بچوں کو کیسا لگتا ہے جب ان کے ماں باپ کسی اور کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو جاتے ہیں؟

علامتی تصویر

کیا اپنے ماں باپ کو کسی اور کے ساتھ بانٹنا آسان کام ہے؟

بیڈروم وہ کمرا ہے جس کے بارے میں بچپن سے بتایا جاتا ہے کہ وہ ممی پاپا کا کمرا ہے، اس میں جانے والا شخص اگر تبدیل ہو جائے تو برا لگتا ہے لیکن آہستہ آہستہ اسے دیکھنے کی عادت ہو جاتی ہے ۔۔۔ پھر کچھ عجیب نہیں لگتا۔

آکانشا نے اب دوسری عورت کو اپنی ماں مان لیا ہے اور وہ خوش ہیں لیکن ان کے لیے اس نئے رشتے کو قبول کرنا بہت مشکل تھا۔

بہر حال ہر کوئی ایک جیسی آزمائش سے نہیں گزرتا۔ 'کافی وِد کرن' نامی ٹی وی شو پر آنے والی اداکار سیف علی خان اور امریتا سنگھ کی بیٹی سارہ علی خان کی یادیں اور کہانیاں اکانشا سے ذرا مختلف ہیں۔

سارہ سیف کو 'ابا' کہہ کر پکارتی ہیں لیکن کرینہ کپور کو 'چھوٹی ماں' نہیں کہتیں۔ ان کا خیال ہے کہ جس دن وہ کرینہ کو ماں کہہ دیں گی ان کا اعصاب شکست کھا جائے گا۔

وہ کرینہ کے ساتھ شاپنگ پہ جانے کی خواہاں ہیں مگر کیا 'سوتیلا' رشتہ اتنا دوستانہ ہو سکتا ہے؟ اس بارے میں سارہ کا کہنا ہے کہ 'ابا اور کرینہ کی شادی ہو گئی تھی۔ ماں نے مجھے خود اپنے ہاتھوں سے تیار کیا اور میں ابا کی شادی میں شامل ہوئی۔'

سارہ کا کہنا ہے کہ جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے۔ چاہے ان کے ماں باپ الگ رہیں یا ان کے والد کرینہ کے ساتھ رہیں۔ 'آج کم از کم ہم سب خوش ہیں۔۔۔سب اپنی اپنی جگہ۔'

مزید پڑھیے

’مجھے میرے باپ کا نام نہیں چاہیے‘

’جب میں نے اپنی بیٹی کا باپ کرائے پر لیا‘

’میں اپنے ماں باپ سے ملنا نہیں چاہتی‘

زویا، فرحان اور شبانہ اعظمی کا رشتہ بھی اسی نوعیت کا ہے۔ شبانہ جاوید اختر کی دوسری بیوی ہیں اور فرحان اور زویا ان کی پہلی بیوی 'ہنی ایرانی' کے بچے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Instagram/saraalikhan95
Image caption کافی ود کرن میں سیف علی خان اپنی بیٹی سارہ علی خان کے ساتھ نظر آ رہے ہیں

ایک ٹی وی شو میں فرحان نے بتایا کہ شروعات میں انھیں اپنے والد سے شکایات تھیں۔ لیکن بعد میں شبانہ کے ساتھ ان کے تعلقات بہتر ہو گئے۔ البتہ وہ اس بات کا کریڈٹ شبانہ کو دیتے ہیں کیونکہ ان کو شبانہ کی موجودگی میں کبھی بے چینی نہیں ہوئی۔

مگر کیا ایسے رشتے کو قبول کرنا آسان ہے؟

ماہرِ تعلقات یا ریلیشنشپ ایکسپرٹ نیشا کھنہ کہتی ہیں کہ ایسے رشتوں کو قبول کرنا آسان نہیں ہے کیونکہ یہ نئے رشتے کسی پرانے رشتے کی جگہ لے لیتے ہیں اور نئے رشتوں میں پرانی یادیں اور جذبات کو بھلانا کسی بھی بچے کے لیے کافی مشکل ہے۔

