کی مرمت کی جانی ہے۔ لیکن آپ کے ذہن میں جو کچھ چل رہا ہوتا ہے وہ اس بارے میں غور نہیں کرتے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ انسٹاگرام پر ملنے والے لوگوں نے انہیں ذہنی تکلیف سے لڑنے میں مدد کی ہے۔

اسی بارے میں