انوراگ نے دہلی سے تعلیم حاصل کی ہے اور وہ ایسی ہی آزمائش سے دوچار ہوئے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کسی نئے رشتے کو قبول کرنا آسان نہیں ہے کیونکہ ایسے رشتے پرانے رشتوں کی جگہ لے لیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Instagram
Image caption اداکار فرحان اختر جاوید اختر کے بیٹے ہیں اور ان کی والدہ ہنی ایرانی ہیں

انوراگ ساتویں جماعت میں تھے جب ان کی ماں کا انتقال ہوا۔ تین بہن بھائیوں میں سب سے بڑے انوراگ کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے ان کی ماں کے گزرنے کے دو ماہ بعد ہی شادی کر لی۔

پہلی بار نئی ماں کے گھر آنے والے لمحے کو یاد کرتے ہوئے انوراگ نے کہا 'پاپا جب ان کے ساتھ گھر آئے تو میں بہن بھائیوں کے ساتھ ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ انھوں نے کہا کہ یہ تمہاری ماں ہیں۔ لیکن میں نے یہ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پتہ نہیں کیوں مجھے لگا کہ اگر میری ماں زندہ ہوتیں تو یہ دیکھ کر مر جاتیں۔'

اگرچہ ان لوگوں کا آپس میں رشتہ کسی بھی خاندان جیسا ہے مگر انوراگ نے کئی سال غصہ، تکلیف اور نفرت کرنے میں گزار دیے۔

دہلی میں رہنے والی آکانشا کے والدین نے باہمی رضامندی سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کا کہنا ہے کہ 'مجھے بتایا گیا کہ ہمارے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہے لیکن ہم ساتھ نہیں رہ سکتے۔ میں پاپا کے ساتھ رہی لیکن سات ماہ بعد پاپا نے مجھے ایک عورت سے ملوایا۔ پھر پاپا نے ان سے شادی کر لی۔ وہ اچھی تھیں مگر مجھے لگتا تھا کہ وہ پاپا کو مجھ سے الگ کر رہی ہیں۔ اگر وہ دونوں بات کر رہے ہوتے تھے تو مجھے برا لگتا تھا، ایسا لگتا تھا جیسے وہ پاپا کو مجھ سے چھین رہی ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آکانشا کہتی ہیں کہ انھوں نے اس معاملے پر اپنی ماں سے بات کی تو ان کی ماں نے انھیں سمجھایا۔ لیکن اس سب کی وجہ سے انھوں نے کافی عرصہ تنہائی میں گزارا۔

'ہمارے معاشرے میں مخصوص چیزوں کے لیے ایک پیٹرن بن گیا ہے کہ اگر کوئی سوتیلا ماں باپ ہے تووہ برا ہی ہو گا یا کچھ برا ہی کرے گا۔'

انھوں نے مزید بتایا کہ ان کے والد کی شادی کے بعد ان کے دوستوں کے خاندان والے اکثر ان سے پوچھتے تھے کہ ان کی نئی ماں کیسی ہیں۔

آکانشا کا کہنا ہے کہ 'میں جو بھی جواب دیتی، مجھ سے کہا جاتا کہ مجھے سوتیلی ماں سے دور رہنے کے لیے اپنی اصل ماں کے پاس چلے جانا چاہیے۔'

لیکن یہ سوتیلے رشتے نبھانا اتنا مشکل کیوں ہے؟

زندگی سے جڑے ان رشتوں میں اتنی کڑواہٹ کیوں ہے؟ یہ سوال ہر اس انسان کے ذہن میں آتا ہے جو ایسے رشتوں کی آزمائشوں کو جھیلتا ہے۔

ماہرِ نفسیات پراوین ترپاٹھی کا ماننا ہے کہ ایسے رشتے پیچیدہ ہوتے ہیں مگر بات چیت کر کے حل کیے جا سکتے ہیں۔

اگر پراوین ترپاٹھی کا یہ ماننا ہے کہ عموماً یہ مسئلہ اس لیے بھی پیش آتا ہے کہ بچوں کو نئے رشتے کے بارے میں واضع طور پر نہیں بتایا جاتا۔

ان کا کہنا ہے کہ 'بعض اوقات لوگ بچوں کو بات کو گھما پھرا کر بتاتے ہیں یا پوری حقیقت سے آگاہ نہیں کرتے۔ یہ سب سے بڑا خطرہ ہے۔ کسی چیز کے ہونے کا امکان جتنا کم نظر آئے گا مسئلہ اتنا گمبھیر ہو جائے گا۔ اگر بچے کو اس بات کا علم ہو گا کہ کیا ہونے والا ہے تو وہ اپنے آپ کو ممکنہ تبدیلی کے لیے تیار کر پائے گا۔

انڈیا میں گود لینے کے لیے یہ لازمی شرط ہے۔

پراوین کہتے ہیں کہ بچے کو اپنا کردار اور ذمہ داری پتہ ہو گی تو ایسے رشتے کو بہتر ہونے میں بلکل وقت نہیں لگے گا۔

اگرچہ وہ یہ بات بلکل نہیں جھٹلاتے کہ عموماً بچوں میں ایسے رشتوں کو لے کر بہت غصہ پایا جاتا ہے۔ بچوں کو لگتا ہے کہ ان کے ماں باپ کے ساتھ دھوکہ ہو رہا ہے اور کوئی اور ان کی جگہ لینے کی کوشش کر رہا ہے، یہ قبول کرنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔

ایک ڈاکٹر ہونے کی حیثیت سے پراوین کہتے ہیں کہ 'بچے کو پہلے سے یہ سمجھانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی کسی کی جگہ نہیں لے رہا بلکہ خاندان میں ایک نیا فرد آ رہا ہے۔ اگر بچے کو یہ الجھن ہو گی تو والدین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔'

ڈاکٹر ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ اگر بچے رشتوں کو لے کر ایسے مسائل سے گزر رہے ہوں تو وہ غصیلے اور چڑچڑے ہو جاتے ہیں۔ اکثراوقات بچے ڈیپریشن کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔

صرف بچوں کو ہی مشکلات پیش نہیں آتیں، بڑے بھی ایسے ہی مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔

نئے ماحول میں ڈھالنے کے لیے انھیں نئے کام دیں اور ان کی ترجیحیات کو بدلیں۔

اگرچہ ایسے مسائل نئی بہو کو بھی پیش آتے ہیں مگررشتوں کے سامنے جب لفظ 'سوتیلا' لگتا ہے تو مشکلات کے پہاڑ کھڑے ہو جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ڈاکٹر پراوین کے بقول سوتیلی ماں بننا سوتیلا باپ بننے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ مرد قدرتی طور پر گھر کے سربراہ کا کردارنبھانا چاہتے ہیں۔ ان کے لیے دوسروں کا نقطۂ نظر سمجھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ وہ بہت جلد نئے خاندان اور گردوپیش میں ڈھلنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

ماہرِ تعلقات نیشا کھنہ کہتی ہیں کہ 'سوتیلا رشتہ ہمارے معاشرے میں پہلے رشتے کے ختم ہونے پر شروع ہوتا ہے اور پہلے رشتے کو بہترین سمجھا جاتا ہے۔'

وہ کہتی ہیں کہ 'ہمارے یہاں شادی کو سب سے زیادہ مقدس اورعمر بھر چلنے والا رشتہ سمجھا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں دوسری شادی کی گنجائش نہیں رہتی اور معاشرہ کھلے عام دوسری شادی کو قبول نہیں کرتا۔'

نیشا کا ماننا ہے کہ کر اگر نئے رشتے بچوں کو اعتماد میں لے کر شروع کیے جائیں اور ہر چھوٹے بڑے فیصلے میں انھیں شامل کیا جائے تو ایسے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں